امید کا منجن خوب بکتا ہے یہاں

طالب علم خراب پرچہ دے کر بھی یہ امید لگائے بیٹھ جاتا ہے کہ شاید ٹیچر ایسے ہی نمبر دے کر پاس کر دے گا۔ زیادہ بیٹیاں بھی اس امید پر پیدا ہوتی ہیں کہ شاید اس بار بیٹا ہوجائے۔

(تصویر: پکسا بے)

پاکستان میں سب سے ذیادہ بکنے والا منجن ’امید‘ ہے۔ سڑک پر بیٹھے جعلی حکیم سے لے کر پیر فقیراور یہاں تک کہ حکمران بھی محض امیدیں بیچ رہے ہیں۔ آزادی کو 73 سال ہوگئے لیکن ہماری قوم ابھی تک امید کا دامن نہیں چھوڑ سکی ہے۔ سب اچھا ہے کی امید پر زندگی جیے جا رہی ہے۔

جو بھی حکومت آئی انہوں نے عوام کو جھوٹے نعروں اور وعدوں پر ٹرخائے رکھا۔ ہماری پالیسیاں بھی امیدوں کے سہارے چل رہی ہیں اور ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید کچھ اچھا ہوجائے۔ ہماری قوم ہر آنے والی حکومت کو یہ سوچ کر ہی اقتدار کی مسند پر بٹھا دیتی ہے کہ شاید یہ حکومت عوام کے فائدے کے لیے کچھ بہتر کرے۔ جب حکومت بن جاتی ہے تو پھر وہی امید کہ شاید اب اچھا ہو، شاید اب اچھا ہو۔ مگر کم ہی اچھا ہوتا ہے۔

بڑے بوڑھے انگریز کے دورِ حکومت کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں کہ اس وقت انصاف تھا اور جب انصاف کا بول بالا ہوتا ہے تو پھر باقی سب چیزیں خود بخود ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ ہماری قوم امید پر زندہ رہنے والی قوم ہے۔ ہر چیز پرامید نظر آتی ہے۔ جو ناممکن ہو پھر بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔

ایک بندہ مر رہا ہوگا مگر یہ تب بھی امید نہیں چھوڑتے۔ ڈاکٹری اور حکیمی سے لے کر ہومیوپیتھک سب آزمائے جاتے ہیں۔ دعائیں بھی جہاں سمجھ آئی پہنچ کر کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالب علم خراب پرچہ دے کر بھی یہ امید لگائے بیٹھ جاتا ہے کہ شاید ٹیچر ایسے ہی نمبر دے کر پاس کر دے گا۔ وہ رزلٹ تک اس امید میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اسی طرح کسان بھی فصل بو کر بارش کی امید لگا بیٹھتا ہے، کبھی بارش نہیں ہوتی تو کبھی زیادہ بارش سے امید پر اوس پڑ جاتی ہے۔ زیادہ بیٹیاں بھی اس امید پر پیدا ہوتی ہیں کہ شاید اس بار بیٹا ہوجائے۔

اس مرتبہ تبدیلی والی سرکار سے عوام کی بڑی امیدیں تھیں کہ یہ پچھلے حکمرانوں سے کچھ اچھا کریں گے لیکن ایک سال دیکھنے کے بعد بھی عوام ایک بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار ہیں۔

امید ایک ایسی چڑیا ہے جو کرپٹ اور دس نمبری بھی لگائے بیٹھتے ہیں کہ شاید وہ قانون سے بچ جائیں۔ اب نواز شریف، زرداری اور دیگر سیاست دانوں سمیت بیوروکریٹس سب کو ہی دیکھیں وہ بھی اس امید میں ہیں کہ وہ قانون کی پکڑ میں نہیں آئیں گے۔

ہر مسلمان جو نماز پڑھتا ہو یا نہیں پڑھتا ہو، چاہے نام کا ہی کیوں نہ مسلمان ہو وہ بھی امید ضرور لگائے رکھتا ہے کہ اللہ بخش دے گا۔ وہ یہاں پر نماز میں دنیاوی سوچ پالے گا۔ جھوٹ بولے گا۔ ہر وہ غلط کام کرے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ اللہ کے حقوق کو بہتر طریقے سے ادا کرکے اپنے نام کے ساتھ حاجی کا لاحقہ بھی لگا بیٹھے گا مگر انسانوں کے حقوق کا غاصب ہوگا، وہ بھی بخشش کی امید پر زندہ ہوگا۔ اس لیے تو پاکستان میں سب سے زیادہ بکنے والی چیز یہی امید ہے جو ہر دور میں، ہر حکومت میں بک رہی ہے۔ سادے لوگ اسی امید کے خریدار ہیں۔ ویسے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ امید پر دنیا قائم ہے ورنہ۔۔۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ