مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف لے جانے کے امکانات کم

بیرسٹر احمر بلال صوفی کے مطابق پاکستان کے آئی سی جے کے پاس جانے سے متعلق وہ ابھی تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچے۔

سری نگر کے علاقے انچار صور ہ میں 23 اگست کو ہونے والے ایک مظاہرے میں کشمیری خواتین بھارت کے خلاف نعارے لگا رہی ہیں (اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وہاں کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان نے مشرقی پڑوسی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے رجوع کرنے کے امکانات پرغور کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن سرکاری حکام کے مطابق اس سلسلے میں ابھی وہ کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے گذشتہ ماہ ایک اجلاس میں بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی مبینہ نسل کشی اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی مختلف اوقات پر مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں اٹھانے سے متعلق حکومتی ارادوں کا اظہار کیا ہے۔

بھارت نے 5 اگست کو آئین میں ترمیم کے ذریعے اس کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ تب سے بھارتی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جبکہ بیشتر کشمیری سیاسی رہنما زیرحراست یا نظربند ہیں۔

اسی صورت حال کے پیش نظر پہلے پاکستان نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا تھا جس نے ایک غیر رسمی اجلاس میں کشمیر کی صورت حال پر مشورہ کیا۔

 دوسرے مرحلے میں پاکستان نے اس صورت حال کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی قوانین کے ماہرین مسئلہ کشمیر آئی سی جے لے جانے کی صورت میں پاکستان کی کامیابی سے متعلق زیادہ پر امید نظرنہیں آتے۔ بیرسٹر احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئی سی جے کے پاس جانے سے متعلق وہ ابھی تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں احمر بلال صوفی نے کہا ’میں اب تک قائل نہیں ہوں کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر آئی سی جے لے کر جانا چاہیے یا نہیں۔‘ تاہم انہوں نے اقرار کیا کہ وہ اس سلسلے میں تحقیق کے ذریعے مختلف امکانات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس میں آئی سی جے کے سامنے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکیل خاور قریشی نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ پاکستان 1948 کے نسل کشی سے متعلق کنونشن کے تحت بھارتی جموں وکشمیر کی صورت حال کے تناظر میں آئی سی جے سے رجوع کر سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں نے 1948 کے نسل کشی سے متعلق کنونشن پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔

خاور قریشی کے مطابق ’ایک ایسی ریاست کو جس نے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہو، نسل کشی کا ارادہ رکھتی ہو، یا نسل کشی کو روکنے میں ناکام رہی ہو، آئی سی جے کے سامنے کارروائی کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 تاہم خاور قریشی کے خیال میں بیان کردہ عوامل سے متعلق ثبوتوں کی غیرموجودگی میں پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر آئی سی جے کے سامنے پیش کرنا مشکل ہو گا۔

 آئی سی جے کا قانون کیا کہتا ہے؟

بین الاقوامی عدالت انصاف اقوام متحدہ کا عدالتی ادارہ ہے اور اقوام متحدہ کے میثاق کی شق 93کے مطابق (اقوام متحدہ کے) تمام رکن ممالک آئی سی جے کے قانون کے فریق ہیں۔

آئی سی جے قانون کی شق 36(1) کہتا ہے کہ ’عدالت کے دائرہ اختیار میں وہ تمام معاملات شامل ہوں گے جن کا فریقین حوالہ دیں گے۔ اور وہ تمام معاملات جو اقوام متحدہ کے میثاق میں یا خصوصی طور پر معاہدوں اور کنونشنز کے تحت فراہم کردہ ہیں۔

 

آئی سی جے قانون کے مطابق آئی سی جے کا دائرہ اختیار مندرجہ ذیل صورتوں میں بنے گا۔

(i)جب فریقین کوئی مسئلہ لے کر آتے ہیں۔ (ii)جب اقوام متحدہ کے میثاق میں کسی معاملے سے متعلق ذکر ہو(iii)جب دو ریاستوں نے کسی معاہدے یا کنونشن پر دستخط کیے ہو، وہ معاہدہ یا کنونشن قابل عمل ہو اور یہ معاہدہ اس کے تحت اٹھنے والے تنازعات کا آئی سی جے کے ذریعے حل کی اجازت دے۔(iv)اگر اقوام متحدہ کے قیام سے پہلے کا کوئی معاہدہ جو لیگ آف نیشنز کے بنائے گئے ٹریبونل یا بین الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت (آئی سی جے سے پہلے کی عدالت)کو بھیجنے کی اجازت دے آئی سی جے کے سامنے رکھا جائے گا(v)آئی سی جے اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق مجاز ادارے کی درخواست پر کسی بھی قانونی سوال پر مشاورتی رائے دے سکتا ہے(vi)جہاں ریاستوں نے لازمی طور پر اور بغیر کسی معاہدے کے آئی سی جے کے دائرہ کار کو قبول کیا ہو۔

پاکستان آئی سی جے کیوں نہیں جا سکتا؟

اقوام متحدہ کے اراکین میں سے 73 ممالک بشمول پاکستان اور بھارت نے آئی سی جے کے دائرہ کار کو قبول کیا ہوا ہے۔

تاہم آئی سی جے کے دائرہ کار کو قبول کرنے والے ممالک عالمی عدالت کے پاس اپنے اپنے اعلامیے بھی داخل کرتے ہیں جن میں وہ آئی سی جے کے دائرہ کار کی قبولیت سے متعلق بعض شرائط عائد کرتے ہیں۔

پاکستان نے اپنا آخری اعلامیہ 2017 میں جمع کروایا جبکہ بھارت کی طرف سے آخری اعلامیہ 1974میں داخل ہوا تھا۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر اور پاکستانی سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر پرویز حسن حال ہی میں چھپنے والے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ بھارت نے اپنے اعلامیے میں اس کے اور دولت مشترکہ کے کسی دورے رکن ملک کے درمیان تنازعات سننے کو آئی سی جے کی اہلیت سے خارج رکھا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کا اپنے اعلامیے میں دولت مشترکہ کے رکن پر قدغن لگانا دراصل پاکستان کو روکنا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت نہ لے جا سکے۔

ڈاکٹر پرویز حسن نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئی سی جے قانون کے آرٹیکل 36(3)کے تحت بھارت کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کر سکتا۔

کلبھوشن یادیو کیس

سوال اٹھتا ہے کہ جب بھارت کلبھوشن یادیو کا کیس آئی سی جے لا جا سکتا ہے تو پاکستان کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت میں کیوں نہیں اٹھا سکتا؟

ماہر قانون سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کا کیس 1963کے کونسلر رسائی کنونشن کے تحت آئی سی جے میں سنا گیا۔ اور پاکستان اور بھارت دونوں نے اس کنونشن پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا 1974کا اعلامیہ اس کنونشن سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق آئی سی جے کی عمومی دائرہ اختیار سے ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان