پشاور کی ’راکٹ‘ بسیں غائب ہونے والی ہیں

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بی آر ٹی بننے کے بعد ان بسوں کو پشاور کی سڑکوں سے ہٹا دیا جائے۔

’ان بسوں کی سواری کا اپنا ہی مزا تھا لیکن اب یہ بہت پرانی ہوگئی ہیں۔ ان کو تبدیل کرنا چاہیے۔ راکٹ کی طرح چلنے والی یہ بسیں اب تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔‘

حیات آباد کے رہائشی حاجی اسلم خان، گذشتہ 15 سالوں سے پشاور کی ان بسوں میں سفر کر رہے ہیں جو ’راکٹ بس‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ عنقریب یہ بسیں پشاور کی سڑکوں سے غائب ہونے والی ہیں۔ 

کسی دلہن کی طرح ٹرک آرٹ سے سجی ان بسوں کو ’بیڈ فورڈ بس‘ کہا جاتا ہے۔ بیڈ فورڈ، گاڑیاں بنانے والی ایک برطانوی کمپنی ہے جو یہ بسیں سامان کی نقل و حمل کے لیے بناتی تھی۔

برطانیہ کے شہر بیڈفورڈ شائر میں واقع یہ کمپنی 1986 تک یہ بسیں بناتی رہی، لیکن اس کے بعد ان کی تیاری بند کردی گئی۔

اس کمپنی کی بنائی ہوئی ان بسوں کی تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں برآمد شروع ہوگئی اور انہیں سواریوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ بعد میں اسی کمپنی نے کراچی میں بسوں کی مقامی طور پر تیاری (مینوفیکچرنگ) بھی شروع کر دی۔

یہ بسیں آپ کو صرف پشاور اور کراچی کی سڑکوں پر ہی دکھائی دیں گی۔

یہ بسیں ٹرک آرٹ کے خوبصورت رنگوں سے مزین ہوتی ہیں اور ان کے عقب پر مختلف مشہور لوگوں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔

حاجی اسلم کہتے ہیں کہ انہوں نے ان بسوں پر 15 سال سفر کیا کیونکہ پشاور میں یہی بسیں تھیں جو ان کے گھر کے سامنے والی سڑک سے گزرتی تھیں۔

پشاور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے گل بخت آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ بسیں پہلے سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کی جاتی تھیں لیکن مقامی مکینکوں نے انہیں بعد میں سواریوں کے لیے بنانا شروع کر دیا اور اس میں نشستیں وغیرہ نصب کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق پشاور میں پہلے تقریباً 300 بیڈفورڈ بسیں تھیں لیکن ان میں آدھی سے زیادہ سکریپ کر دی گئی ہیں اور اب شہر میں صرف 100 کے قریب بسیں چل رہی ہیں۔

پشاور میں یہ بسیں مختلف روٹس پر چلتی ہیں لیکن اب زیادہ تر انہی روٹس پر پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کوریڈور بنایا گیا ہے تاکہ عوام ان روٹس پر بی آر ٹی کی مدد سے سفر کرسکیں۔

روٹس کے حساب سے ان بسوں کو نمبر الاٹ کیا گیا تھا جیسا کہ 6B بس چمکنی سے سفر کا آغاز کرنے کے بعد فیز 3 کو کراس کرتے ہوئے فیز 2 تک پہنچتی ہے جبکہ 1 نمبر بس چمکنی سے فیز 1 تک کا سفر کرتی ہے۔

ان بسوں میں 30 سیٹیں ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر لوگ جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑے ہوکر سفر کرتے ہیں۔ بسوں میں خواتین سواریوں کے لیے ڈرائیور کے دائیں جانب کچھ سیٹیں مختص ہیں جن پر مرد سواریوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔

بیڈفورڈ بسوں کی آخری رسومات

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پشاور میں بی آر ٹی بننے کے بعد ان بسوں کو سڑکوں سے ہٹا دیا جائے۔

اس حوالے سے حکومت نے ایک اشتہار کے ذریعے ان بسوں کے مالکان کو بتایا ہے کہ وہ بسوں کی تفصیلات حکومت کو جمع کرائیں تاکہ انہیں پیسے دے کر یہ بسیں خرید لی جائیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ ان بسوں سے وابستہ ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو بی آر ٹی بسوں میں ملازمت دی جائے گی۔

بیڈفورڈ بسوں کی ایک تاریخی حیثیت بجا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ پشاور کی فضا کو بھی آلودہ کردیتی ہیں۔ ان بسوں میں سے کچھ 1970 کے ماڈل کی بھی ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں سڑکوں پر چھوڑنا انسانی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے کیونکہ اس سے نکلتا کاربن بہت مضرِصحت ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا