جنوبی کوریا: بھگدڑ میں ہلاکتوں کی تعداد 153 ہو گئی، 133 زخمی

سیئول میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہالووین کا تہوار منا رہے تھے جب وہ تنگ گلیوں میں پھنس گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ہالووین کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 153 ہو گئی جب کہ ملک کی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک اس حادثے میں 133 افراد زخمی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے اتوار کو قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس واقعے میں زخمیوں کی طبی دیکھ بھال اور مرنے والوں کی آخری رسومات کے اخراجات برداشت کرے گی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سیئول کے یونگسان فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ چوئی سیونگ بیوم نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہفتے کی رات ہونے والی بھگدڑ کے بعد ہنگامی کارکن زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہجوم میں اضافہ اور کچلنے کا واقعہ دارالحکومت کے مرکزی علاقے ایٹاون میں پیش آیا جہاں مقامی رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر نوعمر اور 20 سال کی عمر کے نوجوان شامل تھے، ہالووین کا تہوار منا رہے تھے۔

یہ ہزاروں افراد اس علاقے کی تنگ گلیوں میں پھنس گئے تھے۔

جنوبی کوریا کے فائر ڈپارٹمنٹ نے اتوار کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہالووین کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والوں میں 19 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

صدر یون نے اتوار کی صبح ایک قومی خطاب میں کہا: ’سیئول کے مرکز میں ایک سانحہ اور آفت پیش آئی اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

’حکومت اس واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل چھان بین کرے گی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسا حادثہ رونما نہ ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا دل اس واقعے پر دکھی ہے اور اپنے غم پر قابو پانا مشکل ہے۔‘

مقامی ٹی وی پر فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایمرجنسی سروس کی سبز جیکٹس پہنے ہوئے صدر یون اور دیگر اعلیٰ حکام نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ہنگامی سروس کے کارکنوں سے بات کی۔

اس سے قبل عینی شاہدین نے کہا کہ افراتفری کے مقام کے بالکل قریب زخمی افراد راہ گیروں سے طبی امداد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے۔

30 سالہ جیون گائول نے اے ایف پی کو بتایا: ’بہت سے لوگ وہاں پھنسے ہوئے تھے اور میں بھی بھیڑ میں پھنس گیا جہاں سے میں باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فائر سروس کے عہدے دار چوئی سیونگ بیوم نے جائے وقوعہ پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کی زیادہ تعداد ہالووین تقریب کے دوران بہت سے لوگوں کے پاؤں تلے روندنے جانے کا نتیجہ تھی۔‘

سیئول کے حکام نے کہا کہ انہیں اتوار کی صبح تک لاپتہ افراد کی 355 رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں گلیوں میں بکھری ہوئی لاشوں کو دکھایا گیا ہے جو چادروں سے ڈھکی ہوئی ہیں اور نارنجی رنگ کی جیکٹس میں ملبوس ہنگامی سروس کے کارکن ایمبولینسوں میں مزید لاشیں لے جا رہے ہیں۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ ’لوگ ایک مقبرے کی طرح دوسروں کے اوپر پڑے تھے۔ کچھ آہستہ آہستہ اپنے ہوش و حواس کھو رہے تھے جب کہ کچھ اس وقت تک مردہ دکھائی دے رہے تھے۔‘

مقامی نشریاتی ادارے وائے ٹی این کے ساتھ ایک انٹرویو میں متاثرین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹر لی بیوم سک نے سانحے اور افراتفری کے مناظر کو بیان کیا۔

ان کے بقول: ’بہت سے متاثرین کے چہرے پیلے پڑ گئے تھے۔ میں ان کی نبض یا سانس نہیں سن پا رہا تھا اور ان میں سے کئی کی ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا