کیا بابر اعظم کو کپتانی چھوڑ دینی چاہیے؟

بابر اعظم نے 66 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں کپتانی کی ہے، جن میں سے 40 میچ جیتے ہیں یعنی جیت کا تناسب 65 فیصد ہے۔

بابر اعظم 11 جنوری 2023 کو کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین ایک روزہ میچ کے دوران آؤٹ ہونے کے بعد (اے ایف پی)

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، انگلینڈ کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تو عام خیال یہی تھا کہ آسٹریلیا کے بعد انگلینڈ سے بھی ہارنے کی وجہ سے بابراعظم ٹیسٹ ٹیم کے کپتان برقرار نہیں رہ پائیں گے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ایک عجیب صورت حال سامنے آئی اور بابراعظم کی حمایت میں ٹویٹس سامنے آنے لگیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹویٹس بابراعظم کے پرستاروں کی نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ کرکٹرز کی تھیں جو ’کچھ  اور سوچنا بھی منع ہے‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ بابراعظم کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے۔

مثلاً شاہین شاہ آفریدی نے ٹویٹ کیا کہ ’بابراعظم ہماری اور پاکستان کی شان جان اور پہچان ہے۔ ہمارا کپتان ہے اور رہے گا ۔ کچھ اور سوچنا بھی منع ہے۔ اس ٹیم کو سپورٹ کریں یہی ٹیم ہمیں جتائے گی بھی۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘

فاسٹ بولر حارث رؤف بھی اس معاملے میں پیچھے نہ رہے۔ اس صورت حال کو کچھ حلقوں نے پلیئرز پاور اور ایک طرح کی یونین بازی کے طور پر دیکھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کا فوراً نوٹس  لیا اور بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے سینیئر رکن شکیل شیخ نے ان کرکٹرز کو ٹوئٹر پر ہی فوراً جواب دے ڈالا کہ جو بھی  اس ہیش ٹیگ ’سوچنا بھی منع ہے‘ مہم کو سپانسر کر رہا ہے، اسے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اسے بند کردے ورنہ پھر ہم سوچیں گے۔

بابراعظم سے پریس کانفرنس میں جب اپنی حمایت میں ٹویٹس کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کا جواب کچھ اس طرح دیا تھا کہ جس طرح صحافی حضرات کے جذبات ہوتے ہیں اسی طرح کھلاڑیوں کے جذبات بھی ہوتے ہیں۔

اس وقت لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو چلا تھا کہ بابراعظم کی کپتانی کو خطرہ لاحق ہے یا ان سے کم ازکم ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی لی جاسکتی ہے، اسی لیے ان کے ساتھی کھلاڑی سوشل میڈیا پر متحرک ہوئے ہیں لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بابراعظم کی کپتانی کے بارے میں بحث شدت اختیار کرگئی تھی۔

پریس کانفرنسوں میں بابر اعظم سے ان کی کپتانی کے بارے میں جس تواتر سے سوالات ہو رہے تھے، اس صورت حال کو ایک خاص نظر سے دیکھا گیا۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ جیسے میڈیا دو  حصوں میں منقسم ہوچکا ہے۔ ایک جانب بابر اعظم کو کپتان کے طور پر نہ دیکھنے کی خواہش دکھائی دے رہی تھی اور دوسری جانب ان کا دفاع کرنے والے بھی موجود تھے۔

آخر بابر اعظم کی کپتانی میں ایسے کیا نقائص ہیں جن کی وجہ سے انہیں کپتان نہیں رہنا چاہیے۔ اس بارے میں نظر ڈالنے سے پہلے اگر ہم بابر اعظم کا بحیثیت کپتان ریکارڈ دیکھیں تو وہ خاصا بہتر نظر آتا ہے، خصوصاً وائٹ بال میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔

انہوں نے 66 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں کپتانی کی ہے جن میں سے 40 میچ جیتے ہیں یعنی جیت کا تناسب 65 فیصد ہے۔ ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم ایک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل، ایک سیمی فائنل اور ایشیا کپ کا فائنل کھیلی ہے جبکہ نیوزی لینڈ میں وہ سہ فریقی سیریز جیت چکی ہے۔

وہ اب تک 21 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں جن میں سے 13 میچ جیتے ہیں یعنی 64 فیصد کامیابیاں۔

جہاں تک ٹیسٹ کرکٹ کی بات ہے تو یقیناً وہ اس میں زیادہ کامیاب نہیں رہے ہیں۔

18 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کرتے ہوئے وہ آٹھ میچ جیتے ہیں جبکہ چھ میں انہیں شکست ہوئی ہے اور چار میچ ڈرا ہوئے ہیں۔

موجودہ سیزن پاکستانی ٹیم کے لیے اس لیے بھی انتہائی مایوس کن رہا ہے کہ اسے اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف لگاتار چار ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی پاکستان نہ جیت سکا اور ون ڈے سیریز میں بھی اسے ناکامی ہوئی۔

غالباً یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ ایک عام رائے یہ ہے کہ وہ ضرورت سے دفاعی انداز اختیار کرنے والے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔ بابر اعظم اس اعتراض کا جواب یہ دیتے رہے ہیں کہ وہ حالات کے مطابق کپتانی کرتے رہے ہیں۔ حالیہ مقابلوں میں انہیں اپنے متعدد کھلاڑیوں کی انجریز کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کے متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹرز بابر اعظم کو فوری طور پر کپتانی سے ہٹانے کے حق میں نہیں ہیں۔

سابق کپتان وقار یونس سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’بابراعظم کی کپتانی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ اس پر ابھی صرف میڈیا بات کر رہا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ جو بات سامنے آتی ہے اسے خبر بنا دیا جاتا ہے اور اس سے پریشر قائم کیا جاتا ہے۔‘

وقاریونس کا کہنا ہے کہ ’اس سے بابر اعظم پر غیرضروری دباؤ قائم ہوگا اور وہ اس سے پریشان ہوئے ہوں گے، وہ ابھی اچھا کھیل کر آئے ہیں۔ پاکستانی ٹیم نے ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل کھیلے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں نتائج اچھے نہیں رہے لیکن اس مرحلے پر کپتان کی تبدیلی کی باتیں اچھی نہیں ہیں۔ اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو صورت حال واضح کرنی چاہیے۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق اس بارے میں واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ اگر ’پاکستان کرکٹ بورڈ سمجھتا ہے کہ کوئی قدم اٹھانا ہے تو پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ کوئی بھی فیصلہ برائے نام نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے خوامخواہ پریشر قائم ہوجائے اور ٹیم اس سے متاثر ہوجائے۔‘

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ’حالیہ پریس کانفرنسوں میں جس طرح بابراعظم سے سوالات ہوئے ہیں، ایسا نظر آرہا ہے کہ جیسے انہیں کمزور کیا جارہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 یہاں یہ سوال خاصا اہم ہے کہ اگر بابراعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا جاتا ہے تو پھر یہ ذمہ داری کسے سونپی جاسکتی ہے؟

اگر موجودہ ٹیم کو دیکھیں تو محمد رضوان ایک ایسے کھلاڑی ہوسکتے تھے لیکن ان کی ٹیسٹ میچوں میں حالیہ کارکردگی کے سبب انہیں بھی اپنی جگہ سرفراز احمد کے لیے خالی کرنی پڑی۔

سوشل میڈیا پر سرفراز احمد اور شان مسعود کو آنے والے دنوں میں ممکنہ ٹیسٹ کپتان کے طور پر پیش کیا گیا لیکن یہ دونوں کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ سرفرازاحمد کی واپسی چار سال بعد شاندار انداز میں ہوئی ہے لیکن فوری طور پر انہیں دوبارہ یہ ذمہ داری سونپنا ان پر غیرضروری دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ عام کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلتے رہیں اور پرفارم کرتے رہیں۔

ماضی میں انہیں جس طرح تینوں فارمیٹس سے باہر نکالا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سابق چیئرمین احسان مانی نے یہ قدم کس کے کہنے پر اٹھایا تھا۔

شان مسعود کا کم بیک مایوس کن کارکردگی پر منتج ہوا ہے۔ انہیں اس کم بیک میں جتنے چانس مل چکے ہیں وہ ان کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن تینوں فارمیٹس میں وہ قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

شان مسعود کے لیے سنہری موقع تھا کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف چھ ٹیسٹ اننگز میں وہ کوئی ایسی پرفارمنس دینے میں کامیاب ہوجاتے جس سے ٹیم میں ان کی جگہ پکی ہوجاتی اور پھر اگر کرکٹ بورڈ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے بارے میں سوچتا تو شان مسعود کا نام بھی زیرغور آسکتا تھا لیکن اب تو ان کی اپنی جگہ خطرے میں پڑچکی ہے۔

شان مسعود کو تین سال کے وقفے کے بعد نہ صرف ون ڈے ٹیم میں بھی کم بیک کرایا گیا بلکہ نائب کپتان بھی بنایا گیا، وہ سب کے لیے حیران کن  تھا، لیکن سب سے اہم بات یہ کہ خود کپتان بابر اعظم اور ٹیم منیجمنٹ کے لیے بھی ان کا نائب کپتان بننا قابل قبول نہ تھا، اسی لیے دو ون ڈے میچوں میں شان مسعود میدان کے بجائے بینچ پر بیٹھے نظر آئے۔

بابر اعظم کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ پاکستانی ٹیم کی اگلی ٹیسٹ سیریز جولائی 2023 میں سری لنکا کے خلاف ہے لیکن اصل امتحان انڈیا میں ہونے والا پچاس اوورز کا ورلڈ کپ ہے۔

اس وقت کپتان بابر اعظم کو ڈسٹرب کرنے کا مطلب بیٹسمین بابراعظم کو ڈسٹرب کرنا ہو گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ