کیپٹن گلُ شیر کا نمبرکالج کی لڑکیوں کو کیسے ملا؟

پی ٹی وی کے مشہور زمانہ ڈرامہ ’الفا، براوو، چارلی‘ کے کیپٹن گل شیر کی دلچسپ گفتگو۔

یہ 1998 کی بات ہے، جب پی ٹی وی پر ایک ڈرامے ’الفا، براوو، چارلی‘ کی دھوم مچی۔ اس ڈرامے کے مرکزی کرداروں میں فراز، کاشف، گل شیر اور شہناز  شامل تھے، جن کے اصل نام بالترتیب فراز انعام، عبداللہ محمود، قاسم شاہ اور شہناز خواجہ تھے۔ 

یہ ڈرامہ تین دوستوں کی فوجی زندگی اور ان کے ذاتی تعلقات پر مبنی تھا۔ رومانس، کامیڈی، شوخیوں، حسد اور دکھ جیسے جذبات سے بھرپور ڈرامے نے ناظرین کو آخر قسط تک اپنے حصار میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی اسے بھول نہیں پائے۔

جب بھی اس ڈرامے کی بات ہوتی ہے، تو اکثر کردار کیپٹن گل شیر نام لیا جاتا ہے۔ شہناز کے ساتھ ان کے شوخ مکالموں کی ادائیگی نے عوام کو اتنا محظوظ کیا کہ آج بھی سوشل میڈیا پر ان مناظر کی ویڈیو کلپس شیئر کی جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انڈپینڈنٹ اردو نے ناظرین کی دلچسپی کے لیے ’کیپٹن گُل شیر‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کیا تاکہ وہ تمام سوالات پوچھے جا سکیں جو ان کے پرستاروں کے ذہن میں ہیں۔

گل شیر کا اصل نام کرنل (ر) قاسم شاہ ہے اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ انٹرویو کے دوران قاسم نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے پہلے سنہرے دن ڈرامے اور اس کے بعد الفا، براوو، چارلی میں قدم رکھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا اس ڈرامے سے ان کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا اور آج بھی وہ جہاں جاتے ہیں لوگ ان کو نہایت محبت اور احترام دیتے ہیں۔

کرنل (ر) قاسم شاہ نے شہناز، فراز، اور کاشف کا حال احوال بھی سنایا اور بتایا کہ وہ آج بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

شہناز کے ساتھ  ریکارڈ کیے گئے ایک مشہور سین پر روشنی ڈالتے ہوئے قاسم نے ہنستے ہوئے بتایا ’شہناز کو بالکل بھی پشتو نہیں آتی تھی۔ میں نے بہت مشکل سے ان کو ہوٹل والے ڈائیلاگ یاد کروائے، جس کے بعد انعام کے طور پر شہناز نے مجھے اسی جگہ پر چائے بھی پلائی تھی۔‘

قاسم نے بتایا کہ وہ سابقہ فاٹا کے ایک ٹریول لاگ کے ساتھ ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مبنی ایک نئی فلم کیلاشہ پر بھی کام کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی