انڈیا میں ورلڈ کپ اور پاکستان میں سیاست کا میدان گرم

گذشتہ روز جیسے ملک میں سیاسی میدان گرم رہا وہیں سوشل میڈیا پر بھی سیاست ہی موضوع گفتگو رہی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنے کارکنان سے 21 اکتوبر 2023 کو گریٹر اقبال پارک میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایک جانب انڈیا میں کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کا میدان سجا ہوا ہے تو دوسری جانب پاکستان میں گذشتہ روز سیاست کا میدان گرم رہا جس کے بعد اتوار کو قدرے خاموشی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ’آرام‘ کا دن ہے۔

گذشتہ کئی ماہ کے دوران کثرت سے کیا جانے والا سوال کہ کہ کیا چار سال بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے؟ کا جواب سب کو مل گیا ہے۔ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچے بھی اور لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کر کے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا۔

گذشتہ روز جیسے ملک میں سیاسی میدان گرم رہا وہیں سوشل میڈیا پر بھی سیاست ہی موضوع گفتگو رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرکٹ ورلڈ کپ  کے جنون کو مات دیتے ہوئے ایکس( ٹوئٹر) پر گذشتہ 24 گھنٹوں سے پانچ ٹاپ ٹرینڈ سیاسی صورتحال سے متعلق ہیں جن کے نام تو ان میں استمعال ہونے والی زبان اور القابات یہاں نہیں لکھے جا سکتے البتہ ان میں کی جانے والی منتخب پوسٹس پر ضرور بات ہو سکتی ہے۔

یہ ٹرینڈ کس نے شروع کیے یہ تو معلوم نہیں لیکن ان میں کچھ نواز شریف کی حمایت میں تو کچھ ان کی مخالفت میں ہیں۔

سیاسی میدان میں تو پاکستان تحریک انصاف زیادہ فعال یا سرگرم نظر نہیں آ رہی لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس کا موقف بیان کیا جا رہا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گذشتہ روز نواز شریف کی مخالفت میں چلائے جانے والے ٹرینڈز کے پیچھے پی ٹی آئی تھی یا نہیں۔

البتہ پی ٹی آئی کہ آفیشل پیجز سے عمران خان کی حمایت میں کئی ویڈیوز جاری کی گئیں اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کے ہونے والے جلسے کی پرانی ویڈیوز اور تصاویر سے عوامی مقبولیت کا موازنہ بھی کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے ایکس پر ایک ریاست دو دستور نا منظور کا نعرہ لگایا تو ن لیگ کی جانب سے لکھا گیا کہ ’ کہا تھا نا، میاں جدوں آئے گا، لگ پتہ جائے گا۔‘

پی ٹی آئی کے رکن اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے بھی گذشتہ روز کئی پوسٹس کیں جن میں انہوں نے مسلم لیگ کے گۓشتہ رات ہونے والے جلسے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیلنج بھی کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’اربوں روپے، سرکاری وسائل، بریانی، میڈیا اشتہار/ رشوت اور ٹرانسپورٹ سے ایک فلاپ اور پھیکہ جلسہ تو سب نے دیکھ لیا۔ ہمارا چیلنج؛ کوئی ٹرانسپورٹ اور سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کریں گے، خدیجہ شاہ، صنم جاوید اور باقی خواتین کو رہا کریں اور مینار پاکستان جلسے کی اجازت دیں۔‘

واضح رہے حماد اظہر نو مئی 2023 کے واقعات کے بعد سے روپوش ہیں اور صرف ایکس کے ذریعے پوٹس کرتے رہتے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل بھی اپنے لیڈر عمران خان کا پرچم لیے ایکس کے میدان میں آئے اور پوسٹ کی کہ ’عمران خان پر 200 سے زائد جعلی سیاسی مقدمات بنا کر، انسانی حقوق چادر چار دیواری کی بد ترین خلاف ورزیوں کے بعد کہتے ہیں بدلے کی خواہش نہیں، یہ 90 کی دہائی نہیں ہے جو عوام مزید بے وقوف بنے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق نے نواز شریف کو پاکیزہ روح قرار دے دیا، اپنے قائد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’یہ ایک پاکیزہ روح ہے، امن کا آدمی جو استحکام ہم آہنگی اور امن کے لیے واپس لوٹے ہیں۔‘

دوسری جانب مریم نواز کو بھی خوب سراہا گیا کہ کیسے اپنے والد میاں محمد نواز شریف کے لیے مشکل حالات کا سامنا کر کے انہیں ایک بار پھر پاکستان لانے میں کامیاب ہوئیں۔

ایکس پر ایک صارف بلال رضوان نے مریم نواز اور نواز شریف کی جذباتی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’مریم نواز جیسے بیٹیاں بہت قیمتی ہیں، مشکل وقت میں نواز شریف کے کے لیے ان کا ساتھ ان کی طاقت کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

علی سفیان نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’مینارِ پاکستان جو کہ ہماری قوم کی جدوجہدِ آزادی کی علامت ہے،  ایک بار پھر ایک اہم تقریب کی میزبانی کی، آج کا اجتماع تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جائے گا۔‘

جبکہ ایکس پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے عوامی استقبال کا بھی موازنہ کرتے ہوئے سچی اور زبردستی محبت کا ٹیگ بھی یا گیا۔

گذشتہ روز کے جلسے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی جس میں سٹیج پر موجود نواز شریف کے ہاتھ پر کبوتر بیٹھا ہوا ہے، جسے مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ نے خوبصورت ترین تصویر قرار دیتے ہوئے شیئر بھی کیا۔

اس پر عمران خان کے ایک کھلاڑی نے اپنے لیڈر کے ہاتھ میں عقاب کی تصویر بھی شئیر کر دی۔

اس مقابلے میں یاثر ملک نامی صارف نے بے نظیر بھٹو کی ایک پرانی تصویر شیئر کی جس میں جلسے کے دوران ان کے کندھے پر کبوتر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کاپی کا الزام بھی لگا دیا۔

عادل خان نامی صارف کہا کہ ’بے نظیر بھٹو کے کاندھے پر کبوتر خود سے بیٹھا تھا، کاپی کرنے کے لیے بے چاروں نے سٹیج پر کبوتر لاکر ہی چھوڑ دیے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ