سائنس دان کہکشاں سے سنائی دیتی ’دھڑکن‘ کا راز جاننے کے لیے کوشاں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک تیز رفتار ریڈیو برسٹ ہے توانائی کے پراسرار اور طاقتور دھماکے ہو سکتے ہیں جو خلا میں کہیں گہرائی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور جسے سائنس دان ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔

29 مئی 2018 کی یورپی سدرن آبزرویٹری کی جاری کردہ اس تصویر میں ملکی وے کی ایک سیٹلائٹ کہکشاں ٹرنٹولا نیبولا کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

سائنس دانوں نے ایک دور دراز کہکشاں سے آنے والا ایک غیر معمولی اور وقفے وقفے سے موصول ہونے والے سگنل کا پتہ چلایا ہے۔

دراصل یہ ریڈیو انرجی کا دھماکا ہے جو دل کی دھڑکن کے انداز سے چمک رہا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک تیز رفتار ریڈیو برسٹ ہے توانائی کے پراسرار اور طاقتور دھماکے ہو سکتے ہیں جو خلا میں کہیں گہرائی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور جسے سائنس دان ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔

لیکن ان دھماکوں میں ایک عجیب بات ہے اور وہ یہ کہ یہ جتنے تیز ہیں وہ قریب میں کہیں نہیں ہو سکتے اور عام طور پر ایف آر بیز کے ملی سیکنڈز کے بجائے یہ تین سیکنڈ تک روشن رہتے ہیں۔

یہ سگنل اس طرح کے ’متواتر‘ پیٹرن میں چمک رہا ہے جو کائنات میں شاذ و نادر ہی پایا جاتا ہے۔ توانائی کے یہ برسٹ ہر 0.2 سیکنڈ بعد دوبارہ نمودار ہوتے ہیں۔

میسی چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کاولی انسٹی ٹیوٹ فار ایسٹرو فزکس اینڈ سپیس ریسرچ سے وابستہ پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچر ڈینیئل مچلی نے کہا: ’کائنات میں ایسے اجسام فلکی نہیں ہیں جو باقاعدگی سے وقفے وقفے سے سگنل خارج کرتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’ہم اپنی کہکشاں میں جن مثالوں کے بارے میں جانتے ہیں وہ ریڈیو پلسر اور میگنیٹر ہیں جو گھومتے رہتے ہیں اور لائٹ ہاؤس کی طرح ایک وقفے کے بعد چمک پیدا کرتے ہیں۔ اور ہمارا خیال ہے کہ یہ نیا سگنل سٹیرائڈز پر میگنیٹر یا پلسر ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سگنل کو  FRB 20191221A کا نام دیا گیا ہے جو اب تک کا سب سے طویل عرصے تک چمکنے والا ایف آر بی ہے اور جس میں اب تک کا سب سے واضح اور متواتر پیٹرن کا پتہ چلا ہے۔

اس کا منبہ ایک دور دراز کہکشاں میں ہے جو زمین سے کئی ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔

تاہم اس کا ماخذ ایک معمہ بنا ہوا ہے حالانکہ ماہرین فلکیات کو شبہ ہے کہ یہ سگنل ریڈیو پلسر یا میگنیٹر سے نکل سکتا ہے۔

یہ دونوں قسم کے نیوٹران ستارے ہیں جو انتہائی پرہجوم تیزی سے گھومنے والے بڑے ستاروں کے ٹوٹے ہوئے مراکز ہو سکتے ہیں۔

ٹیم اس ماخذ سے مزید متواتر سگنلز کا پتہ لگانے کی امید رکھتی ہے جو اس کے بعد ایک اسٹروفزیکل کلاک کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر برسٹس کی فریکوئنسی اور ماخذ کے زمین سے دور ہونے کو کائنات کے پھیلنے شرح کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دسمبر 2019 میں کینیڈین ہائیڈروجن انٹینسٹی میپنگ ایکسپیریمنٹ (Chime) نے ممکنہ ایف آر بی کا سگنل کا سراغ لگایا تھا جس نے فوری طور پر خلا سے آنے والے ڈیٹا کو سکین کرنے والے پروفیسر مچلی کی توجہ مبذول کرا لی تھی۔

انہوں نے کہا: ’یہ غیر معمولی تھا۔ یہ نہ صرف بہت طویل تھا، جو تقریباً تین سیکنڈ تک جاری رہتا تھا، بلکہ ان کی وقفے وقفے سے ایسی پیکس بھی تھیں جو قابل ذکر حد تک درست تھیں، جو ایک سیکنڈ کے ہر حصے میں خارج ہو رہی تھیں۔ بوم، بوم، بوم جیسے دل کی دھڑکن۔ یہ پہلا موقع ہے جب سگنل خود متواتر تھے۔‘

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں رپورٹ ہونے والی اس دریافت کو ایم آئی ٹی کے محققین سمیت Chime اور ایف آر بی کے اراکین نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔ اس کی وضاحت ایک مقالے میں کی گئی ہے جس کا عنوان ’ Sub-second periodicity in a fast radio burst ‘ ہے۔

اس خبر میں پریس ایسوسی ایشن کی اضافی رپورٹنگ شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس