ملکی بحران کے حل کے لیے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ واحد حل؟

ملک کو درپیش حالیہ بحران میں کیا گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے اور کیا اس کا آغاز پارلیمان کو ہی کرنا ہوگا؟ انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں سے رائے جاننے کی کوشش کی۔

ایک پولیس اہلکار 31 جنوری 2023 کو اسلام آباد میں ایک چوکی چیکنگ کر رہا ہے (اے ایف پی)

پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں رواں ہفتے ہونے والے مہلک حملے سمیت ملک بھر میں جاری دہشت گردی کی لہر اور معاشی بدحالی کے تناظر میں سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی بیان بازیوں اور اختلافات کو پس پشت ڈالنا چاہیے اور اکھٹے ہو کر بات چیت کے ذریعے اہم ملکی فیصلے کرنا ہوں گے۔

پیر (30 جنوری) کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد اموات ہوچکی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اس حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج (بروز بدھ) وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت گذشتہ روز ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

پشاور حملے کے اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’تمام سیاسی قوتوں کو میرا پیغام ہے کہ پاکستان دشمنوں کے خلاف متحد ہوں۔ ہم اپنے سیاسی جھگڑے بعد میں لڑ لیں گے۔‘

منگل کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’جس طرح کی دہشت گردی ہے اس کے خلاف ضرب عضب آپریشن جیسا اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اے پی ایس سانحے سے کم سانحہ نہیں، جو پشاور میں ہوا۔ اے پی ایس سانحے کے وقت بھی تمام سیاست دان اکٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت قوم کو تمام تر اختلافات کے باوجود اتفاق رائے اور مل بیٹھ کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر و سابق وزیر قانون علی ظفر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اس سارے مسئلے کا حل یہ ہے کہ الیکشن کروائیں تاکہ ایسی حکومت آئے جس پر عوام کا بھی اعتماد ہو اور بین الاقوامی برادری کو بھی پتہ ہو کہ اگلے پانچ سال یہ منتخب حکومت ہے تاکہ سیاسی بحران ختم ہو۔ نئی حکومت جو بھی آئے اس کے بعد سب کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی کا معاملہ ہے تو اس پر سب کو بلاتفریق ایک صفحے پر ہونا چاہیے، اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے۔ دہشت گردی اور ملکی سکیورٹی صورت حال پر فوری طور پر بھی گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہو سکتے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی نے انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے تو ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے اور بات چیت کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت جو صورت حال ہے اور جو افسوسناک واقعہ پشاور میں پیش آیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ میں اس سیاست میں نہیں جانا چاہتا کہ دہشت گردوں کو کس نے جگہ دی لیکن اس وقت یہ موقع ہے کہ پاکستان کے لیے، قوم کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو بیٹھنا پڑے گا کیونکہ اب کسی ایک سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ہے۔

’اپنے اقتدار کا لالچ نہیں کرنا چاہیے، کبھی ملک کے لیے بھی سوچ لینا چاہیے۔ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہونا بہت ضروری ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا آغاز کیسے ہو گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’یقینی طور پر وزیراعظم کو تمام شراکت داروں کو بلانا چاہیے اور ڈائیلاگ کا انعقاد کرنا چاہیے۔‘

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس سوال کے جواب میں کہا: ’چند ایشوز ایسے ہیں جن پر سب کو بیٹھنا پڑے گا۔ اگر نہیں بیٹھیں گے تو کسی دوسرے کی مرضی سے بیٹھنا پڑے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب سب سے پہلے دہشت گردی کا معاملہ ہے جو کہ بہت سنجیدہ ہے، لوگ بے گناہ مر رہے ہیں۔ دوسرا معاملہ معیشت کا ہے اور اس میں ایسا نہیں کہ صرف آج والوں کی غلطی ہے۔ یہ کل والوں کی بھی غلطی ہے اور پرسوں والوں کی بھی، بلکہ قیام پاکستان سے اب تک ہم نے قرضے ہی لیے ہیں اور سود پر سود چڑھا لیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سب قصوروار ہیں، نظام بھی قصور وار ہے۔ اس لیے بیٹھ کر اب بات نہیں کریں گے، حل نہیں نکالیں گے، کسی ایک نقطے پر متفق نہیں ہوں گے تو نقصان ہو گا۔‘

سینیئر سیاسی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سینیئر صحافی حامد میر نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’عمران خان بات کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اس لیے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے انعقاد کا کوئی چانس نہیں لگ رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ ’پہلے بھی 80 ہزار جانوں کی قربانی کے بعد گرینڈ ڈائیلاگ کے لیے راضی ہوئے تھے تو اب یہ کیسے ڈائیلاگ کریں گے۔ اگر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہوئے بھی تو اس سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ ہر سیاسی جماعت کے اپنے ذاتی مفاد ہیں، وقتی طور پر شاید دباؤ میں آ جائے لیکن یہ دور رس حل نہیں ہو گا۔ اگر گرینڈ ڈائیلاگ ہوا تو پی ٹی آئی الیکشن کی شرط رکھے گی۔‘

سینیئر پارلیمانی صحافی خالد محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’نیشنل ڈائیلاگ کے لیے صرف تحریک انصاف کو قائل کرنا ہے۔ باقی سب جماعتیں تو پہلے ہی حکومت کا حصہ ہیں. ڈائیلاگ ہونا چاہیے مگر مسئلہ یہ ہی کہ پھر اس پر عمل درآمد کون کرے گا؟ کیا تھرڈ پارٹی تمام جماعتوں کے متفقہ فیصلے پر من و عن عمل کر پائے گی؟‘

انہوں نے کہا کہ ’پشاور کے واقعے پر جس طرح پوائنٹ سکورنگ کی گئی اس صورت حال میں ایک میز پر آنا بھی کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ ماضی میں تین مرتبہ ایسی کوشش ہوئی، گرینڈ نیشنل الائنس بنا، لندن میں میثاق جمہوریت ہوا، مگر کچھ عرصے بعد یہ اتحاد اپنے انجام کو پہنچ گئے۔‘

سینئر صحافی و تجزیہ کار شوکت پراچہ نے کہا: ’اس ملک میں سیاسی انا بہت ہے۔ ہر کوئی اپنی ضد میں ہے۔ اس صورت حال میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی توقع کرنا تو خام خیالی نظر آتی ہے۔ دوسری بات زیادہ اہم ہے کہ اگر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہوں گے تو اس کے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کیا ہوں گے؟ اس واضح سیاسی تقسیم میں کون اس کے نکات لکھے گا؟‘

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ تحریک انصاف کہے گی کہ فوری الیکشن کروائیں، الیکشن کی تاریخ دیں، تو ان کو اس نکتے سے پیچھے کیسے ہٹایا جائے گا؟ یا حکومت کو راضی کیا جائے کہ فوری طور پر انتخابات کی تاریخ دی جائے۔

شوکت پراچہ نے کہا کہ ’ایسی سیاسی تقسیم میں سپریم کورٹ، بار ایسوسی ایشنز، پاکستانی فوج، غیر سرکاری تنظیمیں اور میڈیا گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ میں مدد کر سکتے ہیں۔ اگر سیاسی رہنما بات کرنا چاہیں گے تو ہی دیگر شراکت دار مدد کر سکیں گے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’بہرحال یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست