بی آر ٹی: خواتین کی تعداد میں اضافہ، مزید نشستوں کی ضرورت

اس سال بی آر ٹی بسوں کے مسافروں کی یومیہ تعداد میں 20 ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے اور روزانہ 70 ہزار خواتین ان گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں۔

بی آر ٹی بسوں میں سفر کے دوسرے کئی فوائد کے علاوہ ایک وقت پر پہنچنا ہے کیونکہ بی آر ٹی شاہراہوں پر ٹریفک کبھی جام نہیں ہوتا (تصویر: اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اپنی نوعیت کے پہلے بڑے منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں خواتین کی تعداد میں اضافے کے بعد مخصوص نشستوں کی مزید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

بسیں اور نشستیں کم ہونے کی وجہ سے صبح سات سے رات دس بجے کے درمیان ہر بس میں بھیڑ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اکثر اوقات دھکم پیل کی صورت حال بن جاتی ہے۔

مختلف خواتین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رش بڑھنے کی وجہ سے ان کے لیے اکثر اوقات بس میں کھڑے رہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے بی آر ٹی منصوبے کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ٹرانس پشاور سے بات کی، جن کی ترجمان صدف کامل نے اس کی تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف خواتین مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ بی آر ٹی میں سفر کرنے والے مرد مسافروں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

صدف کامل کا کہنا تھا کہ ٹرانس پشاور سال رواں کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین مسافروں کی تعداد جو پہلے تقریباً 22 فیصد تھی، بڑھ کر 25 فیصد پر پہنچ گئی ہے، جبکہ مسافروں کی مجموعی تعداد جو رواں سال یومیہ ڈھائی لاکھ تھی اس وقت دو لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسافروں کی مجموعی تعداد میں سے 70 ہزار سے زیادہ خواتین ہیں اور اس تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔

صدف کامل نے بتایا کہ بی آر ٹی منصوبے میں کل 244 بسیں شامل ہیں، جن میں سے 158 گاڑیاں اس وقت چل رہی ہیں جبکہ مزید 64 بسیں گذشتہ ہفتے پشاور پہنچی ہیں۔

’نئی آنے والی بسیں جب آپریشنل ہو جائیں گی تو اس سے مسافروں کو ریلیف ملے گا۔‘

ٹرانس پشاور کی ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’نئی بسوں میں ضروری لوازمات پورے نہ ہونے کے باعث انہیں بی آرٹی شاہراہ پر نہیں چلایا جا رہا۔ نئی بسوں کے آپریشنل ہونے کے بعد گاڑیوں کی کل تعداد 220 ہو جائے گی۔‘

ہر بی آر ٹی بس میں 10 سے 12 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جبکہ دو گنا تعداد میں سیٹیں مردوں کے لیے ہیں۔

بس میں نارنجی رنگ کی پانچ نشستیں، جو جسمانی طور پر مخصوص افراد کے لیے مختص ہوتی ہیں، ان پر بھی اکثر اوقات مرد مسافر براجمان نظر آتے ہیں۔  

رش کے باعث بی آر ٹی بسوں کے اندر مسافر اکثر نشستوں کے درمیانی راستے میں کھڑے ہو کر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس سے خواتین مسافروں کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ آیا ٹرانس پشاور نے خواتین مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے ان کے لیے بسیں مخصوص کرنے پر غور کیا ہے؟ صدف کامل نے کہا کہ ان کے ادارے میں اس معاملے پر کافی غور و خوص ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانس پشاور کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دو دو گھنٹوں کے وقفے سے ایک گاڑی صرف خواتین کے لیے چلانے کی صورت میں بسوں کا خالی رہنا خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مرد اور خواتین مسافر مخصوص وقت پر مخصوص بس کا انتظار نہیں کرتے اور یوں ادارے کو مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

خواتین کی تعداد میں اضافہ کیوں؟

بی آر ٹی بسوں میں خواتین مسافروں کی تعداد میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ایک سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے مناسب ذرائع کی عدم دستیابی کو قرار دیا جاتا ہے۔

پشاور شہر کے مغرب میں جدید بستی حیات آباد اور شہر کے اندر اور گردو نواح میں واقع بڑے رہائشی اور تجارتی مراکز بشمول یونیورسٹی روڈ، صدر، گلبہار، حتی کہ چمکنی تک بحفاظت اور آرام دہ سفر کا واحد ذریعہ اس وقت بی آر  ٹی بسیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بی آر ٹی منصوبے کے شروع ہونے کے فوراً بعد پشاور کے اکثر شہری نئے طریقہ کار سے نابلد ہونے کی وجہ سے ان بسوں میں سفر کرنے سے کتراتے رہے۔

اکثر شہریوں کے لیے بی آر ٹی بسوں کا کارڈ بنانا اور اس کا استعمال، بجلی کی سیڑھیوں پر چڑھنا اترنا اور لفٹ استعمال کرنا نہ صرف دشوار تھا، بلکہ اکثر ان سہولتوں کے استعمال کو معیوب بھی سمجھتے تھے۔

تاہم بی آر ٹی بسوں کے نہایت کم کرائے اور آرام دہ سفر پشاور کے شہریوں کے لیے مشکل اور معیوب سہولتوں کے استعمال کے طریقے سیکھنے اور انہیں اپنی عادات کا حصہ بنانے کے لیے بڑی کشش ثابت ہوئے۔

اس لیے بی آر ٹی بسوں کے چلنے کے کچھ عرصے بعد ہی ہر طبقے، عمر، شعبے اور معاشی پس منظر رکھنے والے مرد و خواتین شہریوں نے بی آر ٹی سٹیشنوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

بیشتر ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بی آر ٹی سٹیشنز کے قریب واقع تعلیمی اداروں کی طالبات ان اداروں کی یا نجی ٹرانسپورٹ میں سفر کے بجائے ان بسوں میں سفر کو ترجیح دیتی ہیں۔  

یہ مظہر صرف طالبات تک محدود نہیں ہے بلکہ اساتذہ، ڈاکٹر، نرسیں، تاجر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے پشاور کے شہری خصوصاً خواتین بی آرٹی میں سفر کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس سے صنف نازک سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین