ظریفہ جان: کشمیر کی شاعرہ جنہوں نے ایک نئی زبان ایجاد کرلی

60 سالہ صوفی شاعرہ ظریفہ جان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کی رہائشی ہیں اور انہوں نے اپنی شاعری کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی ہی کوڈڈ (Coded) زبان بنالی ہے۔

ظریفہ جان اپنی زندگی میں کبھی سکول نہیں گئیں تاہم انہوں نے اب تک کشمیری زبان میں تین سو سے زائد شعری کلام تحریر کیے ہیں (ساجد رسول)

ظریفہ جان کشمیر کی ایک ایسی شاعرہ ہیں، جنہوں نے اپنا تمام شعری کلام ایک منفرد اور مختلف زبان میں تحریر کیا ہے، جسے ان کے سوا دنیا کا کوئی بھی دوسرا انسان پڑھ یا سمجھ نہیں سکتا۔

60 سالہ صوفی شاعرہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کی رہائشی ہیں اور انہوں نے اپنی شاعری کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی ہی کوڈڈ (Coded) زبان بنالی ہے۔

ان کے لکھنے اور پڑھنے کے اسی انداز کی وجہ سے انہیں ’کوڈڈ پوئٹ آف کشمیر‘ (Coded Poet Of Kashmir)  بھی کہا جاتا ہے۔

ظریفہ جان اپنی زندگی میں کبھی سکول نہیں گئیں تاہم انہوں نے اب تک کشمیری زبان میں تین سو سے زائد شعری کلام تحریر کیے ہیں۔

ظریفہ جان کے گھر میں ان کے تحریر کردہ کلام پر مبنی درجنوں اوراق ہیں اور وہ یہی نوٹس لے کر مشاعروں اور ادبی محفلوں شرکت کرتی ہیں اور اپنا کلام پیش کرتی ہیں۔

ان کی لکھی گئی نظمیں اور دیگر شعری کلام کو اس وجہ سے بھی لوگ پسند کرتے ہیں کہ وہ جس سکرپٹ میں لکھتی ہیں، اس کا ایکسپرٹ دنیا میں شاید ہی کوئی ہو۔

ظریفہ جان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے شاعری کرتی آئی ہیں اور چونکہ وہ لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو انہوں نے اپنے کلام کو محفوظ کرنے کے لیے مخصوص زبان کا استعمال کیا۔

جب بھی ان کے ذہن میں کوئی مصرعہ آتا ہے تو وہ قلم ہاتھ میں اٹھا کر کورے کاغذ پر مخصوص نشانات اور اشکال بنا کر اپنا کلام محفوظ کرتی ہیں۔

ان کے مطابق جسمانی کمزوریوں اور کم حافظے کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کلام کو ایسے ہی محفوظ کریں، ورنہ جو شعر ان کے ذہن میں آتا ہے اگر وہ اس شعر کو اپنی مخصوص زبان میں تحریر نہ کریں تو وہ شعر وہ کھو دیتی ہیں اور ایسے ہی انہوں نے اپنا کافی کلام کھو دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی ایک بیٹی، جو ان کا یہ کلام محفوظ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں، کہتی ہیں: ’میری والدہ اپنی شاعری کو ادبی حلقوں میں پیش کرنے پر بہتر محسوس کرتی ہیں۔ شاید وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کا لکھنے کا یہی منفرد انداز اور اظہار ان کی شاعری کو دوسروں سے مختلف بناتا ہے۔‘

وہ چاہتی ہیں کہ ان کی والدہ کا کلام دونوں صورتوں میں کتابی شکل میں لوگوں کے سامنے رکھا جائے۔ ایک ان کی اپنے ہی ایجاد کردہ سکرپٹ کی صورت میں اور دوسرا اس کلام کو ڈی کوڈ کرکے کتابی شکل میں سامنے لانا بھی ان کا خواب ہے، جس کے لیے وہ آگے بڑھ کر کام کریں گی۔

کشمیر میں کشمیری زبان پڑھانے والے ایک معروف لیکچرار و مصنف شاکر شفیع کا ماننا ہے کہ ظریفہ جان کشمیر میں انگلیوں پر گنی جانے والی کچھ خواتین صوفی شعرا میں شامل ہیں۔

شاکر شفیع مزید کہتے ہیں کہ ’صوفی ازم کا جہاں تک تعلق ہے تو ایسے شاعروں کے پاس اللہ کی طرف سے عنایت کردہ ایسا علم ہوتا ہے، جسے سمجھنا عام لوگوں کے بس میں نہیں ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ ظریفہ جان کے پاس لکھنے کا جو منفرد انداز ہے، وہ اللہ کی ہی طرف سے ان کو عنایت کردہ ایک ایسا ہنر ہے، جسے ان کے بغیر کوئی سمجھ یا پڑھ نہیں پاتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین