کھیلوں میں جنسی ہراسانی کی روایت اور برطانوی سائیکلنگ

دا سائیکلسٹ الائنس کی شریک چیئرپرسن آئرس سلیپینڈیل نے کہا ’میرے لیے یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہت سی سائیکلسٹ خواتین کو کوئی نہ کوئی ناخوشگوار تجربہ ہو چکا ہے۔

سائیکلسٹوں کی عالمی تنظیم یو سی آئی نے ہراسانی کے الزامات پر مبنی رپورٹ پر کوئی خاص تبصرہ  نہیں کیا۔(اے ایف پی)

برطانیہ میں سائیکلنگ کے مقابلوں کا اہتمام کرنے والی تنظیم برٹش سائیکلنگ نے کہا ہے کہ اسے اس رپورٹ پر انہیں بےحد تشویش ہے جس میں کھیلوں میں جنسی ہراسانی کی ہولناک روایت کی تفصیل دی گئی ہے۔ رولرنامی جریدے کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کئی انکشافات کیے گئے ہیں جن میں نامناسب رویئے سے لے کر جنسی حملے تک، سب کچھ شامل ہے۔ یہ الزامات زیادہ تر جونیرخاتون سائیکلسٹوں کی طرف سے لگائے گئے ہیں تاہم عالمی ٹور کی سطح پر بھی الزامات سامنے آئے ہیں۔

ایک جونیرسائیکلسٹ نے بتایا ہے کہ ریس کے بعد مساج کے موقعے پر ان کی سائیکلنگ ٹیم کے نگران نے ان پر جنسی حملہ کیا۔

پیشہ ورانہ سائیکلنگ سے وابستہ خواتین کے مفادات کے تحفظ سے متعلق تنظیم دا سائیکلسٹ الائنس نے جریدے رولر کو بتایا ’بہت سی سائیکلسٹ خواتین کو ان کے کریئر کے دوران ایک موقعے پر ناخوشگوار صورت حال کے سامنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔‘

’کھیلوں میں بری روایت یہ ہے کہ ہم ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اس کا حصہ نہیں ہے، یا ہم سامنے والے کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہو گا یا معاملے کو ذاتی طور پر نہیں لینا ہوگا۔‘

دا سائیکلسٹ الائنس کی شریک چیئرپرسن آئرس سلیپینڈیل نے کہا ’میرے لیے یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہت سی سائیکلسٹ خواتین کو کوئی نہ کوئی ناخوشگوار تجربہ ہو چکا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہراسانی کے خلاف مہم’می ٹو‘میں اظہار خیال کرنے والی خواتین کی طرح ہو سکتا ہے کہ ہر خاتون کو اس تجربے سے گزرنا پڑا ہو۔‘

سائیکلسٹوں کی عالمی تنظیم یو سی آئی نے ہراسانی کے الزامات پر مبنی رپورٹ پر کوئی خاص تبصرہ  نہیں کیا۔ عالمی تنظیم اس وقت خاتون سائیکلسٹوں کی ہیلتھ میٹ ٹیم کے بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے مینیجر پیٹرک وان گینسین کے خلاف ہراسانی کی متعدد شکایات کی چھان بین کر رہی ہے تاہم انہوں نے الزامات کی تردید کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برٹش سائیکلنگ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا:’یہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے۔ ہمارے لیے اور ایسے کسی بھی فرد کے لیے جسے ہمارے کھیل سے محبت ہے۔ برطانیہ میں سائیکلنگ کی ملک گیر تنظیم کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں کہ سائیکلنگ کے کھیل کی بہتری کے لیے ہمیں مثال قائم کرتے ہوئے قیادت کرنی ہوگی اور ہر سطح پر سائیکلسٹوں کے مفادات کی نمائندگی کرنی ہو گی۔‘

’تمام ایتھلیٹ ہماری بہترین معاونت اور وسائل کے حق دار ہیں اسی وجہ سے ہم نے برٹش سائیکلنگ کے ارکان کی تعداد بڑھا دی اور اس میں خصوصی مہارت کے حامل افراد کا اضافہ کیا ہے۔‘

’برٹش سائیکلنگ میں شامل ہونے والوں میں چیف سیف گارڈنگ افسربھی ہیں۔ ہماری پالیسیوں اور طریقہ کار جن میں تحفظ کی نئی پالیسی بھی شامل ہے، سے مطابقت یقینی بنانے کے لیے تنظیم کے نیٹ ورک کے آڈٹ سے لے کرانفرادی سطح پر ماضی کی بہترانداز میں چھان بین کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ہم زیادہ تعداد میں شکایات کا تیزی سے جائزہ لے سکیں۔ان اقدامات کا مقصد سائیکلنگ کو خواتین کے لیے محفوظ بنانا ہے۔‘

’اگر کوئی ایسے کسی رویئے کا شکار ہوتا ہے یا اسے کسی دوسرے فرد کے رویئے کے حوالے سے تشویش ہے تو ہم ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ برٹش سائیکلنگ کی تحفظ سے متعلق ٹیم سے رابطہ کریں۔ ٹیم سے رابطے کے لیے تفصیلات برٹش سائیکلنگ کی ویب سائیٹ پر’ہم سے رابطہ کریں‘کے ٹیب میں موجود ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل