روز آہستہ چہل قدمی کرنا جلد موت کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، تحقیق

جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق دن میں ساڑھے نو گھنٹے سے زیادہ بیٹھنا (کھڑے رہنے اور چلنے کے مقابلے میں) انسان کو موت کے خطرے سے زیادہ دو چار کر سکتا ہے۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ جسمانی سرگرمی چاہے وہ کسی بھی شدت کی ہو وقت سے پہلے موت کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے (پکسا بے)

ورزش کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آپ کو روز دو بار جِم جانے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی شدت کی جسمانی سرگرمی زندگی کے دورانیے پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق دن میں ساڑھے نو گھنٹے سے زیادہ بیٹھنا (کھڑے رہنے اور چلنے کے مقابلے میں) انسان کو موت کے خطرے سے زیادہ دو چار کر سکتا ہے۔

فعال رہنا ہمیشہ سے زندگی کا دورانیہ بڑھانے کا باعث سمجھا جاتا تھا لیکن اس تحقیق میں اس سرگرمی کی شدت کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ 

اس رپورٹ میں ہلکی سرگرمی جیسے کہ آہستہ چلنے، کھانا بنانے یا برتن دھونے، معتدل سرگرمی جیسے تیز چلنے، صفائی کرنے یا گارڈن کی گھاس کاٹنے کا موازنہ شدت کی سرگرمی جیسے دوڑنے، بھاری سامان اٹھانے یا کھدائی کرنے سے کیا گیا۔

اس تحقیق میں 36363 لوگوں کا شامل کیا گیا جن کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ تھی اور ان کو اوسط مدت 5.8 سال تک فالو کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق میں ثابت ہوا کہ جسمانی سرگرمی چاہے وہ کسی بھی شدت کی ہو وقت سے پہلے موت کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

موت کے خطرے میں سب سے زیادہ کمی ان افراد میں پائی گئی جو بہت زیادہ یا بہت کم متحرک رہتے ہیں۔ یہ کمی 60 سے 70 فیصد تھی۔

تحقیق کے مطابق عوام کے لیے صحت سے متعلق سادہ پیغام یہی ہونا چاہیے کہ ’کم بیٹھیں اور زیادہ سے زیادہ چلتے پھرتے رہیں۔‘

اس تحقیق کی سربراہی اوسلو کے نارویجن سکول آف سپورٹس سائنسز کے پروفیسر اُلف ایکیلوند نے کی جو جسمانی سرگرمی کے علوم کے ماہر ہیں اور ماضی میں بھی ایسی ریسرچ کر چکے ہیں۔

گذشتہ سال حکام کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ ہر پانچ میں سے چار افراد دل کے دورے یا سٹروک کی وجہ سے وقت سے پہلے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انگلینڈ کے پبلک ہیلتھ محکمے کے مطابق انگلینڈ میں ہر سال 75 سال سے کم عمر افراد کی 24 ہزار اموات میں سے 80 فیصد ان قابل انسداد وجوہات سے ہوتی ہیں۔ یہ روزانہ کی بنیاد پر 50 اموات بنتی ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت