امریکی سفارت کار طلب، مشترکہ بیان پر احتجاج ریکارڈ کیا: دفتر خارجہ

امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو پیر کی شام وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں 22 جون 2023 کو جاری ہونے والے امریکہ انڈیا مشترکہ بیان کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

(سہیل اختر/انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان نے امریکہ اور انڈیا کی جانب سے جمعے کو آنے والے مشترکہ بیان پر پیر کو واشنگٹن سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو پیر کی شام وفاقی دارالحکومت میں وزارت خارجہ کے دفاتر طلب کیا گیا، جہاں انہیں 22 جون 2023 کو جاری ہونے والے امریکہ انڈیا مشترکہ بیان کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو مشترکہ بیان میں پاکستان کے غیر ضروری، یک طرفہ اور گمراہ کن حوالوں پر تحفظات اور مایوسی سے امریکہ کو آگاہ کیا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا: ’اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکہ ایسے بیانات جاری کرنے سے گریز کرے جو پاکستان کے خلاف اننڈیا کے بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک بیانیے کی حوصلہ افزائی کے طور پر سمجھے جائیں۔

’اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی میں تعاون بہتر طور پر آگے بڑھ رہا ہے اور یہ کہ اعتماد اور افہام و تفہیم پر مرکوز ماحول پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی دفتر خارجہ اس سلسلے میں پہلے ہی ایک تفصیلی بیان میں مشترکہ بیان کو غیر ضروری، گمراہ کن اور یک طرفہ قرار دے چکا ہے۔

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ کہ پاکستان کی دہشت گردی کے لیے قربانیاں دنیا میں سے سے زیادہ ہیں اور بڑی طاقتوں کی سنجیدہ شراکت کے بغیر دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانا کسی ایک ملک کے لیے تن تنہا ممکن نہیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسی روز قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اس وقت اندرونی مسائل سے دو چار ہے اور اندرونی معاملات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔

انہوں نے کہا تھا: ’اندرونی صورت حال پر قابو پا لینے کے بعد بیرونی مسائل کی طرف توجہ دی جائے گی۔‘  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان