ٹرمپ کے ثالثی کے بیان پر مودی خاموش کیوں؟

کشمیر میں پریس پر شدید پابندیاں عائد ہیں۔ بھارت مخالف مواد چھاپنے پر ان کا قافیہ تنگ کیا گیا ہے لہذا بڑی مشکل سے چند اخباروں نے بچ بچا کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اداریے لکھے۔

بھارتی حکومت کے کئی وزرا نے پارلیمان میں اپوزیشن کے شور شرابے کے ردعمل میں مودی کی ٹرمپ سے ثالثی کرنے کی بات کو سرے سے رد کیا ہے مگر وہ مودی کو اس پر بیان دینے پر زور دے رہے ہیں (اے ایف پی)

’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اندرونی ملک تارکین وطن کی سخت گیر پالیسیوں پر ہم جتنے بھی برہم ہوئے ہیں اتنے ہی ہم ٹرمپ کے کشمیر پر حالیہ انکشاف سے ان کے شیدائی بن گئے ہیں۔‘ یہ الفاظ ہیں بزرگ کشمیری پروفیسر محمد عارف کے جنہوں نے اپنی 60 سالہ زندگی میں تحریک کشمیر میں خاندان کے چار افراد گنوا دیے ہیں اور خود بھی کئی بار پابند سلاسل ہو چکے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے واشنگٹن میں حالیہ ملاقات کے دوران جب ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر معاملے میں ثالثی کی پیشکش کا انکشاف کیا تو اس سے اگرچہ بھارت کی ایک ارب سے زائد آبادی پر سکتہ طاری ہوگیا وہیں تقریباً 70 لاکھ کشمیری اپنے کانوں پر یقین نہیں کر پائے اور دیوانوں کی طرح امریکی اور سوشل میڈیا کے ہزاروں چینلز میں اس خبر کی صداقت کو تلاش کرنے لگے۔

ٹرمپ کی بات پر اگرچہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا مگر جب ایک ملک کے سربراہ کے ساتھ ثالثی کے انکشاف کو بار بار عالمی میڈیا پر دہرایا گیا تو اس بات کو نہ تو مذاق سمجھنا مناسب تھا اور نہ یہ کہنا زیب دیتا کہ ٹرمپ شاید بے ہوشی کی حالت میں بڑ بڑا رہے تھے۔ بھارتی میڈیا نے انہیں ایسا ہی کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔

کشمیر کے عوام نے اس اعلان کا دل کھول کر خیرمقدم کیا اور جو کل تک ٹرمپ کو مودی کے دوست سمجھتے تھے وہ اس حقیقت سے آشکارہ ہوگئے کہ اندر سے بھارت اور امریکہ کے بیچ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا اشارہ پہلے اس وقت مل چکا تھا جب بعض خبروں کے مطابق ٹرمپ نے گذشتہ برس 26 جنوری کو مہمان خصوصی بننے اور بھارت آنے سے معذرت ظاہر کی یا بھارتی برآمدات پر مزید ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ کشمیر میں پریس پر شدید پابندیاں عائد ہیں اور اخباروں کے کئی مالکان کا بیرونی ملک پیسے کی لین دین کے الزامات اور بھارت مخالف مواد چھاپنے پر ان کا قافیہ تنگ کیا گیا ہے لہذا بڑی مشکل سے چند اخباروں نے بچ بچا کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اس پر اداریے لکھے اور کشمیر مسئلے کو عالمی منظر نامے پر لانے کے لیے عمران خان اور نریندر مودی کی تعریف کی۔ مقبول ترین اخبار ’گریٹر کشمیر‘ نے خبر رساں اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے خبر تک ہی پر اکتفا کیا جو سب کے لیے حیرانی کا باعث بنا جبکہ ’کشمیر اوبزرور‘ نے اپنے ایڈیٹوریل میں اس بات کی جانب توجہ مبذول کی کہ ٹرمپ نے کشمیر کا ذکر کر کے اسے پھر عالمی مسئلہ بنا دیا۔ اخبار نے لکھا: ’کافی عرصے کے بعد کشمیر امریکہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا محور بنا ہے۔ امریکی صدر نے پاکستانی موقف اختیار کیا اور مسئلہ کشمیر کو بین لاقوامی پوزیشن حاصل ہوئی جو بھارت کبھی نہیں چاہتا ہے۔‘

کشمیر میں دو درجن سے زائد شائع ہونے والے اردو اخبارات نے بھی ٹرمپ کے کشمیر ثالثی کے ذکر کو خبر تک ہی محدود رکھا جبکہ جموں کے انگریزی اخبار ’کشمیر ٹائمز‘ نے 25 جولائی کے شمارے کے اداریے میں لکھا: ’جموں و کشمیر کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کو حل کرنے میں امریکی مفادات سے زیادہ کشمیری عوام کے مفادات کا خیال رکھنا ہوگا۔ تمام پارٹیوں کو شامل کر کے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ برصغیر کے دونوں طرف اعتماد کا سخت فقدان ہے اور یہ احساس گہرا ہے کہ دونوں ممالک کشمیری عوام کے تئیں مخلص نہیں ہیں جو ان کو انتہائی اقدام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ دونوں ملکوں کے لے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کو بیٹھ کر اس مسئلے کا باہمی حل تلاش کرنا ہوگا۔‘

گوکہ سخت دباؤ کے موجب وادی کے بیشتر اخباروں نے ٹرمپ کے کشمیر ذکر پر کچھ لکھنے سے اجتناب کیا مگر سوشل میڈیا کے ہزاروں صفحات اس خبر سے بھرے پڑے تھے۔ عمران خان اور ٹرمپ کے علاوہ مودی کی بھی تعریف کی جا رہی تھی کہ انہوں نے بھی اس مسئلے کی حساسسیت کو مان لیا ہے جس کے پیش نظر انہوں نے امریکی مدد کے لیے ٹرمپ سے ثالثی کی درخواست کی ہے۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مودی کی بات کو وقت سے پہلے ہی طشت از بام کیا اور کشمیر کو طالبان کے کابل حکومت میں شامل ہونے کی ڈیل سے جوڑ دیا گیا ہے۔ 


بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران نے طالبان کی مینسٹریم میں آنے کی خبر جب ٹرمپ کو سنا دی تو انہوں نے جذبات میں بہہ کر کشمیر کو حل کرنے کی اندرونی کوششوں پر سے پردہ اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بھارت کے بعض چینلوں کے لیے ہضم کرنا مشکل تھی جو ملک کی خارجہ پالیسی کا خاکہ اپنے مباحثوں میں ہر روز ترتیب دیتے ہیں لہذا کچھ روز سے بیشتر چینلز کشمیر مسئلے کو بھارت پاکستان کے بیچ باہمی مسئلہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ چند روز پہلے تک وہ کشمیر کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے اور حکومت کو کشمیریوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

بقول ایک حریت رہنما: ’بھلا ہو صدر ٹرمپ کا کہ جس نے کشمیر کو عمران خان کے ساتھ اٹھا کر پھر کشمیریوں کو امید دلائی جو سات دہائیوں سے اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے بین الاقوامی برادری سے اپیلیں کرتے آ رہے ہیں۔‘

پھر بعض لوگوں کا مسکرا کر یہ بھی کہنا تھا: ’عمران خان آج بھی چھکہ مارنے میں ماہر ہیں اور جو آج صحیح نشانے پر لگا ہے۔‘

بھارتی حکومت کے کئی وزرا نے پارلیمان میں اپوزیشن کے شور شرابے کے ردعمل میں مودی کی ٹرمپ سے ثالثی کرنے کی بات کو سرے سے رد کیا ہے مگر وہ مودی کو اس پر بیان دینے پر زور دے رہے ہیں۔ مودی نے بالکل خاموشی اختیار کرلی ہے اور ان کی یہ خاموشی نہ صرف اپوزیشن کو چھبنے لگی ہے بلکہ ہندوستانی عوام بھی اب وزیراعظم کی خاموشی پر تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔ تاہم کشمیر میں اس خاموشی کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ