انڈیا: سرکاری ہسپتال میں دو روز میں 16 بچوں سمیت 30 اموات

ریاست مہاراشٹرا کے حکام نے شنکر راؤ چوہان گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں اموات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع ناندیڑ میں واقع شنکر راؤ چوہان گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں داخل مریضوں کے رشتہ دار تین اکتوبر 2023 کو ان کی تیمارداری کے لیے موجود ہیں (فرانسس مسکارنہاس/ روئٹرز)

انڈیا کے ایک سرکاری ہسپتال میں ادویات اور عملے کی کمی کے باعث دو روز میں کم از کم 16 بچوں سمیت 30 افراد چل بسے۔

مغربی ریاست مہاراشٹرا میں ممبئی سے 620 کلومیٹر مشرق میں واقع ضلع ناندیڑ کے شنکر راؤ چوہان گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کے درمیان چھ نوزائیدہ بچوں اور چھ نوزائیدہ بچیوں سمیت 24 افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں۔

دو اکتوبر کو مزید سات مریض مردہ پائے گئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہوگئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مرنے والے مریض سانپ کے کاٹنے، معدے، گردے اور دل کے امراض میں مبتلا تھے۔ اطلاعات کے مطابق بچوں میں سے چار کی بیماری ناقابل علاج سطح پر تھی۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سربراہ ملکارجن کھرگے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ہندی میں لکھا: ’ان مریضوں کی موت دواؤں اور علاج کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ اگست 2023 میں ضلع تھانے کے ایک سرکاری ہسپتال میں پیش آیا تھا، جس میں 18 مریضوں کی موت ہو گئی تھی۔‘

انڈین نیشنل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لکھا: ’ریاست مہاراشٹرا کے ضلع ناندیڑ کے سرکاری ہسپتال میں ادویات کی کمی کی وجہ سے 12 نوزائیدہ بچوں سمیت 24 افراد کی موت کی خبر انتہائی افسوس ناک ہے۔‘

دوسری جانب ہسپتال کے ایک افسر نے یہ الزام لگا کر صورت حال کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی کہ زیادہ تر مریض ساتھ والے اضلاع سے نازک حالت میں لائے گئے تھے۔

سپرنٹنڈنٹ ایس آر واکوڈے نے کہا: ’ہم ضلعے کا واحد کیئر ہسپتال ہیں اور ہمارے پاس اکثر تشویش ناک حالت میں مریض آتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس آر واکوڈے نے اس بات سے انکار کیا کہ ہسپتال میں عملے یا دواؤں کی کمی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ہسپتال نے دعویٰ کیا کہ ادارے میں ضروری ادویات دستیاب ہیں اور اس کے پاس کافی فنڈنگ ہے۔ ہسپتال نے مزید کہا: ’دیگر مریضوں کا ضرورت کے مطابق علاج جاری ہے۔‘

مہاراشٹرا کے میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر دلیپ مہیسیکا نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو بدھ کو (مقامی وقت کے مطابق) دوپہر ایک بجے رپورٹ پیش کرے گی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صحت عامہ کی سہولیات کی حالت پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ یہ اموات ’بدقسمتی‘ ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا۔

راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا: ’بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی حکومت اپنی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے، لیکن بچوں کے لیے دوائیوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘

اس سے قبل رواں برس اگست میں بھی ضلع تھانے کے شہر کلوا کے چھترپتی شیواجی مہاراج ہسپتال میں 24 گھنٹوں میں 18 مریضوں کی اموات ہوئی تھیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت