اپنا ٹائم آئے گا

بند کیجیے یہ نفرت، وحشت، آگ لگا کر تماشا دیکھنے کا کھیل، اس سے پہلے کہ اس آگ کی تپش آپ کی دہلیز تک پہنچ جائے۔

پولیس واقعہ سن کر روزنامچے پر ٹالنے کی کوشش کرتی ہے اور پکی ایف آئی آر لکھنے کے لیے اشاروں کنایوں میں چائے پانی کے تقاضے شروع ہوجاتے ہیں(اے ایف پی)

اپنا ٹائم آئے گا، گلی کے کونے پہ آئے گا، دکان کے تھڑے پہ آئے گا، گھر کی دہلیز پہ آئے گا، بیچ سڑک پہ آئے گا، بس اسٹاپ پہ آئے گا، ٹریفک سگنل پہ آئے گا، کہیں نہ کہیں تو بائیک پہ ہیلمٹ سوار آئے گا، کبھی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹائے گا، کبھی پتہ پوچھنے کے بہانے پاس بلائے گا، کبھی دوست بن کے گلے میں ہاتھ ڈال کے لے جائے گا، پھر پستول نکال کر پسلی سے لگائے گا، نکال بٹوا موبائل اور پیسہ نہیں تو جان سے جائے گا،اپنا بھی ٹائم آئے گا۔

یہ وہ نوحہ ہے جو کراچی کے شہری روزانہ پڑھتے ہیں۔ گھر، دفتر یا مارکیٹ سے نکلتے ہوئے یہی دھڑکا لگا رہتا ہے اب کوئی آیا تب کوئی آیا، سڑک پہ لوٹ مار کرنے والے سڑک چھاپ شکروں کا بھی سیزن چلتا ہے۔

کبھی ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور کبھی گدھ کی طرح ہر سڑک، گلی نکڑ پہ اپنے شکار کی تلاش میں منڈلاتے رہتے ہیں، جہاں کوئی شامت کا مارا نظر آیا اسی کو چھاپ لیا، آندھی کی طرح آئے پستول کے زور پہ چھینا جھپٹی کی اور طوفان کی طرح نکل گئے۔

یہ دانت نکوستے وہ بے رحم بھیڑیے ہوتے ہیں جو زندگی کی قیمت پہ جمع پونجی کا سودا کرتے ہیں، ذرا سی مزاحمت پہ گولی انسانی جسم میں اتار دیتے ہیں، مال ملا تو ٹھیک ورنہ کسی بے گناہ کی زندگی لوٹ کر نکل جاتے ہیں۔

چودہ سے بیس، بائیس سال کی عمر کے یہ ڈکیت مرد، عورت، بچہ، جوان، بوڑھا کچھ نہیں دیکھتے، ان کے لیے انسانی زندگی کی وقعت ایک ہدف سے زیادہ نہیں ہوتی۔

بے بسی، غصہ، لاچاری کی مجسم تصویر کسے کہا جاتا ہے یہ اس سے پوچھیے جس کی آنکھوں کے سامنے پسٹل کی نال اس کے بچے کے سر سے لگی ہوتی ہے، جو گالی بھی سنتا ہے اور پیسہ دیر سے نکلنے پہ تھپڑ بھی کھاتا ہے۔

جسے کبھی رات کے اندھیرے میں سٹریٹ لائٹ سے محروم سڑک پہ سٹریٹ کرمنل ذلیل کرتا ہے، کبھی بینک کی اے ٹی ایم میں کوئی لٹیرا گھس کر اس کی حق حلال کی کمائی چھین جاتا ہے۔

کوئی منت کوئی آہ و زاری اس لٹیرے کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی، رہی سہی کسر قانون کے نام نہاد محافظ روایتی ٹال مٹول سے پوری کرتے ہیں۔

کیا ضرورت تھی رات کو گھر سے نکلنے کی، کہاں سے آرہے تھے، کہاں جا رہے تھے، واقعہ کس تھانے کی حدود میں ہوا، بھئی فلانے تھانے میں جاؤ، یہ ہماری حد میں نہیں آتا، فلاناں تھانے والا رپورٹ لکھنے کے بجائے آپ کی رپورٹ لینا شروع کردیتا ہے۔

واقعہ سن کر روزنامچے پر ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے، پکی ایف آئی آر لکھنے کے لیے اشاروں کنایوں میں چائے پانی کے تقاضے شروع ہوجاتے ہیں۔

باہر دندناتے قانون شکن تو چند سیکنڈز میں کام کرجاتے ہیں لیکن تھانے میں تیوریاں چڑھائے سنتری بادشاہ اس وقت تک آپ کی جان نہیں چھوڑتا جب تک آپ حسب منشا یا بارگیننگ سے مٹھی گرم کرانے پہ راضی نہ ہوجائیں۔

اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو حلقہ احباب سے کئی لوگ ان لٹیروں کے ڈسے ہوئے ملیں گے۔ کئی وہ بدقسمت ہوں گے جنہیں ایک نہیں بلکہ دو، دو اور چار بار ایک ہی علاقے میں لوٹا گیا۔

بینک سے نکلنے والوں کی باقاعدہ مخبری کی جاتی رہی کہ کتنا پیسہ لے کر باہر آیا ہے اور کبھی گاڑی میں بیٹھتے ہی صفایا ہوا، کبھی گھر تک پیچھا کرکے رقم سے محروم کیا گیا۔

جب کبھی کوئی ڈکیت، لٹیرا ان شہریوں کے ہتھے چڑھا تو پھر بے بسی اور لاچاری غصے اور جنون میں بدلی ہے، پھر ایک نے نہیں مارا بلکہ پورا ہجوم ہی انصاف کی عدالت لگا بیٹھا، خود ہی قانون خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن گیا۔

پھر کبھی ایسے لٹیروں کو کورنگی میں تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا، کبھی ناظم آباد کے پل سے نیچے پھینکا گیا، کبھی نارتھ کراچی میں شعلوں کی نذر کردیا گیا۔

ایک ایسا مشتعل ہجوم جس نے ایک لٹیرے کو شہر میں ہونے والی باقی تمام چھینا جھپٹیوں کا ذمے دار بھی قرار دے دیا اور اس کے قتل کا جواز بھی بنا لیا۔

کچھ روز پہلے کراچی کی خدا داد کالونی کا پندرہ برس کا ریحان چوری کے الزام میں بہادر آباد سے پکڑا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر ایک مکان میں گھسنے کی کوشش کی، محلے والوں نے پکڑا تو ساتھی مبینہ طور پہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا لیکن ریحان ہجوم کی گرفت میں آگیا۔

اس ہجوم نے رسیوں سے باندھا، پائپ سے مارا، گن پوائنٹ پر ویڈیو بنائی، چوری کا اعتراف کرایا اور مار مار کر اس کی زندگی چھین لی۔

ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ریحان بے گناہ تھا یا گناہ گار۔ بظاہر قصائی کا کام کرنے والا ایک نوجوان اس مشتعل بھیڑ کے ہاتھوں موت کی گھاٹیوں میں اتر گیا جس میں سے کئی صرف اوئے اوئے مارو مارو زندہ نہ چھوڑو کی آوازیں سن کر جمع ہوئے تھے جنہوں نے صرف کانوں پڑتی صدائیں سن کر اس قتل میں اپنا حصہ ڈالا اور اب اس قتل کے پانچ ملزم سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اپنا ٹائم آئے گا‘ یہی لکھا تھا ناں ریحان کی ٹی شرٹ پر، یہی سوچا ہوگا اس نے کہ ایک دن اس کا بھی وقت آئے گا، لیکن اس بدنصیب نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا وقت اس ظالم سماج کے ہاتھ میں آگیا ہے، جس نے اس کے ایک مبینہ جرم کی سزا موت سوچ رکھی تھی۔

شہریوں سے لوٹ مار کرنے والوں سے نفرت کرتے کرتے بحیثیت معاشرہ ہم بھی جانور بن چکے ہیں، اگر اس نے چوری کی بھی تھی تو اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا لیکن ہمارے معاشرے میں موجودہ سماج کے خود ساختہ ٹھیکے داروں نے آن دی سپاٹ اپنا فیصلہ سنایا بھی اور اس پر عمل بھی کر ڈالا۔

آنسووں سے روتا بلکتا ریحان اپنے اس گناہ کی معافیاں مانگتا رہا جو شاید اس نے کیا بھی تھا یا نہیں، بھوک پیاس سے نڈھال، خوف سے زرد پڑتا چہرہ، آدھا برہنہ، ہاتھ جوڑتا رہا، روتا پیٹتا، قسمیں کھاتا رہا لیکن اس ہجوم میں شاید کوئی بھی انسان نہیں تھا۔

اگر ہوتا تو ایک شخص بھی کسی کا ہاتھ روک لیتا، کہتا کہ جانے دو غریب ہے یا قانون کے حوالے کردو، قانون جانے اور مبینہ قانون شکن جانے، مگر نہیں، اتنی مشکل سے ایک شکار ہاتھ لگا ہے کیسے جانے دیتے، نہ جانے کس کس کا غصہ، کہاں کہاں کی فرسٹریشن ایک بچے پہ نکال دی۔

جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے تو وہ جیتا جاگتا وجود ایک بے جان لاشے میں بدل چکا تھا۔ کیا فرق رہ گیا بندوق کی نوک پہ لوٹ مار کرنے والوں اور ہم جیسے نام نہاد پڑھے لکھے باشعور طبقے میں؟

لٹیرا اپنی تسکین کے لیے لوٹ مار کا بازار گرم کرتا ہے، اسلحے کے زور پہ ڈر کا دھندا چلاتا ہے اور ہم جیسے لوگ موقعے کی تلاش میں کسی کو بھی جان سے مار دیتے ہیں۔

کس نے کس حق سے ایک جان لے لی؟ کیا وجہ تھی، اور وجہ کس نے بیان کی تھی؟ کس نے وحشت کے کھیل پر اکسایا تھا؟ اور اندھے، گونگے، بہرے بنے لوگ بغیر سوچے سمجھے درندے بن گئے، نفرت کے زہر نے انسانیت کی جان لے لی۔

اگر آنے والے دنوں میں ہمیں انسان بن کر جینا ہے تو اس کے لیے قانون کے رکھوالوں اور اقتدار کے سنگھاسن پہ بیٹھنے والوں کو اپنا فرض نبھانا ہوگا۔

مجرم کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ جرم کی پرورش کو بھی ہاتھ سے روکنا ہوگا اگر آپ روک سکتے ہیں تو کیوں نہیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے؟ کیوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟ کیوں ایک لاش گرنے کے بعد دوسری موت کاانتظار کرتے ہیں؟

بند کیجیے یہ نفرت، وحشت، آگ لگا کر تماشا دیکھنے کا کھیل، اس سے پہلے کہ اس آگ کی تپش آپ کی دہلیز تک پہنچ جائے۔ پھر بہت دیر ہوجائے گی اور کسی کو جائے امان نہیں مل پائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر