’مودی کی یہ بڑی غلطی کشمیریوں کے لیے آزادی کا تاریخی موقع ہے‘

وزیراعظم عمران خان کی عوام سے اپیل کہ وہ کشمیریوں کی حمایت کے لیے ہر ہفتے آدھے گھنٹے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

سوموار کی شام قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام پاکستانی اپنی آخری سانسوں تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے  (ریڈیو پاکستان)

 

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان آخری حد تک جائے گا اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس تک کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے ہر ہفتے گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر سے باہر نکلیں۔

سوموار کی شام قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام پاکستانی اپنی آخری سانسوں تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔

بھارت کے 5 اگست کے فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’نریندر مودی سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے تکبر میں آ کر یکطرفہ طور پر اپنے زیر انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے ایسا موقع فراہم کر دیا ہے جس کا اختتام کشمیر کی آزادی پر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’اب بھارت اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا اور اب دنیا اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور اور ظلم کا شکار کشمیریوں کی مدد کریں۔‘     

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مودی نے تکبر میں یہ فیصلہ کیا اور سوچا کہ کشمیریوں پر ظلم کریں گے اور وہ چپ ہو کر بیٹھ جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہے اور اب کشمیری اپنی آزادی کے لیے  لڑیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر کے سفیر بن کر دنیا کے ہر فورم پر ان کی جد و جہد کے حق میں اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے بھارت کو مسٔلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تاہم مودی حکومت نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ہمیشہ بات چیت سے راہ فرار اختیار کی۔

عمران خان کا کہنا تھا دنیا پاکستان کی بات سنے نہ سنے لیکن ان کا ملک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا جو اس کڑے وقت میں پاکستانیوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہییں۔ تاہم انہوں نے شکایتی لہجے میں کہا: ’اقوام متحدہ نے ہمیشہ طاقتور اقوام کا ساتھ دیا ہے جیسا کہ مشرقی تیمور کے معاملے میں اس عالمی تنظیم نے مسلم ملک انڈونیشیا میں ریفرینڈم کا انعقاد کرایا تھا۔ اسی طرح آج دنیا بھر کے سوا ارب مسلمان اور ضمیر رکھنے والے افراد کشمیر میں بھی ایسا ہی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

عالمی طاقتوں کے بھارت کی جانب جھکاؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بڑے بڑے ملک اپنے معاشی فوائد دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ہفتے کے روز بھارتی وزیراعظم کو اعلیٰ ترین ملکی اعزازات سے نوازا تھا۔ اس کے ردعمل میں پاکستان نے اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کی قیادت میں متحدہ عرب امارات جانے والے پارلیمانی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی جانب سے کسی جارحیت کا نتیجہ ایٹمی جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے جس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی۔

تقریر کے اختتام میں عمران خان نے قوم سے اپیل کی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس تک وہ کشمیریوں کی حمایت کے لیے ہر ہفتے آدھے گھنٹے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

انہوں نے رواں ہفتے جمعہ کے روز 12 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک عوام کو گھروں سے نکلنے کی تلقین کی ’تاکہ کشمیری عوام کو معلوم ہو سکے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان ان کی پشت پر کھڑا ہے۔‘

دوسری جانب فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات میں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جی سیون اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر کے درمیان سائیڈ لائن ملاقات ہوئی جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے ان سے کہا ہے کہ ’کشمیر کا معاملہ ہمارے قابو ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا: ’میں نے اس معاملے (کشمیر) پر بھارتی وزیراعظم سے بات کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم مودی پاکستانی وزیر اعظم سے بات کریں گے اور انہیں امید ہے کہ دونوں رہنما بہتر نتیجے پر پہنچ پائیں گے کیونکہ دونوں ممالک اپنے طور پر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔‘

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق نریندر مودی نے اس موقع پر کہا کہ ’بھارت اور پاکستان کے مابین تمام مسائل دوطرفہ نوعیت کے ہیں لہٰذا کسی تیسرے فریق کو ان میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔‘

نریندر مودی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان 1947 سے قبل ایک ملک تھے اور وہ یہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ساتھ بیٹھ کر اپنے تمام مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو غربت کے خلاف لڑنا چاہیے۔

        

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان