بی آر ٹی: مسافروں کی تعداد مطلوبہ اہداف سے 70 فیصد کم

بی آر ٹی چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور کے اعداد و شمار کے مطابق دو سالوں میں 10 کروڑ سے زائد مسافروں نے بی آر ٹی میں سفر کیا ہے۔

بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بسوں کی کمی کے باعث زیادہ رش ہونے کی وجہ سے بی آر ٹی پر سفر کرنا چھوڑ دیا ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے پشاور میں شہریوں کی سفری سہولت کے لیے بنائے گئے منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو مکمل ہوئے اب دو سال ہو گئے ہیں تاہم مسافروں کی تعداد کے حوالے سے طے کیے گئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے اہداف تاحال حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے کے فیزیبیلیٹی سٹڈی (کسی بھی منصوبے سے پہلے منصوبے کی افادیت کے بارے میں ایک سٹڈی کی جاتی ہے ) میں لکھا تھا کہ پشاور میں روزانہ سات لاکھ 92 ہزار سے زائد مسافر بس، ویگن، سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ، منی بس، ڈاٹسن پک اپ اور ٹیکسیوں میں سفر کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ پشاور بی آر ٹی پر کام کے آغاز سے پہلے بنائی گئی تھی جس میں کچھ اہداف رکھے گئے تھے کہ بی آر ٹی سے پشاور کے شہریوں کو کتنا فائدہ ہوگا۔

اس سٹڈی (جس کی کاپی انڈپینڈںٹ اردو کے پاس موجود ہے) میں لکھا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر  بی آر ٹی میں 2021 تک چار لاکھ 46 ہزار سے زائد مسافر سفر کریں گے جس میں ممکنہ طور پر 20 فیصد خواتین ہوں گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق منصوبہ شروع ہونے کے بعد موٹرسائیکل کے چار سے سات فیصد مسافر، سوزوکی پک اپ ٹرک کے 50 فیصد، پرانی بسوں کے 50 فیصد، رکشوں کے 50 فیصد، ٹیکسی میں سفر کرنے والوں کے 25 فیصد، منی بس کے 100 فیصد، ویگن کے 100 فیصد اور ڈاٹسن پک اپ میں سفر کرنے والوں کے 50 فیصد مسافر بی آر ٹی میں ممکنہ طور پر سفر شروع کر دیں گے۔

اسی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بی آر ٹی میں سفر کرنے والوں کی تعداد سالانہ 2020 تک 15 کروڑ 88 لاکھ سے زائد، 2025 تک ممکنہ طور یہ تعداد تقریباً 19 کروڑ، 2030 تک 22 کروڑ جبکہ 2036 تک بی آر ٹی میں سفر کرنے والوں کی سالانہ تعداد 26 کروڑ 61 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

تاہم دو سال مکمل ہونے پر بی آر ٹی کو چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بی آر ٹی میں دو سالوں میں 10 کروڑ سے زائد مسافروں نے سفر کیا ہے۔ اگر ان دو سالوں کو دنوں پر تقسیم کیا جائے تو یہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک لاکھ 36 ہزار مسافر بنتے ہیں جو ایشیائی ترقیاتی بینک کے اہداف سے تقریباً 70 فیصد کم ہیں۔

ٹرانس پشاور کے اعداد و شمار کے مطابق بی آر ٹی بسوں میں سفر کرنے کے لیے دو سالوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد ’زو‘ کارڈز جاری کیے گئے۔

یاد رہے کہ بی آر ٹی بسوں میں سفر کرنے کے لیے زو کارڈ کا ہونا لازمی ہے جس کے ذریعے مسافر سٹیشن میں داخل ہو کر بس میں سوار ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح بی آر ٹی بسوں میں ان دو سالوں میں کسی بھی دن سب سے زیادہ رائیڈر شپ دو لاکھ 70 ہزار رہی ہے جو ایشیائی ترقیاتی بینک کے اہداف سے تقریباً 50 فیصد کم ہے۔

بی آر ٹی بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں میں ٹرانس پشاور کے مطابق 25 فیصد تعداد خواتین مسافروں کی ہے جو ان بسوں کو سفری سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بی آر ٹی میں اس وقت مجموعی طور پر 158 بسیں مرکزی روٹ سمیت فیڈر روٹ پر چلتی ہیں۔ اس منصوبے پر حکومت کے مطابق 66 ارب روپے سے زائد لاگت آئی جس میں 53 ارب روپے سے زائد کا قرضہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بطور سافٹ لون لیا گیا ہے جس کی ادائیگی 2040 تک کرنی ہے۔

مسافروں کے روزانہ سفر کرنے کے اے ڈی بی کے اہداف کیوں حاصل نہ ہو سکے؟

اس حوالے سے ٹرانس پشاور کے ترجمان صدف کامل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اے ڈی بی نے جو ممکنہ مسافروں کی تعداد کے اہداف کی بات کی ہے تو وہ 220 بسوں کے حساب سے کی ہے جبکہ ابھی بی آر ٹی میں 158 بسیں چلتی ہیں جبکہ بعد میں اے ڈی بی کے کنسلنٹنٹ نے روزانہ رائیڈرشپ کی تعداد پر نظرثانی کر کے اس کو تین لاکھ 42 کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’بی آر ٹی نے 128 بسوں سے آغاز کیا تھا اور ایک دن میں  پیک رائیڈر شپ اس وقت ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد دوسرے سال فلیٹ میں 30 بسوں کا اضافہ کیا گیا جس سے پیک رائیڈر شپ ایک دن کی دو لاکھ 65 تک پہنچ گئی تھی۔

’مزید 62 بسیں پاکستان پہنچ گئی ہیں، جنہیں جلد ہی بی آر ٹی فلیٹ کا حصہ بنایا جائے گا جس سے مسافروں کی تعداد میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔‘

اے ڈی بی نے اپنی ایک رپورٹ میں بھی بسوں کی کم تعداد کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ منصوبے کے تین مہینوں تک روزانہ رائیڈر شپ کی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار ہے، تاہم بقیہ 40 فیصد بسیں فلیٹ میں شامل ہونے کے بعد یہ تعداد تین لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

بی آر ٹی کے آپریشنز چلانے والی ٹرانس پشاور کمپنی کے سال 2020 اور 2021 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹرانس پشاور کے مجموعی اخراجات 30 جون 2021 کو ختم ہونے والے مالی سال میں تقریباً تین ارب روپے تھے جو پچھلے سال کے مقابلے میں اخراجات میں تقریباً 1182 فیصد اضافہ ہے۔

بی آر ٹی کے سالانہ اخراجات تو تقریباً تین ارب روپے تھے تاہم آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے سے تقریباً 74 کروڑ کی آمدن ہوئی جس میں تقریباً 67 کروڑ روپے کرایوں کی مد میں حاصل ہوئے جبکہ باقی رقم زو کارڈ سے آئی ہے۔

اے ڈی بی کے دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی کے سالانہ اخراجات میں ہر سال تقریباً ایک ارب روپے کا اضافہ ہو گا۔

’ہم سبسڈی نہیں دیں گے‘

پی ٹی آئی  کے وزرا ماضی میں کئی مواقعوں پر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ بی آر ٹی پاکستان کے دیگر شہروں میں چلنے والے میٹرو منصوبوں سے اس لیے منفرد ہوگا کہ پشاور بی آر ٹی کو حکومت کی جانب سے سبسڈی نہیں دی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے بھی ایک انٹرویو میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ اگر بی آر ٹی بسوں میں روزانہ کی بنیاد پر تین لاکھ 60 ہزار سے زائد مسافر سفر کریں گے تو حکومت کو سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم منصوبہ شروع ہوئے دو سال ہوگئے اور دونوں سال حکومت کی جانب سے منصوبے کو ہر سال تقریباً دو ارب روپے سبسڈی دینی پڑ رہی ہے۔

ایک موقع خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک جن کے دور میں بی آر ٹی منصوبہ شروع ہوا تھا، نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ اپنا خرچ خود برداشت کرے گا اور حکومت کو سبسڈی نہیں دینا پڑی گی۔

بی آر ٹی منصوبے کے تحت پشاور کے مختلف مقامات پر پارکنگ پلازے اور دکانیں بھی تعمیر کی گئی ہیں اور حکومت کا خیال تھا کہ ان دکانوں اور پلازوں سے آمدن ہوگی جس سے بی آر ٹی کا خرچ برداشت کیا جا سکے گا۔

تاہم دو سالوں میں یہ پلازے تاحال نہ مکمل ہو سکے اور نہ ہی فعال ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرانس پشاور کے ترجمان صدف کامل سے جب پوچھا گیا کہ پلازے تاحال مکمل کیوں نہیں ہو سکے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی منصوبے سے منسلک پارکنگ اور کمرشل پلازوں پر پشاور ڈویلمپنٹ اتھارٹی کی جانب سے تعمیراتی کام جاری ہے اور ابھی تک ٹرانس پشاور کو حوالے نہیں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹرانس پشاور کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پارکنگ اور کمرشل پلازے جلد ہی مکمل کر کے ٹرانس پشاور کو حوالے کر دیے جائیں گے۔ ایسا ہونے کے بعد یقینی طور پر منصوبے کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔‘

اخراجات اور سبسڈی کے حوالے سے صدف کامل کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں عوامی فائدے کے لیے بنائے گئے منصوبے کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں اور یہ صرف ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور دیگر منصوبوں میں بھی ہوتا ہے۔

’بی آر ٹی کو چلانے کے لیے پہلے سال حکومت کی طرف سے دو ارب روپے سبسڈی دی گئی تھی۔ اس منصوبے کا معاشی فائدہ صرف آمدن تک محدود نہیں بلکہ یہ ماحول کے لیے فائدہ مند، وقت کی بچت، لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع جبکہ اس منصوبے سے کاروباری طبقے کو بزنس مواقع بھی ملے ہیں۔‘

باقی مسافر اب کیسے سفر کرتے ہیں؟

قیصر خان روزانہ کی بنیاد پر پشاور کے ایک سرکاری دفتر میں ڈیوٹی کرنے جاتے ہیں۔ ابتدا میں قیصر بی آر ٹی کے ذریعے دفتر جاتے تھے تاہم بسوں میں نہایت رش کی وجہ سے انہوں نے بسوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ ’بسوں میں اتنا رش اور دکھے ہوتے ہیں کہ اس میں بیٹھنا تو کیا کھڑے ہو کر سفر بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بی آر ٹی ایک اچھی اور سستی سفری سہولت ہے تاہم بسوں کی تعداد بڑھانی چاہیے کیونکہ زیادہ رش کی وجہ سے اب میں رکشہ استعمال کرتا ہوں۔‘

بی آر ٹی منصوبے کو شروع کرنے کے بعد صوبائی حکومت نے پشاور کی سڑکوں پر چلنے والی پرانی بسیں ختم کر دی ہیں اور ان کو سکریپ کرنے کا منصوبہ ہے جس میں اے ڈی بی کے اعداد و شمار کے مطابق سات لاکھ سے زائد مسافر سفر کرتے تھے۔

پشاور شہر میں  کریم اور اوبر نے بھی کام شروع کیا تھا اور اب ایسی ہی ایک نئی سروس ’ان ڈرائیور‘ بھی پشاور میں مقبول ہو گئی ہے۔

محمد عرفان پشاور کے علاقے گلبرگ کے رہائشی ہیں اور ان ڈرائیور کو سفری سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بی آر ٹی ایک سستی سواری ہے تاہم رش کی وجہ سے جب بھی مجھے کام کی جلدی ہوتی ہے تو میں ان ڈرائیور استعمال کرتا ہوں۔

’پہلے پرانی بسیں اور ویگن چلتی تھیں لیکن بی آر ٹی آنے کی وجہ سے وہ بند ہو گئیں، تو اب میرے پاس ان ڈرائیور یا عام ٹیکسی یا رکشے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہی سفر کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ بی آر ٹی بسوں کی تعداد اگر بڑھائی جائے تو رش کم ہو سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان