کائنات کے اولین ستاروں کی باقیات دریافت

یہ ستارے بگ بینگ کے فوراً بعد بنے تھے اور موجودہ ستاروں سے بالکل مختلف تھے۔

اس خیالی تصویر میں ایک گیس کا بادل دکھایا گیا ہے جس میں مختلف قسم کے کیمیائی مادے موجود ہیں جو مختلف ایٹموں کی نمائندگی کرتے ہیں (ESO/L. Calçada, M. Kornmesser)

ماہرین فلکیات نے کائنات کے سب سے پہلے ستاروں کے دھماکوں کے آثار دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس دریافت سے محققین کو بگ بینگ کے بعد پہلے ستاروں کی تشکیل کے وقت ہونے والے واقعات کے بارے میں بہتر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

تحقیق کی قیادت کرنے والی سائنس دان اینڈریا سیکارڈی نے اس حوالے سے کہا: ’پہلی بار ہم زمین سے بہت دور گیس کے بادلوں میں پہلے ستاروں کے دھماکوں کے کیمیائی نشانات کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جب 13.5 ارب سال پہلے ابتدائی ستارے بنے تھے تو وہ ان ستاروں سے بہت مختلف تھے جو اب ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ وہ زیادہ سادہ اور ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنے تھے اور شاید ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑے بھی۔‘

ان ستاروں کی پیدائش کے فوراً بعد خیال کیا جاتا تھا کہ وہ سپرنووا نامی بڑے دھماکوں سے ختم ہو گئے تھے۔ اس سے ان کے چاروں طرف پھیلی گیس میں بھاری عناصر خارج ہوئے جس کے نتیجے میں نئے ستارے بنتے گئے اور مزید بھاری عناصر نکلنے لگے۔

یہ عمل اس کائنات کی تخلیق کی کلید تھا جو آج ہمارے ارد گرد موجود ہے لیکن سائنس دان ان کے بارے میں جاننے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیوں کہ وہ مر چکے ہیں۔

تاہم محققین ان کیمیکل عناصر کو تلاش کرکے ان کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہیں جو ان پہلے ستاروں کی موت کے وقت پیچھے رہ گئے تھے۔

اب یورپی رصد گاہ یورپین سدرن آبزرویٹری کی بہت بڑی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے بالکل ایسا ہی کیا ہے۔

ماہرین فلکیات نے ان تین دور دراز گیس کے بادلوں کا مشاہدہ کیا جو اس وقت موجود تھے جب کائنات اپنی موجودہ عمر کے محض 10 یا 15 فیصد والے حصے میں تھی۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ ان قدیم ستاروں کی باقیات ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑے گئے اور یہی ان کیمیائی فنگر پرنٹ کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے انہیں کویزار (quasars) کی تلاش کرنے کے دوران دریافت کیا۔ کویزار تیز روشنی کا منبع ہوتے ہیں جنہیں انتہائی جسیم بلیک ہولز (supermassive black holes) سے توانائی ملتی ہے۔ جب وہ کائنات میں سفر کرتے ہیں تو وہ ان گیسوں کی چھوٹی چھوٹی نشانیاں اٹھا لیتے ہیں جن سے وہ گزر چکے ہیں، اور سائنس دان انہیں زمین پر اپنے آلات استعمال کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

امید ہے کہ ان باقیات کے ڈیٹا کو اولین ستاروں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ کائنات کس طرح سادہ عناصر سے ان طاقتور اور پیچیدہ ستاروں تک پہنچی جو آج ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔

‘Evidence of first stars-enriched gas in high-redshift absorbers’ نامی اس مطالعے کے یہ نتائج سائنسی جریدے ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس