کشمیر: مکمل منصوبہ بندی سے لے کر بدترین تشدد تک

تشدد کے دوران پانی مانگنے والے ایک شخص کو سڑک کے کنارے سے کیچڑ کی نالی کا پانی پینے کے لیے دیا گیا: کشمیری نوجوان۔

بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے محمد یاسین بھٹ کو ضلع پلوامہ میں ان کے گھر میں بستر سے گھسیٹ کر نکالا اور تشدد کیا

نوٹ: اس رپورٹ میں تصاویر حساس نوعیت کی ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔


جب بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے گورنر چار اگست کو دنیا سے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مخاطب تھے، اس وقت مسلم اکثریتی ریاست کے عوام شدید  اضطراب کا شکار تھے۔

اس متنازع خطے کو، جہاں کرہ ارض پر سب سے زیادہ فوجی تعینات ہیں، دہایئوں بعد بھی بدامنی کا سامنا ہے۔ یہاں کی عوام میں پانچ اگست سے پہلے ہی بے چینی پائی جا رہی تھی۔

انہیں خوف تھا کہ کچھ بہت برا ہونے جا رہا ہے کیوں کہ وادی میں اچانک ہزاروں اضافی فوجی بھیجے جا رہے تھے۔ تاہم دہلی سے نامزد کیے گئے گورنر نے اس بارے میں میڈیا کو یہ بتایا تھا کہ اس بے چینی کی کوئی خاص وجہ نہیں اور غیر ضروری طور پر افواہوں کے ذریعے ہوا دی جا رہی ہے۔

درحقیقت انہوں نے جھوٹ کہا تھا۔ اگلے ہی دن یعنی پانچ اگست کو انتہا پسند اور ہندو قوم پرست مودی حکومت نے اچانک اعلان کر دیا کہ کشمیر کی آئین میں خصوصی نیم خود مختار حیثیت کو یک طرفہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ان کو وفاق کے زیرانتظام علاقے قرار دے دیا گیا۔

اس فیصلے نے بھارت کے علاوہ پورے خطے کو چونکا دیا لیکن کشمیر جہاں ایک مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے مواصلات اور رابطوں کے تمام ذرائع معطل کر کے اور مکمل لاک ڈاؤن کے ذریعے یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہاں حالات بالکل ٹھیک ہیں۔

اب جبکہ خطے میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے والے سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد اور بدسلوکی کے واقعات کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، ’دی انڈپینڈنٹ‘ ان واقعات کا سراغ لگا سکتا ہے جن کی وجہ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہوا۔

اس کے لیے ہم ماضی میں جاتے ہیں۔رواں سال 26 جولائی کو بھارتی حکومت کی اس منصوبہ بندی کا پہلا اشارہ اُس وقت ملتا ہے جب فوج سے بھرے اس متنازع خطے میں 100 اضافی فوجی کمپنیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ اقدام خطے میں عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے دکھاوے کے طور پر کیا گیا، حالانکہ پچھلے مہینوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد میں واضح کمی ہوچکی تھی۔

کچھ دنوں کے بعد مزید 180 کمپنیوں کو وادی بھیج دیا گیا  لیکن اس بار ہوم سیکرٹری شالین کبرا نے عذر پیش کیا کہ ہمالیہ کے دامن میں واقع امر ناتھ مندر کے سالانہ میلے میں شرکت کرنے والے ہندو یاتریوں پر دہشت گرد حملوں کی خفیہ اطلاعات ہیں۔

اس حکم کے بعد مودی سرکار نے ایک ایڈوائزری نوٹس جاری کیا جس میں دہشت گردی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے سیاحوں اور یاتریوں کو اپنی حفاظت کے پیش نظر فوری طور پر وادی چھوڑنے کو کہا گیا۔

اس دوران اضافی بھارتی فوجیوں کی آمد ریاست کے دارالحکومت سری نگر کی سڑکوں پر خوف و ہراس اور الجھن پیدا کررہی تھی۔

دی انڈپینڈنٹ کی حاصل کردہ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کیسے پریشان حال طلبہ اپنے کالجز کی عمارتوں اور ہاسٹلز کو خالی کر رہے ہیں کیوں کہ فوج نے ان عمارتوں کو اضافی دستوں کی رہائش کے لیے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتوار کو اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں پڑھنے والے پارٹ ٹائم طلبہ جب چار اگست کو گھنٹوں سفر کرنے کے بعد کیمپس پہنچے تو ان کا سامنا بند دروازوں سے ہوا۔

اس دن کالج جانے کے لیے 70 کلومیٹر طویل سفر کرنے والی 28 سالہ خاتون شبانہ وانی نے بتایا انہوں نے اپنے پروفیسر کو فون کیا۔ ’میں نے ان سے کالج کی بندش کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ان کے پاس کوئی مناسب احکامات نہیں ہیں۔ انہیں ابھی پیغام موصول ہوا کہ کالج فوری طور پر بند ہوجائیں گے کیوں کہ فوج نے انہیں اپنے استعمال کے لیے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے اس دوران حکام نے تمام بڑے ہسپتالوں کو فوری طور پر سٹاک  کے حوالے سے مشق کرنے کا حکم دیا۔ ہسپتال کے ملازمین نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا وہ اتنی قلیل مدت میں سٹاک کی درست گنتی کرنے کے قابل نہیں تھے۔

ان تیاریوں کے نتیجے میں غیر مقامی لوگوں میں بھی افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا بھارت کے باقی حصوں سے آنے والے مزدور ٹیکسیوں میں صرف اتنے ہی سامان کے ساتھ  سری نگر سے نکل رہے تھے جتنا وہ اٹھا سکتے تھے جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے غیر مقامی طلبہ کو فورسز نے ان کی حفاظت کے پیش نظر ہاسٹلز سے نکال کر گھروں کے لیے روانہ کرا دیا۔

مواصلات کی بندش اور لاک ڈاؤن چار اگست سے ہی نافذ العمل ہو گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا اس وقت کی جانے والی تیاریوں کو سراہا نہیں جا سکتا تھا اور صرف سرکاری بیانات، جیسا کہ گورنر کی پریس کانفرنس میں صورتحال کو معمول کے مطابق بتایا جا رہا تھا اور اس کی وسیع پیمانے پر پھیلایا جا رہا تھا۔

پانچ اگست کو بھارتی حکومت کا اعلان، جس میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا جا رہا ہے، بہت سے کشمیریوں پر بجلی بن کر گرا۔

مودی حکومت کے اس اقدام سے متنازع خطے میں شدید ردعمل کی توقع تھی۔ دی انڈپینڈنٹ نے جنوبی کشمیر کے ان اضلاع کا دورہ کیا جو مزاحمتی تحریک کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ وہاں کے رہاشیوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز کی انتہائی بربریت اور عوامی تذلیل کی روداد سنائیں۔

ضلع پلوامہ کے علاقے نادا پورہ پری گام کے، جہاں فروری میں ایک جان لیوا خودکش بم دھماکے میں 40 بھارتی نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، رہائشیوں نے بتایا دفعہ 370 کے خاتمے کے اعلان کے گھنٹوں بعد پانچ اگست کی رات بھارتی سکیورٹی فورسز نے مقامی نوجوانوں کو انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔

22 سالہ محمد یاسین بھٹ نے بتایا بھارتی فوجی انہیں آدھی رات بستر سے گھسیٹ کر مرکزی سڑک پر لائے جہاں انہیں 11 دیگر شہریوں کے ساتھ قطار میں برہنہ کھڑا کردیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بات عیاں ہوگئی اُس دن اُس محلے سے گزرنے والی سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا گیا تھا اور فوجی مجرموں کو ڈھونڈنے کے لیے نوجوانوں کو گھیرے میں لے رہے تھے۔

یاسین نے بتایا انچارج آفیسر نے ان سے آرٹیکل 370 کے فیصلے کے بارے میں خیالات جانے۔ ’مجھے ماحول کی سنگینی کا احساس تھا لہذا اپنی حفاظت کے پیش نظر میں نے کہا 'ہم خوش ہیں، یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔‘ لیکن مجھے معلوم تھا اسے میری باتوں پر یقین نہیں تھا۔

یاسین کے مطابق ان سے اور دیگر لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے کپڑے اتار دیں اور پھر انہیں لاٹھیوں، بندوق کے بٹوں اور لاتوں سے پیٹا گیا۔ یاسین کے مطابق ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا، پورے گاؤں کا محاصرہ تھا اور ہر کونے پر فوج موجود تھی۔

انہوں نے مزید بتایا ’مار پیٹ کے دوران ہم میں سے اکثر لوگ بے ہوش ہوگئے۔ وہ ہمارے جسم کے نازک حصوں کو بجلی کے جھٹکے دیتے اور پھر تشدد شروع کردیتے۔‘

یاسین کے اہل خانہ نے ان کے پچھلے حصے اور رانوں پر شدید زخموں کے نشانات کی تصاویر دکھائیں جب کہ دوسرے خاندانوں نے بھی زخمی ہونے والے دیگر نوجوانوں کی تصاویر فراہم کیں۔

یاسین نے بتایا مار پیٹ کے دوران پانی مانگنے والے ایک شخص کو سڑک کے کنارے سے کیچڑ کی نالی کا پانی پینے کے لیے دیا گیا۔ ’انتہائی توہین اس وقت کی گئی جب  مار پیٹ کے اختتام پر ننگے مردوں کو ایک دوسرے کے اوپر لیٹنے کو کہا گیا۔ یہ ہراساں کرنا تھا جس سے ہمیں انتہائی توہین محسوس ہوئی۔

پڑوسیوں نے بھی واقعے کے بارے میں ملتے جلتے بیان دیے۔ 80 سالہ ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا وہ اس مار پیٹ کو شروع سے آخر تک دیکھ رہے تھے اور جب سکیورٹی فورسز روانہ ہوگئیں تو وہ زخمی نوجوانوں کو بچانے کے لیے ان کی جانب دوڑے۔

صرف یاسین ہی نہیں جنہوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز پر تشدد کے الزامات لگائے بلکہ جب سے کشمیر میں موجودہ بحران شروع ہوا ہے ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی فوج نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔

جمعے کو بی بی سی سے گفتگو میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ایک ترجمان نے کہا ’ہندوستانی فوج ایک پیشہ ور تنظیم ہے جو انسانی حقوق کو سمجھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے اور یہ کہ تمام الزامات کی ’فوری تحقیقات کی جاتی ہیں۔‘

پانچ اگست کی رات تقریباً دو بجے بھارتی مسلح افواج نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے نیو کالونی علاقے میں محمد مقبول خان کی رہائش گاہ پر دھوا بول دیا۔

فوجیوں نے دروازے کھٹکھٹانے شروع کر دیے۔ مقبول کی بہو شہزادہ بانو نے بتایا وہ افراتفری میں دروازہ کھولنے کے لیے بھاگیں۔

’انہوں نے سب کو صحن میں آنے کا حکم دیا۔ ہم سب جمع ہوگئے تو انہوں نے ہمارے نام پوچھنے شروع کیے۔‘ جیسے ہی انہوں نے 27 سالہ عامر خان کا نام سنا، جو الیکٹرانکس کی دکان چلاتے ہیں، انہیں گھسیٹ کر باہر لے گئے۔

شہزادہ نے کہا ’ہم نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کہا وہ عامر سے چند مکانات کی نشاندہی کروانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ سچ نہیں تھا۔‘

اگلی صبح جب وہ قریبی پولیس سٹیشن پہنچے تو انہوں نے عامر کو لاک اپ میں پایا۔ مقبول نے اہلکاروں سے ان کی حراست کی وجہ جاننا چاہی جس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ انہیں ’15 اگست کے بعد رہا کر دیا جائے گا (بھارت کا یوم آذادی، جب تشدد میں اضافے کا خدشہ تھا)۔

یہ کبھی نہ ہوا اور 18 اگست کو جب مقبول عامر کو ملنے گئے تو انہیں کمانڈنگ افسر نے بتایا کہ انہیں سری نگر کی مرکزی جیل بھیج دیا گیا ہے۔

یہ خاندان شہر پہنچا تاکہ عامر کے بارے میں جان سکے، جہاں انہیں بتایا گیا عامر اور ان کے گاؤں کے تین دیگر افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ (ایک ہنگامی قانون جو حکام کو کسی کو بھی دو سال تک کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے دو سال تک رکھ سکتے ہیں) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔   

ایک اور نوجوان جنہیں حراست میں لیا گیا تھا وہ 25 سالہ شاہد احمد بھٹ تھے، جن کے والد مشتاق احمد بھٹ ادویات کے تاجر ہیں اور مقبول سے چند میٹر کی دوری پر رہتے ہیں۔

تاہم مقبول کے برعکس انہیں نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کو کہاں رکھا جا رہا ہے۔ مشتاق کہتے ہیں ’کچھ وقت کے لیے وہ (شاہد)  پولیس سٹیشن میں تھے، بعد میں انہوں نے کہا کہ انہیں سرینگر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مرکزی جیل میں حکام کا کہنا تھا کہ وہ وہاں نہیں۔ مجھے کچھ نہیں معلوم میرا بیٹا کہاں ہے، آیا وہ زندہ ہے یا ہلاک ہو چکا ہے۔‘

سرکاری اہلکار مخصوص واقعات کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن وہ پانچ اگست کے بعد سے گرفتار افراد کی تعداد بتانے میں نہیں ہچکچاتے۔

ایک اہلکار نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا 4000 سے زائد افراد کو اس اعلان کے بعد سے حراست میں لیا گیا ہے، تاہم وہ کوئی حتمی تعداد نہیں بتاتے۔ شاہد اور عامر کی طرح کئیوں کے سالوں سال بغیر کسی عدالتی کارروائی کے جیل میں گزارنے کا خدشہ ہے۔  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا