بہانہ بند ہونا چاہیے کہ یوکرین- روس جنگ میں امریکہ پراکسی نہیں

اگر کوئی شک تھا کہ اس وقت یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کی پراکسی جنگ ہے تو یہ شک اس ہفتے زیلنسکی کے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے بعد ختم ہو گیا۔ روسی حملے کے بعد زیلنسکی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے 21 دسمبر 2022 کو وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کا خیرمقدم کیا (اے ایف پی)

کیا آپ کو یاد کہ اس تمام معاملے کو کس قدر جلد انجام کو پہنچنا تھا اور یوکرین کے حق میں یہ انجام کسی اچھے انداز میں نہیں ہونا تھا؟

فروری میں جب روسی فوج سرحد پر جمع ہوئی تو یہ توقع تھی کہ اگر حملہ کیا گیا تو وہ چند ہی دنوں میں کیئف پہنچ سکتی ہے۔

یہ اندازہ جزوی طور پر روس کے اپنے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔ روس کا ماننا تھا کہ وہ تیزی سے یوکرینی دارالحکومت پر قبضے سمیت حکومت گرا کر اپنی حکومت قائم کر سکتا ہے۔ روس کی فوج کو بڑا اور طاقتور مانا جاتا تھا۔ یوکرین مزاحمت کی امید کیسے کر سکتا تھا؟

24  فروری کے ’خصوصی آپریشن - جو نام روسی صدر ولادی میر پوتن نے اپنے غیر قانونی حملے کو دیا‘ کے بعد معاملہ فوری طور پر فوجی سازوسامان فراہم کر کے یوکرین اور اس کے رہنما کو بچائے رکھنے کی کوشش سمیت لاکھوں افراد کو فرار ہونے میں مدد دینے کا تھا۔

حملوں کے وقت کا ٹائم ٹیبل بہترین ہفتوں اور دنوں کے حساب سے بنایا گیا۔ سب نے فرض کر لیا کہ یہ ضرور ہو گا۔ ایک موقعے پر یورپی یونین کے رہنماؤں کو خوف ہوا کہ آیا وہ اپنے یوکرینی ہم منصب کو دوبارہ کبھی دیکھ بھی پائیں گے؟

دس ماہ بعد اب ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ مغرب روسی مسلح افواج کی صلاحیتوں کا کچھ زیادہ ہی معترف رہا۔ انہوں نے غلط اندازہ لگایا کہ شاید پوتن کے پاس کوئی قابل عمل منصوبہ ہے، اور یوکرینی فوج کی صلاحیت اور عزم کو کم سمجھا۔

مغرب یہ سمجھنے میں بھی ناکام رہا کہ سابق مزاحیہ اداکار ولودی میر زیلنسکی کو واشنگٹن ڈی سی میں کس طرح جانا جاتا ہے۔ اگر انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے مواخذے میں مخصوص کردار کے حوالے سے جانا جاتا تو انہوں نے وقت سے فائدہ اٹھانا اور اپنی متحد قوم کا دلیرانہ چہرہ بن کر ابھرنا تھا۔

تب سے اب تک بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ان حالات میں کہ جب روسی افواج اب بھی یوکرین کے کچھ حصوں پر قابض ہیں، کیئف پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ مغرب یوکرینی عوام کی پشت پناہی کے لیے اکٹھا ہو رہا ہے۔

جو بائیڈن اور امریکی کانگریس نے کیئف کی فوجی امداد پر سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی جو ہتھیار بنانے والی ان امریکی کمپنیوں  کے لیے بڑی نعمت ہے جنہیں زیلنسکی کے ذخیرے کے لیے ہتھیار تیار رکھنے کا کہا گیا، جو شاید ان کی بقا کے لیے ضروری تھا۔ جس طرح وقت گزر رہا ہے اس طرح جنگ میں امریکی کردار بھی جاری و ساری ہے۔

ابتدا میں امریکہ اس بات پر تیار تھا کہ  پوتن پر فوج واپس بلانے کے لیے زور دیا جائے۔ جلد ہی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن روس کے حوالے سے باتیں کرنے لگے کہ وہ بحثیت قوم ’کمزور‘ ہو چکا ہے اور دوبارہ ایسا آپریشن شروع کرنے نہیں کر سکتا۔

قبل ازیں رواں ماہ امریکہ نے کیئف کے مطالبات تسلیم کر لیے اور اپنا سب سے زیادہ صلاحیت والا دفاعی پیٹریاٹ میزائل نظام یوکرین کے حوالے کر دیا۔

اگر کوئی شک تھا کہ اس وقت یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کی پراکسی جنگ ہے تو یہ شک اس ہفتے زیلنسکی کے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے بعد ختم ہو گیا۔ روسی حملے کے بعد زیلنسکی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔

اپنی آمد کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ ’میں امریکی عوام، صدر اور کانگریس کا اس امداد پر شکریہ ادا کرنے کے لیے آج واشنگٹن میں ہوں جس کی بہت ضرورت تھی۔‘

’اور ہماری فتح کو قریب تر لانے کے لیے تعاون جاری رہنے کے لیے بھی۔ میں یوکرینی مزاحمت اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات کے ادوار میں شریک رہوں گا۔‘

بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس جانے کے بعد بائیڈن اور زیلنسکی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ بعد میں انہیں کانگریس سے خطاب کرنے کا موقع دیا جانا تھا۔ یہ ایک منفرد اعزاز ہے جو اس سے قبل  جنگ کے وقت کے برطانوی رہنما ونسٹن چرچل کی طرح کے رہنماؤں کو دیا گیا۔

چرچل جنہوں نے دسمبر 1941 میں فرینکلن ڈی روزویلٹ سے ملنے اور پرل ہاربر پر حملے کے بعد نازی جرمنی اور جاپان کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے واشنگٹن ڈی سی کا مشہور دورہ کیا، شاید آج بہت سے لوگوں کو یاد آئیں۔

لیکن یہ مثال بھی شاید ٹھیک نہ ہو کیوں کہ ایک امریکی اتحادی ملک کے رہنما جنگ کے دوران واشنگٹن ڈی سی پہنچے، مزید مدد کی درخواست کی اور صرف اتنا ہوا کہ انہیں مدد کی ضمانت ملی۔

یونیورسٹی آف نیو ہیون میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر میتھیو شمٹ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین میں جاری لڑائی کلاسیکی معنوں میں ایک پراکسی جنگ ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ جوں جوں جنگ آگے بڑھ رہی ہے ’امریکہ نے خود کو اس جنگ کے نتیجے سے شروع کی نسبت مزید وابستہ کر لیا ہے۔‘

اس طرح امریکہ نے یوکرین کی فوج کو اسلحہ فراہم کرنے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں اس کی مدد کا عزم کر لیا ہے۔

شمٹ کا کہنا ہے کہ ’اور یہ ضروری ہے کہ مغرب ایسا کرے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ اتحادی اس میں کمی نہ کریں کیوں کہ اس سے لازمی طور پر ہم امن کھو دیں گے اور جنگ جیت جائیں گے۔‘

واشنگٹن میں زیلنسکی نے بائیڈن کو یوکرین کا فوجی تمغہ دیا۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یوکرین ’متحدہ دفاع‘ کو فروغ دیتے رہیں گے کیوں کہ روس نے ’یوکرین کے بطور قوم زندہ رہنے کے حق پر وحشیانہ حملہ کر رکھا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ روس ’موسم سرما کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یوکرین کے لوگ دنیا کو متاثر کرتے رہیں گے۔‘ انہوں نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کی طرف ہونا فخر کی بات ہے۔‘

زیلنسکی نے بائیڈن سے کہا کہ ’یہاں موجود ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے۔‘

زیلنسکی کے دورے کا ایک اہم حصہ کوشش کر کے کسی بھی رپبلکن رہنما کے ساتھ تعلقات استوار کرنا تھا۔ یہ امر امریکی حمایت کو کمزور کرنے سمیت جنگ کے حوالے سے زیادہ تر دو طرفہ نقطہ نظر سمجھے جانے کی سوچ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کھل کر بات کرنے والے سخت گیر اور شدت کے ساتھ پارٹی سے وابستہ ایسے رپبلکن رہنما موجود ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ کو یوکرین کو پیسہ دینا بند کر دینا چاہیے۔ خاتون رکن کانگریس ماجوری ٹیلر گرین نے تو یہاں تک کہہ چکی ہیں کہ یوکرین کو دی گئی رقم کا آڈٹ کروایا جائے۔

پوتن نے یقینی طور پر لڑائی کو پراکسی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے یہ جانتے ہوئے کہ اس طرح روسی عوام کو ہزاروں فوجی اموات، جبری بھرتی اور بین الاقوامی مذمت قبول کروانا آسان تر ہو گا۔

باوجود یہ کہ پوتن، یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں، ان کی جانب سے اس طرح بیان بازی کی اپنی وجوہات ہیں، مغرب کو حقیقت سے منہ موڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک یوکرین کی مدد کو آئے۔ اب وہ جنگ کے نتیجے میں اس طرح الجھ گئے ہیں کہ اس سے الگ نہیں ہو سکتے اور امریکہ چاہتا ہے کہ روس جنگ ہار جائے۔

اس جنگ میں بڑے پیمانے کے مغربی تعاون کو تسلیم کرنے سے ہی ہماری رائے اس بارے میں بہتر قائم ہو سکتی ہے۔ یہ دیانت داری بھی ہو گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ