ملک بھر میں سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع: وفاقی وزیر داخلہ

ایف بی آر نے اشیا کی غیرقانونی نقل وحمل اوراسمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان سے ملانے والی دو شاہراہوں پر چوکیاں قائم کرلی ہیں۔

نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق پورے ملک میں سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایف سی کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان سے رات کو افغانستان چینی سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔‘

سرفراز بگٹی کے مطابق یہ مہم نگران وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ کی ہدایات پر شروع کی گئی ہے۔

نگران وزیراعظم کو وزارت تجارت کی جانب سے منگل کو بریفنگ دی گئی تھی جس میں ملکی برآمدات بڑھانے اور سمگلنگ کے سدباب کے لیے مختلف ممکنہ حکمت عملیاں تجویز کی گئیں۔ تجارتی سامان کی بہتر سکیننگ اور معائنے کی استعداد بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم ہاوس سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بریفنگ میں افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت ہونے والی تجارت کےمختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا گیا۔

ملک میں سمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور قانونی راستوں سے تجارت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات زیر بحث آئے۔ وزیراعظم نے ملک میں سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز حکام کو غیر منظم سرحدی راستوں پر نگرانی کا نظام قائم کرنے کی ہدایت دی۔

دوسری جانب ایف بی آر نے اشیا کی غیرقانونی نقل وحمل اوراسمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان سے ملانے والی دو شاہراہوں پر چوکیاں قائم کرلی ہیں۔

ایف بی آر نے کوہالہ پل اورمنگلہ پل پرچیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور چیک پوسٹوں کے قیام سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کوہالہ پل پر قائم چیک پوسٹ کو دو موبائل ٹیموں کی سہولت ہوگی، کوہالہ پل چیک پوسٹ کادائرہ اختیار مری ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ اوربھوربن روڈ سے بارہ کہو تک ہے۔

ایف بی آر نے بتایا کہ میرپور کو پنجاب سے ملانے والی منگلہ روڈ پر ناکودار چیک پوسٹ قائم کی گئی جس کا دائرہ اختیار منگلا روڈ، دینہ بائی پاس، جی ٹی روڈ جہلم اور کلرسیداں کی طرف دھان گلی تک ہوگا اور ناکودارچیک پوسٹ کو ایک موبائل ٹیم کی بھی خدمات حاصل ہوں گی۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی ملک کے بڑے سرمایہ داروں سے حالیہ ملاقات میں بھی سب سے زیادہ اشیا کی سمگلنگ کو روکنے پر زور دیا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں حکومت کو چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے چیلنج کا سامنا ہے جس کے لیے پنجاب حکومت نے منگل کو اعلی سطح کا اجلاس بلایا جس کی کی صدارت نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے کی۔ اس موقع پر رپورٹ پیش کی گئی کہ کیوں چینی کی قیمتوں پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ؟

پنجاب حکومت کو پانچ ستمبر 2023 کو پیش کی گئی متعلقہ محکمے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی مہنگی ہونے کی وجہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم امتناع ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس انور حسین کے چار مئی 2023 اور یکم اگست 2023 کے چینی کی قیمتوں کے معاملے پر جاری کردہ حکم امتناعی نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے شوگر ملز، بروکرز اور سٹے بازوں کے ذریعے ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے۔ محکمہ خوراک پنجاب نے کابینہ کے لیے سمری پیش کی اور صوبائی کابینہ نے پنجاب فوڈ سٹفز آرڈر کے ذریعے چینی کی قیمت کے تعین کے اختیارات کین کمشنر پنجاب کو تفویض کیے تھے۔  کین کمشنر نے ایکس مل قیمت کے تعین کا عمل شروع کیا تاہم  لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جسٹس انور حسین نے یکم اگست  کو قیمتوں کے تعین کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا۔‘

پنجاب حکومت کی رپورٹ کے مطابق حالیہ کرشنگ سیزن کے دوران ملک میں کل 7.730 ملین میٹرک ٹن چینی پیدا ہوئی۔ جس میں سے 5.032 ملین میٹرک ٹن کا ذخیرہ پنجاب میں تھا۔ پنجاب کے ذخائر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی تھے۔ مئی میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے اس اعتراض پر کہ قیمتوں کے تعین کا موضوع صوبائی ہے۔ اگلی تاریخ 20 ستمبرمقرر کی گئی ہے۔ اس طرح  کسی نہ کسی بہانے سٹے آرڈر کی تاریخوں میں توسیع کی جارہی ہے اور شوگر ملز اور سٹے باز ایک سو روپے فی کلو قیمت وصول کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شوگر ملوں کے ذریعے اب تک تقریباً 1.4 ملین میٹرک ٹن چینی اوسطاً 40 روپے فی کلو اضافی کے حساب سے فروخت کی جا چکی ہے۔ شوگر ملز، بروکرز، ڈیلرز  نے اس طرح ایک کروڑ روپے کی ’خورد برد‘ کی اور 55 سے 56 ارب سٹے آرڈرز کی وجہ سے کمائی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’جسٹس شاہد کریم نے چینی کی سپلائی چین کی نگرانی کے خلاف حکم امتناعی بھی جاری کیا۔ صوبائی حکام چینی کی نقل و حرکت اور بلوچستان کے راستے افغانستان میں اس کی سمگلنگ کو روکنے سے قاصر ہیں۔  ایم ٹی چینی باہر سمگل کی گئی ہے اس سمگلنگ نے ملک اور بالخصوص پنجاب میں چینی کے سٹریٹیجک ذخائر کو ختم کر دیا ہے۔ یہ ذخائر آئندہ سال چینی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تھے۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گنے کی کاشت میں 17 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اگلے سال پاکستان کو چینی کی درآمد پر خاطر خواہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔ قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ عدالتوں کے حکم امتناعی ہیں۔

شوگر ملز اور بروکرز کا گٹھ جوڑ  قیمتوں میں اضافے کا ذمے دار ہے۔  پاکستان میں اس سال چینی کافی تھی۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شوگر ملز نے چینی افغانستان سمگل کرنا شروع کر دی۔ چینی کی قیمتیں بروکرز مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بڑھاتے ہیں۔ ملوں میں پڑی چینی ملکیت بدلتی ہے اور اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔

نگراں وزیراعلی پنجاب نے ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر چینی کے معاملے پر دیے جانے والے سٹے آرڈرز خارج کروانے کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔

شوگر ملز مالکان کیا کہتے ہیں؟

شوگر ملز مالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق: ’ملک میں چینی کی قلت کو برآمدات سے جوڑنے کا تاثر درست نہیں اور حقائق کے منافی ہے۔‘

بیان کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ شوگر سیزن 22-2021 کے اختتام پر پاکستان کے پاس تقریباً 10 لاکھ ٹن چینی کا اضافی ذخیرہ تھا۔ اس بھاری سرپلس کے باوجودحکومت نے صرف 2.5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

ملز مالکان کے بقول: ’شوگر سیزن 23-2022 کےبعد پاکستان کے پاس 8.15 ملین ٹن کا ذخیرہ تھا جس میں گذشتہ سال کا کیری اوور اسٹاک بھی شامل تھا اورچینی کی ماہانہ کھپت 0.65 ملین ٹن رہی  ہے۔ نومبر 2022 سے جولائی 2023 کے دوران 9 ماہ کے لیے کھپت 5.85 ملین ٹن رہی ہے۔ باقی تین ماہ کے لیے پاکستان کو 1.95 ملین ٹن کی ضرورت ہوگی، جب کہ پاکستان میں اسٹاک کی دستیابی 2.3 ملین ٹن ہے۔ اس وقت چینی کی قلت کا تاثر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

شوگر ملز مالکان کے مطابق: ’چینی کی قیمت میں اضافے کا تعلق اِس کی پیداواری لاگت میں اضافہ، بین الاقوامی مارکیٹ اور ڈالر کی قیمت میں انتہائی اضافہ اورسمگلنگ کی وجہ سے ہے۔ چینی کی سمگلنگ سے بچنے کے لیے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر شوگر انڈسٹری پرحکومتی اوور ریگولیشن برقرار رہا تو اس کے نتیجے میں گنے کی کاشت میں مزید کمی آئے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان