بلاول بھٹو انڈیا میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شریک ہوں گے: دفتر خارجہ

انڈیا کی طرف سے باضابطہ طور پر جنوری میں اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کیا گیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری انڈیا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ میں جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زداری شنگھائی تعاون تنظیم کے انڈیا کے شہر گووا میں ہونے والے اجلاس میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔‘

وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے، جو چار اور پانچ مئی کو گووا انڈیا میں ہو گا۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اس اجلاس میں شرکت شنگھائی تعاون تنظیم کے موجودہ چیئرمین اور انڈیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ 

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں شرکت شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے ساتھ پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے اور اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں خطے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔  

بلاول بھٹو نے شنگھائی کونسل آف فارن منسٹرز کے گذشتہ اجلاس میں بھی موجود تھے جو تاشقند میں گذشتہ سال ہوا تھا۔ 

شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں اجلاس رواں برس انڈیا میں ہو رہا ہے۔ سربراہان مملکت کے اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کا اجلاس مئی میں انڈیا کے شہر گووا میں ہو گا۔ بھارت اس سال شنگھائی تعاون تنظیم کے منتظم صدر کے فرائض انجام دے رہا ہے۔

انڈیا کی طرف سے باضابطہ طور پر جنوری میں اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کیا گیا تھا۔

2016 کے بعد کوئی بھی پاکستانی وزیر خارجہ پہلی مرتبہ انڈیا جائےگا۔ اس سے قبل سال 2016 میں اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز انڈیا گئے تھے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ سال جولائی میں تاشقند میں ہونے والے وزرائے خارجہ کونسل کے آخری اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے 13 اپریل 2023 کو سمرقند کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چوتھے وزارتی اجلاس میں شرکت کی اور افغانستان کے لوگوں کے لیے فوری انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر مملکت نے افغانستان میں زیادہ سے زیادہ سیاسی شمولیت کو فروغ دینے کے مقصد کی جانب پیش رفت، خطے کے لیے پرامن افغانستان کی اہمیت اور وہاں امن و استحکام میں پڑوسی ممالک کے مفاد اور حصہ داری پر زور دیا تھا۔ وزیر مملکت نے افغانستان پر چین، ایران، پاکستان اور روس پر مشتمل چار فریقی گروپ کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، انڈیا، روس، پاکستان اور چار وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔

اگر بلاول بھٹو زرداری نے اس اجلاس میں شرکت کی تو تقریباً 12 سال کے وقفے کے بعد انڈیا کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر خارجہ ہوں گے۔

بلاول بھٹو ایک ایسے موقعے پر انڈیا جائیں گے جب چند ماہ قبل انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں سخت بیان دیا تھا، جس پر انڈیا میں سڑکوں پر احتجاج ہوا تھا اور انڈیا نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو ’غیر مہذب‘ قرار دیا تھا۔

2019 میں پلوامہ حملے اور اس کے بعد بالاکوٹ کے قریب انڈین فضائیہ کے آپریشن کے بعد سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات معطل ہیں۔ البتہ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کچھ کوششیں کی گئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے دونوں ملکوں میں ثالثی کی آخری کوشش 2021 میں کی تھی اور شہباز شریف نے بھی انڈیا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک بار پھر یو اے ای کی مدد مانگی تھی۔

اس کے علاوہ اس سال کے شروع میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر انڈیا کے ساتھ مذاکرات کی بات کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان