اقوام متحدہ: روس کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ، پاکستان نے حصہ نہیں لیا

143 ممالک نے اس قرارداد کی حمایت میں جبکہ پانچ نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ 35 ممالک نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں روس، انڈیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان شامل ہیں۔

نیو یارک، ستمبر 2022: اقوام متحدہ کے زیر سایہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے اجلاس میں پاکستان کے اقوام متحدہ کے لیے مستقل مندوب منیر اکرم خطاب کر رہے ہیں (فائل: پاکستان مشن نیویارک)

بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں روس کی جانب سے یوکرینی علاقوں کے انضمام کے خلاف پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان نے ووٹنگ کرنے سے اجتناب کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین کے علاقے روس میں ضم کرنے کے عمل کی مذمت میں رائے شماری کی تھی۔

رائے شماری میں 143 ممالک نے اس قرارداد کی حمایت میں جبکہ پانچ نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ 35 ممالک نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں روس، انڈیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ چار علاقے روس اور جزیرہ نما کرائمیا کے درمیان ایک اہم زمینی راہداری بناتے ہیں، جسے ماسکو نے 2014 میں ضم کیا تھا۔ مجموعی طور پر، یہ پانچوں علاقے یوکرین کا تقریباً 20 فیصد حصہ بنتے ہیں۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قراردار میں کہا گیا کہ یہ قرارداد روسی فیڈریشن کے اس نام نہاد ریفرینڈرم کی مذمت کرتی ہے جو عالمی طور پر تسلیم شدہ یوکرین سرحد کے اندر کیا گیا اور روسی صدر ولادی میر پوتن کی یوکرینی علاقوں کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کی ایک کوشش تھی۔

قرارداد میں اقوام متحدہ اور بین الااقوامی اداروں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ روس کی جانب سے کی جانے والی اس تبدیلی کو تسلیم نہ کریں اور ماسکو ان اقدامات کو فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لے۔

روس کے لیے واضح پیغام: امریکہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری روس کے لیے ’واضح پیغام ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ماسکو کو یوکرین کے علاقوں کو روس میں ضم کرنے کی مذمت کر کے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اس تنازعے کی قیمت تمام فریقین کے لیے بہت صاف ہے اور دنیا نے اس کے ردعمل میں ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ روس کسی خود مختار ملک کو دنیا کے نقشے سے نہیں مٹا سکتا۔‘

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ایئر ڈیفنس نظام فراہم کرے گا جس کا مقصد روس کے خلاف یوکرین علاقوں کا دفاع کرنا ہو گا۔

یہ دفاعی نظام روسی کروز میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی مغربی ممالک نے روس کے فضائی حملوں کے بعد یوکرین کو دفاعی نظام فراہم کرنے کے بیانات جاری کیے ہیں۔

گذشتہ ہفتے روس کو کرائمیا سے جوڑنے والے پل پر دھماکے کے بعد روس نے یوکرین علاقوں پر شدید حملے کیے ہیں۔

ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے کہا ہے کہ روسی صدر پوتن کو ’مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہو گا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یوکرین کو کسی موقعے پر ان سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو ولادی میر پوتن کو یہ جنگ روکنی ہو گی۔ انہیں یوکرین کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرنا ہو گا اور مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہو گا۔‘

فرانسیسی نشریاتی ادارے فرانس ٹو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد عالمی جنگ کو روکنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا