پشاور بی آر ٹی بند ہونے کا خدشہ: معاملہ ہے کیا؟

پشاور کے لاکھوں شہریوں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے والی بی آّر ٹی کا بدھ سے بند ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ بس سروس چلانے والی کمپنی کو فنڈز کی عدم ادائیگی ہے۔

ڈائیوو پاکستان کے مطابق خیبر پختون خوا حکومت کی جانب سے منگل چھ جون کو ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بدھ سے پشاور بی آر ٹی سروس بند کر دی جائے گی (فائل فوٹو اے ایف پی)

پشاور میں تقریباً  70 ارب روپے سے بننے والے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو خیبر پختونخوا کی نگران حکومت کی جانب سے واجب الادا رقم کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث بند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے روزانہ لاکھوں سفر کرنے والے متاثر ہوں گے۔

پشاور میں بی آرٹی کو ڈائیوو ایکسپریس سمیت تین مختلف نجی کمپنیاں چلا رہی ہیں۔ جن کی نگرانی سرکاری ادارے ٹرانس پشاور کی ذمہ داری ہے۔

بس سروس کے آریشن کو چلانے کی غرض سے خیبر پختون خوا حکومت بی آر ٹی کو سالانہ سبسڈی کی مد میں فنڈز فراہم کرتی ہے۔

تاہم بی آر ٹی کی متوقع بندش کی وجہ محض فنڈز کی  ادائیگی میں تاخیر نہیں ہے بلکہ سالانہ ادائیگیوں کا مؤخر ہونے کے پیچھے کچھ دوسرے عوامل بھی کارفرما لگتے ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو نے کوشش کی ہے کہ اس معاملے کی تہ تک جا کر یہ معلوم کر سکے کہ آخر یہ مسئلہ کیا ہے اور بی آرٹی کو چلانے والی کمپنی ڈائیوو پاکستان کو حکومت کی جانب سے رقم کیوں فراہم نہیں کی جاری ہے۔

ٹرانس پشاور اور بی آر ٹی

بی آر ٹی کو چلانے تمام تر ذمہ داری ٹرانس پشاور نامی سرکاری کمپنی کی ہے جو ایک خود مختار ادارہ ہے، جبکہ روزانہ دو لاکھ سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے والی بی آرٹی کا آپریشن اور دیکھ بھال ڈائیوو ایکسپریس پاکستان نامی نجی ادارے کے ذمے ہے۔

خیبر پختون خوا حکومت نے بی آر ٹی کی 244 بسوں کی دیکھ بھال اور دوسرے کاموں کی خاطر ڈائیوو پاکستان کو ادا کیے جانے والے تقریباً 75 کروڑ روپے روک رکھے ہیں۔

 ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں شمالی کوریا میں قائم ہونے والی ڈائیوو پاکستان کے 60 شہروں کے درمیان بس سروس فراہم کر رہی ہے، جبکہ یہی کمپنی انڈیا میں کمرشل گاڑیاں بنانی والی کمپنی کے طور ٹاٹا موٹرز کے اشتراک سے کام کر رہی ہے۔

ٹرانس پشاور کے دستاویزات کے مطابق ڈائیوو پاکستان کی ذمہ داریوں میں بی آر ٹی بسوں کی دیکھ بھال و مرمت، ڈرائیوروں کو ملازمت پر رکھنا، صفائی اور دیکھ بھال کے لیے ملازمین رکھنے کی ذمہ دار ہے۔

بی آر ٹی سٹیشنز میں ٹکٹوں کی فروخت، حفاظت اور سلامتی، باتھ روموں کی صفائی وغیرہ، کسٹمر سروسز، بائیسکل سروس، لائٹوں کی دیکھ بھال، اور وہاں نصب آلات اور مشینوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری چینی کمپنیوں بشمول سانٹل ٹیکنالوجی اینڈ ٹریڈنگ، بیجنگ ای ہوالا انفارمینشن ٹیکنالوجی، اور ایل ایم کے ریسورس پاکستان کے ذمے ہے۔  

بی آرٹی سٹیشنز میں نصب لفٹوں اور برقی زینوں کو چلتے رکھنا اور دیکھ بھال پروٹیک نامی نجی کمپنی کے حوالے ہے، جبکہ سٹیشنز میں لائٹوں اور دیگر آلات کی دیکھ بھال اور جنریٹرز، پمپس، یو پی ایس اور فیول سروس کی ذمہ داریاں بالترتیب میسی انٹرپرائزز اور سی ای ایم ایس اینڈ ای سی ایل جے وی کمپنیوں کو دی گئی ہیں۔  

ڈائیوو پاکستان صوبائی حکومت کو ،طلع کیا ہے کہ اجب الادا رقم کی عدم ادائیگی کی سورت میں وہ بی آرٹی سروس کو معطل کر دیا جائے گا۔ 

اس حوالے سے نگران حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ شاہد خان خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مذکورہ رقم منگل (آج) تک ریلیز کر دی جائے گی۔

شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ ڈائیوو پاکستان پشاور میں تقریباً دس کنال رقبے پر ٹرمینل قائم کیے ہوئے ہے اور  اس زمین کی لیز 2022 میں ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈائیوو پاکستان نے گذشتہ نو ماہ سے ٹرمینل کی زمین کا ماہانہ 16 لاکھ روپے کا کرایہ ادا نہیں کیا۔ ’یہ لوگ پچھلے نو مہینوں سے مفت میں پشاور ٹرمینل کو استعمال کر رہے ہیں۔‘ 

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شاہد خٹک نے حال ہی میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو ایک چٹھی میں ڈائیوو پاکستان کو پی آر ٹی آپریشن کی مد میں پچاس فیصد رقم ادا کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ باقی پیسے ڈائیوو ٹرمینل کے خالی ہونے کے بعد دی جائے۔ 

خط میں لکھا گیا ہے: ’باقی 50 فیصد رقم ڈائیوو کو بی آر ٹی بسیں چلانے کے لیے تب ادا کی جائے گی جب وہ پشاور ڈائیوو ٹرمینل خالی کرے کیونکہ ان کی لیز ختم ہو چکی ہے اور کرایہ بھی ادا کرے۔

’اس سلسلے میں اگست 2022 میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے ڈائیوو پاکستان کو متنبہ بھی کیا لیکن ابھی تک انھوں نے ٹرمینل خالی نہیں کیا ہے۔‘

شاہد خٹک نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ گذشتہ حکومت کے دوران ہوا تھا۔

مذکورہ چٹھی میں مزید لکھا گیا ہے کہ ڈائیوو کمپنی سے موجودہ مارکیٹ رینٹ کے مطابق کرایہ وصولی کیا جائے، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ بھی ہو گا۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے آڈت کی غرض سے بی آر ٹی کے آپریشنز میں ملوث تمام کمپنیوں کو اب تک جاری کی گئی رقوم کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ اگست 2022 میں ڈائیوو پاکستان کو پشاور ٹرمینل خالی کرنے اور کرایہ ادا کرنے کا نوٹس جاری کر چکی ہے۔

نوٹس کے مطابق ڈائیوو پاکستان کے ساتھ جنوری2013  میں طے پانے والا معاہدہ اکتوبر2022  میں ختم ہو چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے یکم ستمبر2022  کے ایک اجلاس نے ڈائیوو پاکستان کو پشاور ٹرمینل کے واجب الادا کرائے کی ادائیگی اور ٹرمینل خالی ہونے تک بی آرٹی چلانے کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ 

 وزیر ٹرانسپورٹ شاہد خٹک نے بتایا: ’ڈائیوو کی جانب سے ابھی تک نہ کرایہ ادا کیا گیا ہے اور نہ ٹرمینل خالی کر رہے ہے۔‘

ڈائیوو کا موقف

ڈائیوو بی آر ٹی پشاور کے ڈپٹی جنرل مینیجر زاہد علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو رابطہ کرنے پر بتایا کہ ڈائیوو ٹرمینل اور پشاور بی آر ٹی دو الگ معاملات ہیں اور دنوں کے معاہدے بھی الگ الگ محکموں سے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت دونوں کو جوڑ رہی ہے۔

زاہد علی نے بتایا کہ ڈائیوو کمپنی گذشتہ بیس سال سے پشاور میں ٹرمینل استعمال کر رہی ہے جس متعلق پہلا معاہدہ 2002 میں ہوا تھا، جبکہ سال2013  میں اس کی تجدید ہوئی اور اکتوبر 2022 میں یہ معاہدہ ختم ہوا۔

’معاہدہ ختم ہونے کے بعد ہم نے حکومت کو خط لکھ کر بتایا کہ ہم معاہدے کو رینیو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں پر ٹرمینل ہم نے تعمیر کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’ہمیں اس وقت بتایا گیا کہ آپ ہمیں نقشہ اور دیگر تفصیلات فراہم کریں اور اس کے بعد اسسمنٹ کی غرض سے معاملے کو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بھیجوایا گیا اور زمین کا 19 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے نیا کرایہ مقرر کیا گیا۔  

زاہد علی مطابق صوبائی حکومت نے اپنے ہی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مقرر کردہ کرائے کو کم قرار دیتے ہوئے اعتراض اٹھایا۔

انہوں نے کہا: ’تب سے اب تک ہم نے کئی بار پچھلی حکومت اور موجودہ حکومت کو خطوط بھیجے لیکن معاملہ حل نہیں ہو رہا۔‘

ڈائیوو پاکستان کے اہلکار کا دعویٰ تھا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس ان کی کمپنی کے (ٹرمینل کی) سکیورٹی کی مد میں پچاس لاکھ روپے پڑے ہیں جو کرائے کی مد میں کاٹ لیے جائیں تو محض پانچ ماہ کا کرایہ بقایا رہ جائے گا۔

’لیکن تقریبا دو کروڑ کرائے کی مد میں حکومت نے بی آر ٹی کی 75 کروڑ روپے کی رقم روک رکھی ہے۔

’اگر کرنا بھی ہے تو صوبائی حکومت ہمیں واجب الادا بی آر ٹی کے 75 کروڑ روپوں میں سے دو کروڑ ٹرمینل کے کرائے کی مد میں کاٹ لے اور باقی رقم ہمیں فراہم کر دی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی تین ماہ سے ڈیزل تقریباً چودہ سو ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں خرچ کر رہی ہے۔

تو اگر آج (منگل) حکومت نے رقم فراہم نہ کی تو ہم بدھ سے بی آر ٹی بسیں چلانے کے قابل نہیں رہیں گے کیونکہ ہمارے پاس ڈیزل کے پیسے بھی نہیں ہیں۔‘ 

ڈائیوو پاکستان نے پیر کو صوبائی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں اس سال چار جولائی تک پشاور ٹرمینل خالی کرنے کی ہامی بھری اور حکومت کو ٹرمینل کی زمین کی سکیورٹی کی رقم میں سے کرایہ منہا کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ باقی ماندہ ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان