مخیر حضرات ملازم بچوں کے لیے کیا کریں؟

ہم ملازم بچے کو ریستوراں تو لے جائیں گے لیکن کھانا نہیں کھلائیں گے کیونکہ انہیں کھانا کھلانے سے ہم غریب ہو جاتے ہیں۔

ہم ملازم بچوں سے وہ کام کرواتے ہیں جو اپنے بچوں کے لیے مشکل سمجھتے ہیں (پکسا بے)

ہم ملازم بچے کو ریستوراں تو لے جائیں گے لیکن کھانا نہیں کھلائیں گے کیونکہ ہم خود تو کھانا کھا سکتے ہیں لیکن انہیں کھانا کھلانے سے ہم غریب ہو جاتے ہیں۔

برصغیر پاک وہند میں غلامی کا رواج تقریبا ختم ہو رہا ہے۔ تقریبا کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ بدقسمتی سے یہ رواج کسی نہ کسی صورت ابھی باقی ہے۔

دونوں ممالک میں آج بھی گھروں میں ملازمین رکھنے کا رواج ہے اور ہم اپنے چھوٹے بچے اور گھر کا پورا نسق و انتظام ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اب چاہے صفائی ستھرائی ہو، برتن یا کپڑے دھونے، استری یا پھر کھانا پکانے کا انتظام سب کچھ انہی ملازمین کے سپرد ہوتا ہے۔

ان ملازمین کو لیبر قوانین کے دائرے میں لانے اور ایک مزدور کے برابر حقوق دینے کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بل لایا جا چکا ہے، امید ہے جلد ہی اس پر پیش رفت ہوگی۔

گھروں پر ملازم بچوں کی عمریں عموما اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی اس گھر میں رہنے والے بچوں کی، لیکن ہم ان سے وہ کام کرواتے ہیں جو اپنے بچوں کے لیے مشکل سمجھتے ہیں۔

یہ ملازم بچے جو پاکستان کے چائلڈ لیبر قانون کے مطابق چودہ سال سے پہلے کہیں بھی مزدوری نہیں کرسکتے لیکن ان کے حقوق کا استحصال نہ صرف گھروں میں بلکہ فیکٹریوں میں بھی ہو رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے بات کرتے ہیں گھریلو ملازمین بچوں کی، کیونکہ جن گھروں میں یہ بچے کام کرتے ہیں وہاں ان پر ہونے والے مظالم ذرا کم ہی نظر آتے ہیں۔

ایسے بچے جب ان فیملیز کے ساتھ ریستوراں وغیرہ آتے ہیں تو وہاں یہ فیملیز خود تو من پسند مینیو منگواتی ہیں لیکن اپنے ساتھ آئے ملازم بچے کو کھانا کھلاتے ہوئے مکمل غریب ہو جاتے ہیں۔ انہیں ساتھ ایک خالی ٹیبل پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یقین کریں اسلام آباد کے کئی شاپنگ مالز میں میں نے خود ملازم بچوں کو بھاری سامان اٹھائے پھرتے دیکھا ہے۔

ایک دو بار میں نے کوشش کی کہ اگر یہ فیملیز اجازت دیں اور برا نہ منائیں تو ان کے کھانے کے پیسے میں ادا کر دوں۔ اس پر انہوں نے بہت برا منایا اور الٹا مجھے بھی سنایا کہ آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔

میری اپیل ہے جب مخیر حضرات ریستوراں جائیں تو ایک اضافی کھانے کے پیسے بھی ادا کردیں تاکہ ایسے غریب ملازمین بھوکے پیاسے واپس نہ جائیں۔ ریستوراں والوں کو بھی چاہیے کہ وہ پوری دیانت داری سے ان بچوں کو کھانا کھلائیں۔

ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرے کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اردگرد حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو روکیں۔ اگر کسی جگہ پر حق تلفی ہو رہی ہے اور آپ اسے روک نہیں سکتے تو کم از کم آواز ضرور بلند کریں۔

قانون چاہے جتنا بھی سخت ہو لیکن اس پر عمل اتنا ہی ندارد ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں اس پر بہت بار آواز بلند کرچکی ہیں۔ ایسے کئی مزدور بچوں (اقبال مسیح)  کو ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو کہ ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں لوگوں کے گندے کپڑے اور بچے نہیں بلکہ قلم اور کتابیں ہی اچھے لگتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ