لاپتہ آبدوز میں سوار ارب پتی پاکستانی باپ اور بیٹے کی تلاش جاری

سمندر میں غرقاب بحری جہاز ٹائیٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنے کے لیے جانے والی لاپتہ آبدوز میں پاکستانی بزنس مین اور ان کے صاحبزادے بھی سوار تھے۔

سمندر میں غرقاب بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنے کے لیے جانے والی آبدوز جنوب مشرقی کینیڈا کی سرحد پر لاپتہ ہوگئی ہے جس میں پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان داؤد بھی سوار تھے۔

شہزادہ داؤد برطانیہ میں مقیم اور ایس ای ٹی آئی انسٹی ٹیوٹ میں ٹرسٹی ہیں، انہوں نے 2003 میں اینگرو کارپوریشن کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس وقت اس کے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شہزادہ داؤد پاکستان کے ادارے اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ اینگرو کارپوریشن نے کھاد، گاڑیاں بنانے، توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعے میں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

کیلیفورنیا میں قائم تحقیقی ادارے ’سیٹی‘ کی ویب سائٹ کے مطابق جس کے شہزادہ داؤد ٹرسٹی ہیں، وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ برطانیہ میں رہتے ہیں۔

داؤد خاندان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کے دو اراکین اہلِ خانہ آبدوز پر سوار تھے جن سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کے لیے سفر کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ہم اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کے لیے بہت مشکور ہیں اور ہر ایک سے درخواست کرنا چاہیں گے کہ وہ ایسے وقت میں خاندان کی رازداری کاخیال رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کے لیے دعا کریں۔‘

آبدوز کے غائب ہونے کی اطلاع اسے چلانے والے ادارے نے دی تھی۔

اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن نامی ادارے نے گذشتہ روز ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ آبدوز میں سوار افراد کو بچانے کے لیے ’تمام آپشنز کو متحرک کر رہے ہیں۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے بحری جہازوں اور طیاروں نے پیر کو ایک دن سے زیادہ عرصہ قبل لاپتہ ہونے والی آبدوز کو تلاش کیا۔

لاپتہ ہونے والی آبدوز میں موجود پاکستانی کاروباری شخصیات کے خاندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اپنے رفقائے کار اور دوستوں کی طرف سے ظاہر کی گئی تشویش پر ان کے بے حد مشکور ہیں اور سب سے (خاندان کے لاپتہ افراد) کی سلامتی کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔‘

پانی کی گہرائی کے باعث ریسکیو آپریشن بہت مشکل ہو گا

برطانوی وزارت دفاع (ایم او ڈی) نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ پانی کی گہرائی کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بہت مشکل ہو گا۔ اگرچہ برطانیہ سے مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا لیکن وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پانی کی گہرائی اس سے بہت زیادہ ہے جس میں نیٹو سب میرین ریسکیو سسٹم محفوظ طریقے سے کام کر سکتا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آبدوز پر برطانوی ارب پتی ہامیش ہارڈنگ اور معروف فرانسیسی غوطہ خور پال ہنری نارجیولیٹ بھی سوار تھے۔

اوشن گیٹ ایکسپڈیشنز نامی ادارے نے ٹائٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے لیے آٹھ دن کے مشن کی پیشکش کی تھی جس پر سوار ہونے کے لیے ایک شخص کا کرایہ ڈھائی لاکھ ڈالر تھا۔

شہزادہ داؤد کون ہیں؟

شہزادہ داؤد کے لنکڈان پر پروفائل کے مطابق وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف بکنگھم اور امریکہ کی فلاڈیلفیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔

شہزادہ داؤد ’داؤد ہرکولیس کارپوریشن‘کے وائس چیئرمین ہیں۔ شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ اور داؤد لارنسپور لمیٹڈ کے بورڈز میں بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ آبدوز میں ایک پائلٹ اور دیگر چار افراد سوار تھے اور اس میں 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کی صلاحیت تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ لاپتہ ہونے والی آبدوز اب بھی زیر آب ہے یا سطح سمندر پر آ چکی ہے کیوں کہ آبدوز سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی کوسٹ گارڈ کے ریئر ایڈمرل جان ماؤگر نے پیر کو اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ اور کینیڈا کے بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں نے کیپ کوڈ کے مشرق میں تقریباً نو سو میل (1450 کلومیٹر) کے علاقے میں آبدوز کو تلاش کیا گیا۔ تلاش میں مدد کے لیے ’سونار بوائز‘ کہلانے والے خصوصی آلات کو سمندر میں اتارا گیا ہے جو سمندر میں 13 ہزار فٹ کی گہرائی تک جاسکتے ہیں۔

ماؤگر کا کہنا تھا کہ ’یہ دور دراز کا علاقہ ہے اور اتنے دور واقع علاقے میں (آبدوز کی) کی تلاش کا کام ایک چیلنج ہے۔’

ماؤگر نے کہا کہ حکام نے مدد کے لیے تجارتی بحری جہازوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئرٹرز کے مطابق برطانیہ کے ارب پتی شہری ہارڈنگ کے سوتیلے بیٹے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر لکھا کہ ’ہارڈنگ آبدوز کے ساتھ لاپتہ ہو گئے ہیں‘ انہوں نے ان کی سلامتی کے لیے دعا کی درخواست کی۔ بعد ازاں انہوں نے اس پوسٹ کو ہٹا دیا اور انہوں نے خاندان کی نجی زندگی کے احترام میں ایسا کیا۔ 

قبل ازیں خود ہارڈنگ نے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ وہ آبدوز میں سوار ہوں گے۔ ان کی طرف سے مزید کوئی پوسٹ نہیں کی گئی۔ سمندر کی تہہ میں جانے کے لیے مہم میں شامل افراد جمعے کو سمندر کی طرف روانہ ہوئے اور ہارڈنگ کی پوسٹ کے مطابق آبدوز کا سمندر میں پہلا غوطہ اتوار کی صبح کے لیے طے پایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان