گردے کی پیوندکاری کا بہانہ، بوائے فرینڈ نے تین ہزار پاؤنڈز ہتھیالیے

35 سالہ برطانوی خاتون کو ان کے 28 سالہ بوائے فرینڈ نے دھوکہ دیا۔ دونوں کی ملاقات ڈیٹنگ ایپ ٹِنڈر کے ذریعے ہوئی تھی۔

35 سالہ برطانوی خاتون ربیکا روز کی   پال جیلٹ سے ملاقات ڈیٹنگ ایپ ٹِنڈر کے ذریعے ہوئی تھی (ایس ڈبلیو این ایس)

ایک برطانوی خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ دھوکہ دہی کے عادی ان کے بوائے فرینڈ نے گردے کی پیوندکاری کا بہانہ بنا کر ان سے تین ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم اینٹھ لی۔

35 سالہ ربیکا روز کو ان کے 28 سالہ بوائے فرینڈ پال جیلٹ نے دھوکہ دیا، جن سے ان کی ملاقات ڈیٹنگ ایپ ٹِنڈر کے ذریعے فروری 2017 میں ہوئی تھی۔

پال جیلٹ کا موقف ہے کہ انہیں گردے کی پیوندکاری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رقم کی ضرورت تھی اور ربیکا نے انہیں یہ رقم دینے کی پیش کش کی تھی۔

جبکہ ربیکا روز کا دعویٰ ہے کہ پال جیلٹ نے کئی مواقع پر ایسا ظاہر کیا کہ وہ انہیں ہسپتال سے فون کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اپنے جسم کی ایک طرف لگی پٹی بھی دکھائی جو آپریشن کے بعد لگائی جاتی ہے۔

برطانیہ کے علاقے لنکاشائر کی رہائشی ربیکا روز کو اُس وقت تشویش ہوئی جب پال جیلٹ نے انہیں جواب دینا بند کر دیا اور ان کی رقم لے کر رفوچکر ہوگئے۔ خاتون نے ویسٹ مرسیا پولیس سے رابطہ کیا جو پال جیلٹ کی جانب سے گلوکار ایڈ شیرن کے موسیقی کے کنسرٹ کے جعلی ٹکٹ فروخت کرنے کے معاملے سے آگاہ تھی۔

پال جیلٹ، جن کا تعلق ویلز کے علاقے کارمتھن سے ہے، کو بالآخر گرفتار کرکے تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ انہوں نے مارچ 2019 میں ووسٹر کراؤن کی عدالت میں دھوکہ دہی کی تین وارداتوں اور اسی قسم کے 21 معاملات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

کیئر ہوم میں کام کرنے والی ربیکا روز نے کہا: ’پال جیلٹ رقم کے لیے جس حد تک گئے اس کا مجھے اب بھی یقین نہیں آتا۔ اس عمل نے حقیقت میں مردوں پر میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور پال کی وجہ سے میں اب بھی برا محسوس کرتی ہوں۔‘

ربیکا روز کی پال جیلٹ سے پہلی ملاقات ڈیٹنگ ایپ ٹِنڈر پر ہوئی، جب پال نے ان میں دلچسپی ظاہر کی۔ پال جیلٹ نے اپنے آپ کو تدفین کے انتظام کرنے والے ادارے کا ڈائریکٹر ظاہر کیا تھا۔ بعد میں دونوں ایک دوسرے کو روزانہ پیغامات بھیجنے لگے۔

ربیکا روز نے کہا: ’پہلے پہل وہ واقعی بہت بھلے نوجوان لگے۔ وہ ٹنڈر پر موجود دوسرے لوگوں کی طرح نہیں تھے۔ ایسا لگا کہ وہ واقعی مجھ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’ان کے تمام پیغامات بہت خوشامدانہ تھے۔ جب بھی مجھے کوئی پیغام ملتا میرے چہرے پرمسکراہٹ پھیل جاتی۔ انہوں نے جلد ہی مجھے ملنے کے لیے کہا جو مجھے کچھ عجیب لگا۔ اب مجھے احساس ہو رہا ہے، وہ مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب کیوں تھے۔‘

ٹنڈر پر ایک ہفتے تک پیغامات کے تبادلے کے بعد ربیکا روز نے پال کے ساتھ ٹیلی فون نمبر کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے لنکن شائر میں واقع فلاحی ادارے میں کام ختم کرنے کے بعد پال جیلٹ سے ملاقات کا انتظام کیا۔ وہ اس وقت اس فلاحی ادارے میں ملازمت کرتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد جوڑے کی ملاقاتیں شروع ہوگئیں اور ربیکا روز نے پال جیلٹ کو اپنی 65 سالہ والدہ سے ملوایا جن کے ساتھ وہ لنکن شائر کے علاقے سیکسلبی میں رہ رہی تھیں۔

ربیکا روز نے کہا: ’وہ رات کے وقت آئے اور ہماری ملاقات ہوئی۔ میری والدہ نے انہیں واقعی پسند کیا۔ ہم نے اکثر ملنا جلنا شروع کر دیا۔ پال بہت فراخ دل تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پال مجھے اور میری والدہ کو کھانے پر لے جاتے اور بل ادا کرنے پر اصرار کرتے۔ انہوں نے میری سالگرہ کے موقع پر گلوکار ایڈ شیرن کے کانسرٹ پر لے جانے کا بھی ذکر کیا۔ ہمارے درمیان سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔‘

ربیکا کے مطابق: ’پال جیلٹ  نے ہمیشہ اپنے خاندان کے بارے میں باتیں کیں اور ہمیں تصاویر دکھائیں۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ہمیں اپنے خاندان کے لوگوں سے ملوائیں گے۔ وہ بہت رومانوی تھے اور سب کچھ بالکل ٹھیک لگتا تھا۔‘

مارچ 2017 میں پال جیلٹ نے ربیکا روز اور ان کی والدہ کے ساتھ آ کر رہنا شروع کر دیا۔ پال نے انہیں بتایا تھا کہ طوفان کی وجہ سے چمنی تباہ ہونے کے بعد ان کا فلیٹ رہنے کے قابل نہیں رہا۔

ربیکا روز دماغ میں خون کے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ اس بیماری میں دماغ کے اندر مائع کی شکل میں مواد اکٹھا ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پال نے انہیں اپنی مبینہ بیماری کا بتایا جس کے بعد وہ ان کے زیادہ قریب ہوگئیں۔

انہوں نے کہا: ’پال نے مجھے اپنے بارے میں مزید بتانا شروع کر دیا اور اپنے گردے کے مسئلے کا ذکر کیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ بچپن میں ان کا آپریشن ہو چکا ہے لیکن انہیں اب بھی مسئلہ ہے۔‘

ربیکا کے مطابق: ’میں خود اپنی خراب حالت کے ساتھ کئی سال تک ہسپتال آتی جاتی رہی ہوں، اس لیے مجھے کسی ایسے فرد سے ملاقات اچھی لگی جسے پتہ ہو کہ یہ عمل کیسا تھا۔‘

چند ہفتے کے بعد ایک شام ربیکا روز کو پال جیلٹ کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ انہوں نے خاتون کو بتایا کہ وہ گردے میں درد کی وجہ سے ہسپتال میں ہیں۔

ربیکا روز نے کہا: ’میں نے انہیں کال کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ وارڈ میں موبائل فون کا سگنل بہت کمزور ہے اس لیے وہ بات نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہسپتال کے عملے نے انہیں ڈرپ لگا دی ہے اور ضروری ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ میں بہت پریشان ہو گئی۔ میں ہسپتال جانا چاہتی تھی کہ تاکہ ان کے قریب رہوں لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان سے ملنے کوئی نہیں آ سکتا۔‘

’خوش قسمتی سے وہ چند روز بعد واپس آ گئے اور مجھے بتایا کہ ان کے گردے کی صفائی (ڈائیلیسس) کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔‘

ربیکا نے مزید بتایا: ’انہوں نے علاج کے بعد اپنی ایک طرف لگی پٹی بھی مجھے دکھائی۔ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کیا کہنا ہے اس لیے وہ سب بہت قابل یقین تھا۔‘

ربیکا روز سمجھیں کہ پال ایک بار پھر ہسپتال گئے جہاں بتایا گیا کہ انہیں ایم آر آئی اور گردے کی پیوندکاری کی ضرورت ہے۔

ربیکا روز کا دعویٰ ہے کہ اپریل 2017 میں پال نے انہیں قائل کیا کہ وہ ان کے نجی ہسپتال میں علاج کے لیے تین ہزار 182 پاؤنڈ کی رقم ادا کریں۔

انہوں نے کہا: ’پال نے مجھے بتایا کہ نیشنل ہیلتھ سروسز کے علاج کے منتظر مریضوں کی فہرست بہت طویل ہے اور انہیں اس نجی ہسپتال میں علاج کروانا پڑے گا جو انہوں نے کورن وال کے علاقے میں تلاش کیا ہے۔‘

ربیکا نے بتایا: ’میں نے اپنے سیونگ اکاؤنٹ سے رقم پال کو منتقل کردی تاکہ وہ اپنے سکین اور سفری اخراجات برداشت کر سکیں۔ لیکن جب ایک بار وہ چلے گئے تو ان سے رابطہ مشکل ہوگیا، جس سے مجھے شک ہوگیا۔ وہ میری فون کالز کا جواب نہیں دیتے تھے اور جب انہوں نے مجھے اپنی والدہ کا نمبر دیا تو وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔‘

’تمام صورت حال اتنی پریشان کن تھی کہ اس سے میری طبیعت خراب ہو گئی۔ میرے سر میں شدید درد ہونے لگا اور میں گر گئی۔ اس کے بعد میں فوری طور پر ہسپتال گئی اور انہیں میرے  دماغ میں جمع ہونے والا مواد نکالنا پڑا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’میں نے پولیس کو بلانے کی دھمکی دی اور پال نے کہا کہ وہ مجھے میری رقم واپس کردیں گے لیکن اس کے بعد ان کی جانب سے میرے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔‘

ربیکا روز نے بالآخر پال کے والدین کو آن لائن ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے بتایا: ’میں نے پال کے والدین کے ساتھ فون پر بات کی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے کے حوالے سے آٹھ ماہ سے کوئی خبر نہیں ہے۔‘

’انہوں نے مجھے بتایا کہ پال تدفین کا انتظام کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر نہیں ہیں اور انہیں گردے کا مسئلہ بھی کبھی نہیں رہا۔‘

ربیکا نے مزید کہا: ’جو اُن کے بیٹے نے کیا وہ اس پر مسلسل معذرت کرتے رہے۔ یہ سب جھوٹ تھا اور میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پال نے اپنی کار ہمارے گھر کے سامنے چھوڑ دی تھی اور سارا وقت وہ غائب رہے۔ جب میری والدہ اور میں نے کار کو جا کر دیکھا تو اس میں آپریشن کے بعد لگائی جانے والی پٹی نظر آئی جو بوٹس نامی میڈیکل سٹور سے خریدی گئی تھی۔‘

ربیکا نے بتایا: ’ہمیں شک پڑ گیا کہ جو کچھ پال نے ہمیں بتایا وہ سب غلط تھا۔‘

ربیکا روز نے پولیس سے رابطہ کیا۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ ان کے ساتھ دھوکہ کرنے والے شخص نے گلوکار ایڈ شیرن کے پروگرام کے آن لائن جعلی ٹکٹ فروخت کیے، جس کی وجہ سے پہلے ہی پولیس کی اس پر نظر تھی۔

پولیس نے پال جیلٹ کو تلاش کرکے رواں برس جنوری میں گرفتار کرلیا۔ انہوں نے ووسٹر کی عدالت میں دھوکہ دہی کی تین وارداتوں سمیت اسی قسم کے 21 معاملات میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا، جس کے بعد مارچ میں انہیں تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

گردے کی خرابی کا جھوٹ بول کر ہتھیائی گئی رقم سمیت پال جیلٹ نے دوسری وارداتوں میں سات ہزار پانچ سو پاؤنڈ کی رقم اکٹھی کی تھی۔

ربیکا روز نے کہا: ’میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ جو ہوا اس سے بہت مایوسی ہوئی۔ جھوٹ کا شکار ہونے پر میں نے خود کو بے وقوف سمجھا لیکن واقعی میرا خیال تھا کہ وہ اچھا انسان ہے اور میں نے سوچا ہماری دوستی اچھی رہے گی۔‘

انہوں نے کہا: ’میری امید ختم ہو چلی تھی کہ پولیس پال کو تلاش کرلے گی اور پھر مجھے پولیس کی کال آ گئی۔ مجھے بہت سکون ملا اگرچہ اس کے لیے مجھے قیمت ادا کرنی پڑی تھی لیکن میں خوش ہوں کہ انصاف ہو گیا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا