آرمی چیف کی تقرری کی سمری کے لیے وزیراعظم کا وزارت دفاع کو خط

اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل آج سے شروع ہو چکا ہے اور آئندہ ایک دو روز میں فائنلائز ہوجائے گا۔‘

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج بروز پیر وزارت دفاع کو وزیراعظم کا خط موصول ہوا ہے جس میں سمری بھجوانے کا کہا گیا ہے۔ اس خط کے بارے میں جی ایچ کیو کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ آئندہ ایک دو دن میں اس حوالے سے فیصلہ بھی متوقع ہے۔‘

اس سے قبل وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق آئندہ ایک، دو روز میں فیصلہ سامنے آجائے گا۔

اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل آج (پیر) سے شروع ہو چکا ہے اور آئندہ ایک دو روز میں فائنلائز ہوجائے گا۔

انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے، خیر خیرت سے ہو جائے گا سب کچھ۔‘

خواجہ آصف سے جب پوچھا گیا کہ کیا تعیناتی کا فیصلہ سینیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا تو انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے اور انہوں نے مجھے ابھی تک نہیں بتایا ہے۔‘

پاکستان کے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر دفاع نے جمعے کو نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل پیر سے شروع ہو جائے گا اور اگلے ہی ہفتے نئے آرمی چیف کا نام سامنے آجائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 29 نومبر کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق تقریب بھی ہو جائے گی۔

خواجہ آصف سے پیر کو جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نام پر ڈیڈ لاک ہے تو انہوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

اس حوالے سے جمعے کو بھی خواجہ آصف نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نیے آرمی چیف کے نام پر فوج اور وزیراعظم میں مکمل اتفاق ہو گا۔ آئینی طور پر صوابدید وزیراعظم کی ہے لیکن پھر بھی ایک ادارے کا معاملہ ہے اور یہ ادارہ ہمارے دفاع کی سب سے بڑی دیوار ہے، لہذا یہ سب اتفاق رائے سے ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست