پاکستانی خاتون عائشہ صدیقہ ٹائم میگزین کی ’وومن آف دا ایئر‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جھنگ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ عائشہ صدیقہ کو ٹائم میگزین نے وومن آف دا ایئر قرار دیا ہے۔

عائشہ صدیقہ انسانی حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں (تصویر: ٹائم میگزین)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جھنگ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ عائشہ صدیقہ کو ٹائم میگزین نے وومن آف دا ایئر قرار دیا ہے۔

عائشہ صدیقہ انسانی حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی تصویر بطور وومن آف دا ایئر ٹائم میگزین کے 13 مارچ سے 20 مارچ تک کے ایڈیشن کے کوور پر شائع کی گئی ہے۔

جھنگ میں دریائے چناب کے کنارے اپنا بچپن گزارنے والی عائشہ صدیقہ نے 2012 میں اپنے دادا اور پھر 2014 میں اپنی دادی کو کینسر کے مرض کے باعث کھو دیا تھا۔ وہ ان کی موت کی وجہ دریا میں بہنے والے آلودہ پانی کو قرار دیتی ہیں۔

اس کے بعد عائشہ نیو یارک چلی گئیں جہاں انہوں نے اپنی کالج ڈگری مکمل کی اور اب ان کا شمار دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کام کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

عائشہ صدیقہ اپنے احساسات کا اظہار شاعری کے ذریعے کرتی ہیں اور اسی کو بطور احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں۔

ٹائم میگزین کے مطابق عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ رہ گیا ہے اس کو تحریروں کی شکل میں بچانے کی یہ ایک کوشش ہے، کیونکہ ابھی میرے پاس وقت ہے۔‘

عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ’آرٹ زندگی کو بہتر بناتا ہے، اور میرے خیال میں اسی چیز سے انسانوں کو لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جیسے کہ وہ تمام چیزیں ہم بھلانا چاہتے ہیں، وہ تمام تخلیقات، کیا یہ بدقسمتی نہیں ہوگی کہ دوسری جانب انہیں دیکھنے اور ان کا مشاہدہ کرنے کے لیے کوئی نہیں ہوگا؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کام کئی نسلوں کے لیے ہے۔ میں ابھی نوجوان ہوں، کل نہیں ہوں گی۔ مجھے یہ علم منتقل کرنے کے لیے اپنے سے چھوٹی عمر کے لوگوں کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے تاکہ یہ سلسلہ کبھی نہ ٹوٹے۔‘

عائشہ صدیقہ جب شاعری کی بات کرتی ہیں تو ان کا چہرہ کھلکھلا جاتا ہے۔ ان کے لیے شاعری ایک امید ہے۔ عائشہ صدیقہ نے گذشتہ سال نومبر میں ماحولیات پر مصر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس میں ایک نظم پڑھی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’زخمی دنیا بہت پیاری ہے کیونکہ وہ زندگی کو جنم دیتی رہتی ہے۔ اور میرا کام زندگی کے دفاع میں ہے۔ یہ خواتین کے حقوق کا دفاع ہے۔ اس لیے یہ انسان حقوق ہیں۔‘

سال 2020 میں عائشہ صدیقی نے مشترکہ طور پر پولیوٹرز آؤٹ کی بنیاد رکھی اور فوسل فری یونیورسٹی لانچ کرنے میں مدد کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین