سعودی شہزادہ اسلام آباد میں کروڑوں ڈالر کے ٹیک ہاؤس کا افتتاح کریں گے

سعودی ٹیکنالوجی فرم کے مطابق ٹیک ہاؤس کی افتتاحی تقریب پیر، چھ مارچ کو اسلام آباد میں ہوگی۔

آٹھ دسمبر، 2019 کو شائع ہونے والی اس تصویر میں سعودی شہزادے فہد بن منصور آل سعود کو متحدہ عرب امارات، ابو ضبی ڈیجیٹل نیکسٹ سمٹ میں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے (abudhabidigital/ٹوئٹر)

سعودی شہزادے فہد بن منصور آل سعود نے اعلان کیا کہ ان کی ٹیکنالوجی کمپنی پیر کو اسلام آباد میں ’سعودی پاکستان ٹیک ہاؤس‘ کا افتتاح کرے گی، جس کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا ہے۔

سعودی شہزادے نے اس منصوبے کا اعلان سب سے پہلے جنوری 2023 میں فیوچر فیسٹ کے دوران کیا تھا۔

سعودی ٹیکنالوجی فرم کے مطابق ٹیک ہاؤس کی افتتاحی تقریب پیر، چھ مارچ کو اسلام آباد میں ہوگی۔

ایک اعلامیے کے مطابق اس ٹیک ہاؤس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ’کاروبار کرنے میں زیادہ سے زیادہ آسانی کو فروغ دینا‘ ہے۔

شہزادہ فہد آئی ایل ایس اے انٹرایکٹو کے شریک بانی ہیں، جس کو پہلی بار 2009 میں پاکستانی کاروباری شخصیت سلمان ناصر نے قائم کیا تھا، اس کے دفاتر ریاض اور لاہور میں ہیں۔

یہ فرم تمام شعبوں میں موجودہ سٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستانی اور سعودی رہنماؤں کے عزم کی عکاس ہے۔

سعودی عرب کے شہزادے فہد بن منصور آل سعود مختلف تکنیکی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے پاس پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے سٹریٹجک منصوبے ہیں۔

جنوری میں فیوچر فیسٹ 2023 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فہد نے کہا تھا کہ ان کی کمپنی پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ایک ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور 10 کروڑ ڈالر مالیت کے 300 منصوبے شروع کرے گی۔

فیوچر فیسٹ 2023 میں دنیا بھر کے متعدد ممالک سے معروف کاروباری افراد، سٹارٹ اپس، پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی تھی۔

سعودی کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد نے بھی اس تقریب کی گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی اور مستقبل کے کاروباری منظرنامے، سٹارٹ اپس اور ان کی کامیابی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی