ننکانہ صاحب: توہین مذہب کا الزام، ہجوم کے ہاتھوں نوجوان کی موت

ننکانہ صاحب پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے نوجوان کو تشدد سے مارنے کے بعد لاش کو آگ لگانے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب میں ہفتے کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک نوجوان کو تشدد کرنے کے بعد آگ لگا کر مار ڈالا۔

ننکانہ صاحب پولیس کے ترجمان محمد وقاص نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب ہجوم نے مقتول وارث کو گھر سے نکال کر مارنا شروع کیا تو پولیس موقع پر پہنچ گئی اور اسے اپنی تحویل میں لے کر تھانے لے آئی تاکہ اسے ہجوم سے بچا کر تفتیش کی جائے۔ لیکن اس کے بعد ایک بہت بڑے ہجوم نے تھانے پر دھاوا بول دیا جہاں نفری کم تھی۔

’اس سے پہلے کہ پولیس کے ریزرو دستے وہاں پہنچتے مشتعل ہجوم نے مقتول وارث کو دوبارہ پولیس کی تحویل سے نکال کے تشدد شروع کر دیا اور زندہ جلانے کی کوشش کی جس کے تاب نہ لاتے ہوئے وارث کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ ہلاک ہو چکا تھا البتہ پولیس نے اس کی لاش کو جلنے سے بچا لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام متعلقہ پولیس تھانے میں موجود ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

وقاص کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مقتول کا اپنی بیوی کے ساتھ اختلاف تھا اور وہ مبینہ طور پر قرآن کے صفحات استعمال کرتے ہوئے کوئی جادو ٹونا کر رہا تھا۔

ترجمان ننکانہ صاحب پولیس نے مزید بتایا کہ ایک شخص نے وارث کو ایسا کرتے دیکھا اور علاقہ مکینوں کو بتایا۔

مشتعل علاقہ مکین وارث کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا اور تشدد کرنے لگے۔

وقاص کے مطابق ہجوم بڑا تھا لیکن اس کا کسی خاص گروہ سے تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

وقوعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او عاصم افتخار موقعے پر پہنچے۔ علاقے میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری واربرٹن میں موجود ہے۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں مشتعل ہجوم ایک برہنہ شحص کو گھسیٹتے ہوئے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے مار رہا ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی ننکانہ سرکل نواز ورک اور ایس ایچ او واربرٹن فیروز بھٹی کو فوری طور پر معطل کردیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ڈی آئی جی آئی اے بی امین بخاری اور ڈی آئی جی سپیشل برانچ راجہ فیصل کو موقعے پر پہنچ کر انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں۔

’واقعے کے ذمہ داروں جبکہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے واقعے کو انتہائی ظالمانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن مجرموں نے بھی یہ کام کیا حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ انہیں گرفتار کرے اور ان کا مقدمہ دہشت گردی کے عدالت میں چلایا جائے۔

انہوں نے کہا: ’کسی بھی گروہ ، فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے اور ایسا عمل کرے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔‘

وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ پولیس نے پرتشدد ہجوم کو کیوں نہ روکا؟

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قانون کی حاکمیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی کو قانون پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان