سماجی انصاف کسی بھی خوشحال معاشرے کی بنیاد

ہر سماج دوسرے کو انصاف سے عاری گردانتا ہے اور تہمتوں کے پہاڑ توڑ دیتا ہے۔ کہیں ایک چیز جائز تو کہیں ناجائز ہوتی ہے۔

دنیا میں مختلف ادوار میں مختلف تحریکیں سماجی انصاف کے حصول کے لیے طلوع و غروب ہوئیں۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی شخصیت ابھری اور سماجی انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور ہر اُس وقت کسی نہ کسی طرح کا استحصال ہوتا رہا (تصویر: پکسا بے)

سماجی انصاف سے ہم ہمیشہ یہی مراد لیتے ہیں کہ امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ ہو، مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہوں اور کسی کو بھی دوسرے فرد کا استحصال کرنے کی اجازت نہ ہو۔

وہ معاشرہ بھی سماجی انصاف کا حامل سمجھا جائے گا جہاں تعلیم سب کے لیے ہو اور ایک جیسی ہو، قانون کی ہر صورت عمل داری ہو، کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو، معاشی حیثیت کی بنیاد پر چارا دستی نہ ہو، نسل، حسب نسب، مکتب، مذہب، رنگ، علاقے کی بنیاد پر انصاف کے نظام پر اثر نہ پڑے، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ ملے، ایسا بھی نہ ہو کہ کسی کو ملے ہی نا۔ جبراً کوئی کسی پر بھی قابض نہ ہو، کوئی کسی بھی فرد کی حق ملکیت، اس کی عزت پر اثر انداز نہ ہو، لیکن ان سب عوامل کے علاوہ بھی بہت سے ایسے نکات ہیں جو معاشرے میں انصاف کی عکاسی کرتے ہیں اور انصاف کی اکائی سمجھے جاتے ہیں۔

دنیا میں مختلف ادوار میں مختلف تحریکیں سماجی انصاف کے حصول کے لیے طلوع و غروب ہوئیں۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی شخصیت ابھری اور سماجی انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور ہر اُس وقت کسی نہ کسی طرح کا استحصال ہوتا رہا۔ حاکم و محکوم کا تصور جاری رہا، طاقتور اور کمزور میں کھینچا تانی ہوتی رہی، ہر دور میں ہی انسانی معاشرہ کسی نہ کسی وجہ سے منقسم رہا۔ کبھی مذہب کی بنیاد پر تو کبھی علاقائیت، رنگ، نسل اور کبھی افکار کی بنیاد پر۔ غرض یہ کہ منفرد معاشرے بیک وقت دنیا میں چلتے رہے اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں۔ معاشرے کی بنیادی اکائی انسان ہے اور انسان ہی سے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن آج ایک انسانی معاشرے اور معاشرتی اقدار کا دوسرے معاشرے سے ٹکراؤ زیادہ ہو رہا ہے اور کیفیت تباہ کن ہے۔ کہیں انسان کو گائے کا گوشت کھانے اور رکھنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو کہیں غیر ایمان ہونے کی بنا پر مار دیا جاتا ہے۔ کہیں علم جہالت سے نبرد آزما ہے تو کہیں حاکم محکوم کے استحصال کا موجب بن رہا ہے۔ ہر انسانی سماج میں جرم کی مختلف سزائیں ہیں، کہیں مجرم کی سزا انسانی حقوق کا استحصال کہلاتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سماجی انصاف کو کس نکتہ نظر سے دیکھیں؟ ہر سماج دوسرے کو انصاف سے عاری گردانتا ہے اور تہمتوں کے پہاڑ توڑ دیتا ہے۔ کہیں ایک چیز جائز تو کہیں ناجائز ہوتی ہے۔ بہرحال انصاف کا حق دار کسے کہیں، وہ جسے سزا ملے یا جزا پانے والے کو انصاف کا حق دار کہیں؟ تعین تو کرنا ہے۔

ہم نے انصاف کے ساتھ آج تک منصفی نہیں کی۔ کہیں نہ کہیں ہم بھی جرم کے مرتکب ہوئے اور ظالم کا ساتھ دیا، خواہ ظاہری ساتھ ہو یا عملی۔ سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل، مثال پسندی کے حامل لوگوں کی نظر میں ممکن ہے۔ حقیقت پسند لوگ انصاف کے حصول کو حق تو سمجھتے ہیں لیکن حالات کے مطابق خود کو ان حالات سے نکلنے کے قابل بھی سمجھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ