’یہ ٹائم مشین ہے‘: دنیا کی سب سے طاقت ور خلائی دوربین روانہ

چاند جتنی دوری سے شہد کی بڑی مکھی کے جسم کی حرارت کو دیکھ پانے والی دوربین جیمزویب زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور اپنا کام کرے گی۔

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے دنیا کی سب سے طاقت ور خلائی دوربین جیمزویب ٹیلی سکوپ مدار میں روانہ کر دی۔

تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے دوربین کو خلا میں بھیجنے میں کئی بار تاخیر ہوئی۔ یہ دوربین ایک ایسے خلائی مقام کی جانب بھیجی گئی ہے جس کا زمین سے فاصلہ 15 لاکھ کلومیٹر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیمزویب خلائی ٹیلی سکوپ کی تیاری میں تین دہائیاں لگیں اور اربوں ڈالرز خرچ ہوئے۔ دوربین کو جنوبی امریکہ میں فرنچ گیانا کے کورو خلائی مرکز سے آریان فائیو راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا۔

اس موقعے پر ناسا کے سائنسی مشنز کے سربراہ تھامس زربوکن کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن کتنا زبردست ہے۔ یہ حقیقی کرسمس ہے۔‘

ناسا نے یہ دوربین یورپی اور کینیڈا کے خلائی اداروں ای ایس اے اور اے سی ایس کے ساتھ مل کر تیار کی ہے۔

ای ایس اے کے سربراہ کے بقول انہیں: ’یہ کہنے میں بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے بالکل ٹھیک ٹھیک خلائی راکٹ کو مدار میں بھیج دیا اور یہ کہ آریان فائیو کی کارکردگی انتہائی شاندار تھی۔’

یہ بات بہت اہم تھی کیونکہ سپیس کرافٹ کو مدار میں داخل کرنے سے اس ایندھن کو بچانے میں مدد ملتی ہے جو دوربین اپنی حتمی منزل تک پہنچنے اور اس کے بعد کام شروع کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ دوربین کئی ماہ میں اپنے دوردراز مقام پر پہنچے گی۔

دوربین نئی شواہد زمین پر بھیجے گی جن کی مدد سے سائنس دانوں کو کائنات کے وجود اور نظام شمسی سے باہر زمین کی طرح کے سیاروں کو مزید سمجھنے میں مدد ملے گی۔

دوربین کا نام ناسا کے ڈائریکٹر کے نام پر ویب رکھا گیا ہے۔ یہ روائتی ہبل دوربین کے انداز میں کام کرے گی۔ تاہم انسانوں کو دکھائے گی کہ تقریباً 14 ارب سال پہلے اپنی پیدائش کے قریب تر وقت پر کائنات کیسی تھی۔

سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے ویب منصوبے کے شریک بانی جان ماتھر نے دوربین کی اس حساسیت کے بارے میں بتایا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان کے بقول: ’#جے ڈبلیو ایس ٹی چاند جتنی دوری سے شہد کی بڑی مکھی کے جسم کی حرارت کو دیکھ سکتی ہے۔‘ یہ تمام طاقت اربوں سال پہلے بالکل ابتدائی کہکشاؤں اور ستاروں کی تشکیل کے وقت خارج ہونے والی روشنی کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے دوربین کو خلا میں بھیجنے پر ناسا اور ویب ٹیم کو مبارک باد دی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ ٹیلی سکوپ’ اس کی طاقت کی شاندار مثال ہے کہ جب ہم بڑا خواب دیکھتے ہیں تو ہم کیا کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پہلے دوربین کا دیوقامت شیشہ اور سورج کی تمازت سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائی سن شیلڈ کھلیں گی۔ انہیں تہہ لگائی گئی تھی تاکہ وہ راکٹ کے اگلے حصے میں سما سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری صورت میں دوربین توقع کے مطابق 13.7  ارب سال پہلے موجود وقت اور کائنات کی تخلیق کا سبب بننے والے بگ بینگ کے محض 10 کروڑ سال کے اندر نہیں جھانک سکے گی۔ 

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دوربین کو ٹائم مشین قرار دیا ہے جو ’ہماری کائنات اور اس میں موجودہ ہماری مقام کے بارے میں بہتر فہم فراہم کرے گی یعنی ہم کون اور کیا ہیں۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے والی تحقیق ہے۔‘

راکٹ کے فضا میں بلند ہونے کے بعد نیلسن نے فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے کہا کہ ’ہم وہ ناقابل یقین باتیں دریافت کرنے جا رہے ہیں جن کا ہم نے کبھی تصور نہیں کیا۔‘

تاہم انہوں نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ’اب بھی لاتعداد ایسی چیزیں ہیں جنھیں عمدہ طریقے سے کام کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ بڑے انعام کے لیے بڑا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی