کوئٹہ کا ’گوبر ہوٹل‘ جس کی چائے پینے ڈاکٹر بھی آتے ہیں

ہوٹل کے آس پاس گوبر کے ڈھیر پڑے ہونے کی وجہ سے چائے کے شوقین افراد اور مقامی لوگوں نے اس ہوٹل کو گوبر ہوٹل کا نام دے دیا جو آج بھی مشہور ہے۔

کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل میں واقع قدیم گوبر ہوٹل اپنی معیاری اور ذائقے دار چائے کی وجہ سے آج بھی کافی مشہور ہے۔

 قمبرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد نے 35 سال پہلے اس ہوٹل کا آغاز کیا تھا۔ کئی سال تک بشیر احمد اس ہوٹل کو چلاتے رہے اور پھر ان کی وفات کے بعد ہوٹل کو ان کے دوسرے بھائی فقیرمحمد اور ماما اشرف سنبھالتے رہے۔

آج کل ان کے بیٹے اور پورا خاندان اسی ہوٹل سے منسلک ہیں۔

ہوٹل کے آس پاس گوبر کے ڈھیر پڑے ہوتے ہیں اسی وجہ سے چائے کے شوقین افراد اور مقامی لوگوں نے اس ہوٹل کو گوبر ہوٹل کا نام دیا، جو آج بھی مشہور ہے۔

گوبر ہوٹل معیاری چائے کی وجہ سے اتنا مشہور ہوا کہ شہر کے دور دراز علاقوں سے صرف عام لوگوں کا چائے پینے کے لیے یہاں تانتا بندھا نہیں رہتا بلکہ بیوروکریٹس، ڈاکٹر حضرات، پولیس اور دیگر شعبوں تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہاں آتے ہیں۔

گوبر ہوٹل ایک کمرے پر محیط ہے جہاں زیادہ رش کی وجہ سے لوگ ہوٹل کے سامنے سیمنٹ کے بلاکس سے بنائے گئے فرش پر بیٹھ کر پورا دن چائے کی چسکیاں لیتے ہیں۔

یہ خاندان ہوٹل کو اس وقت سے چلا رہا ہے جب فی کپ چائے پانچ روپے کا ہوتا تھا اوراب فی کپ چائے کی قیمت ساٹھ روپے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

30 برس سے قائم اس ہوٹل میں دس ویٹرز کام کرتے ہیں اس کے علاوہ لوگ چائے لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دن میں چار سے پانچ من دودھ کی چائے یہاں فروخت ہوتی ہے یعنی یہاں اندازاً بارہ سو سے سولہ سو تک چائے کے کپ یہاں روزانہ پیے جاتے ہیں۔

ہوٹل کے ایک گاہک کے مطابق ’شہر میں صاف یا بغیر ملاوٹ کے دودھ ملنا مشکل ہے، تاہم گوبر ہوٹل کی خاصیت یہ ہے کہ اس کا دودھ ملاوٹ سے پاک اور تازہ ہوتا ہے۔ ہوٹل کے مالک نے ہوٹل کے لیے اپنی بھینس اور گائے رکھیں ہیں۔ اس ہوٹل کے آس پاس کھلا میدان ہے اور بالکل گاؤں جیسا ماحول ہوتا ہے۔ لوگ گھنٹوں گھنٹوں ہوٹل کے سامنے بیٹھ کر چائے کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔‘

’چائے کے علاوہ اس ہوٹل میں کلاسیکی موسیقی بھی لگی رہتی جو یہاں چائے کا ماحول اور بھی پر تکلف بنا دیتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا