میں کشمیر کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟

میں جمعے کو یومِ یکجہتیِ کشمیر پر تو باہر نہیں نکلی لیکن اس ہفتے ایک کشمیری کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے ضرور بات کروں گی۔

(اے ایف پی)

پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں گذشتہ جمعہ کشمیر سے یکجہتی کا دن خوب جوش و خروش سے منایا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں عوام سے دوپہر 12 بجے سے لے کر 12:30 تک کشمیریوں کے لیے اپنے دفاتر اور گھروں سے باہر نکلنے کی اپیل کی تھی۔

خان صاحب قوم کے اس عمل سے پوری دنیا کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف ہے۔

جمعے کو جب دفتر پہنچی تو دفتر کے باہر دو تین منی پک اپ وین موجود تھیں، اور قریب میں ہی مردوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بھی خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ ایک وین میں سپیکر رکھا ہوا تھا جس سے اونچی آواز میں ملی نغمے پورے علاقے کو سنائے جا رہے تھے۔ یہ سارا انتظام ہمارے دفتر کے قریب موجود ایک سرکاری دفتر کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ان سرکاری افسران کی مہربانی سے 12 بجے تک ہم نے وہ تمام ملی نغمے سنے جو بچپن میں ہم لہک لہک کر سکول کی اسمبلی میں پڑھتے تھے اور اب صرف ٹی وی پر یومِ دفاع پر ہی سنتے تھے۔

ہم نے اخبار کھنگالا کہ کہیں وزیرِاعظم نے یو ٹرن لیتے ہوئے جمعے کا پورا دن ہی عوام کو کھڑے رہنے کی ہدایت نہ کر دی ہو اور ہم اس ہدایت کو سننے سے محروم رہ گئے ہوں۔

خوش قسمتی کہیے یا بد قسمتی اس بار وزیرِ اعظم نے یو ٹرن نہیں لیا تھا۔ سرکاری ملازمین نے وزیرِاعظم کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ایک دو روز پہلے سے ہی اس یکجہتی گھنٹے کے لیے تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ آج ایکشن ڈے تھا۔

ٹھیک 12 بجے ملک بھر کے سرکاری دفاتر سے لوگ نکلے یا یوں کہیے کہ نکالے گئے، اور یوں ملک بھر میں وہ تاریخی احتجاج ہوا جس کی تصاویر اور ویڈیوز ہم سب نے سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ میں نے کچھ تصاویر اور ویڈیوز سری نگر میں رہنے والے مہراج کو بھی بھیجیں جو اس وقت اپنے مستقبل کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہراج 28 سال کا ہے۔ وہ آج کل ایک قریبی ملک سے آئے اپنے پی ایچ ڈی کے کاغذات ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد وہاں کے رہنے والے مختلف پابندیوں کی زد میں ہیں اور بیرونی دنیا کے ساتھ ان کے رابطے محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ مہراج کی بدقسمتی کہہ لیجیے، یہ سب تب شروع ہوا جب وہ سکالرشپ کے نتیجے کا انتظار کر رہا تھا۔

اسے پی ایچ ڈی میں داخلہ بھی ملا اور سکالرشپ بھی۔ اس سے پہلے کہ وہ خوش ہوتا اسے اپنے کاغذات کی پریشانی ستانے لگی۔ یونیورسٹی اسے کاغذات بھیج چکی تھی لیکن وہ کاغذات اب کہاں تھے، اسے کچھ نہیں پتہ تھا۔

انٹرنیٹ صرف پولیس سٹیشن میں آتا ہے۔ مہراج نے کسی پولیس والے سے جان پہچان بڑھا کر اپنا موبائل انٹرنیٹ سے جوڑا اور کاغذات کو ٹریس کرنے لگا۔ پتہ لگا کہ اس کے کاغذات کشمیر نہیں آ سکتے تھے تو کوریئر کمپنی نے انہیں دہلی میں انڈین پوسٹ کے حوالے کر دیا۔ انڈین پوسٹ نے اگلے ہی روز کاغذات سری نگر کے لیے بھیج دیے۔ اس بات کو بھی بہت دن ہو چکے تھے اور اس کے کاغذات کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ کئی بار سری نگر میں موجود انڈین پوسٹ کے دفتر جا چکا تھا۔ وہ کاغذات سے لاعلم تھے۔

پریشانی میں وہ کبھی یونیورسٹی سے رابطے کی کوشش کرتا تو کبھی مجھ سے۔ انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی وجہ سے اس کی ای میلز اور پیغامات اس کے فون تک ہی محدود تھے۔ میری بھیجی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی اس تک نہ پہنچ سکیں۔ اگر پہنچ جاتیں تو وہ جانتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کشمیر کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے۔

اس کے لیے ایسے احتجاج اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ اس وقت صرف اپنے کاغذات دیکھنا چاہتا ہے جو جانے کہاں ہیں۔

اب مہراج کے پاس آخری راستہ یونیورسٹی سے داخلے کی ڈیڈ لائن میں توسیع لینے کا رہ گیا ہے۔ اس نے مجھے آخری امید سمجھتے ہوئے فون ملایا۔ میں اور وہ ایک کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے والے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ میں جمعے کو تو کشمیر کے لیے نہیں نکلی لیکن اس ہفتے ایک کشمیری کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے ضرور بات کروں گی۔

میں یہ کر سکتی ہوں۔ اس سے بہت نہیں مگر ایک کشمیری کی مدد ضرور ہو گی جو اس وقت صرف اپنا مستقبل بچانا چاہتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ