افغان سپیشل فورسز کی خاتون سپاہی کو برطانیہ بے سہارا چھوڑ گیا

چار بچوں کی والدہ خاتون سپاہی کو مغربی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سے فرار ہونا پڑا اور اب وہ جلاوطنی کے خوف سے ترکی میں غیر قانونی طور پر رہ رہی ہیں۔

25 مارچ 2014 کو کابل میں عسکریت پسندوں کے حملے کے دوران افغان سپیشل فورسز کے دستے افغان الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف بڑھتے ہوئے (رابرٹو شمٹ / اے ایف پی)

افغان سپیشل فورسز کی ایک خاتون سپاہی، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر برطانوی مسلح افواج کے بنائے گئے تربیتی یونٹ میں کام کیا، برطانیہ میں پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد روپوش ہیں۔

چار بچوں کی والدہ خاتون سپاہی کو مغربی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سے فرار ہونا پڑا اور اب وہ جلاوطنی کے خوف سے ترکی میں غیر قانونی طور پر رہ رہی ہیں۔

زہاب، جن کا نام ان کی حفاظت کے پیش نظر تبدیل کر دیا گیا ہے، نے اکتوبر 2021 میں وزارت دفاع (ایم او ڈی) کی ری سیٹلمنٹ سکیم کے تحت درخواست دی تھی، لیکن انہیں منتقل کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ سکیم افغانستان میں برطانوی مسلح افواج کے لیے یا ان کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے بنائی گئی تھی۔

ان کے سابق ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے دی انڈپینڈنٹ نے تحقیقاتی نیوز روم ’لائٹ ہاؤس رپورٹس‘ کے تعاون سے ثابت کیا کہ زہاب خواتین کے ایک منتخب کردہ گروپ میں شامل تھیں، جو کمانڈو فورس 333 کے لیے کام کرتی تھیں، جو ایک ایلیٹ افغان فائٹر یونٹ ہے، جسے برطانوی حکومت نے بنایا اور اس کے لیے پیسے دیے گئے تھے۔

زہاب نے کہا کہ ان کی درخواست کا مسترد ہونا برطانوی فوجیوں کی طرف سے دیے گئے دھوکے کی طرح محسوس ہوا۔

انہوں نے مزید کہا: ’تمام تر برطانوی وعدوں کے باوجود، لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

کابل میں ایک سابق دفاعی اتاشی کرنل سائمن ڈگنز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے کیس کو دیکھے اور کہا: ’خواتین کی اضافی کمزوری اور طالبان کی خواتین دشمنی کو دیکھتے ہوئے، یہ واقعی اہم ہے کہ ہم ان کا خیال کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’مجھے یہ سن کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ خاتون کو انکار کردیا گیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ہمارے لیے کام کیا بلکہ اگر انہیں افغانستان واپس بھیج دیا گیا تو انہیں انتہائی خطرہ ہوگا۔ حکومت اس معاملے کو جلد اور ہمدردی کے ساتھ دیکھے۔‘

اس ماہ کے اوائل میں لائٹ ہاؤس رپورٹس اور سکائی نیوز کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سی ایف 333 اور اس کی ذیلی یونٹ افغان ٹیریٹوریل فورس 444 (اے ٹی ایف 444) کے درجنوں سابق ارکان کو اگست 2021 کے بعد سے طالبان نے مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا یا قتل کیا۔

تین تہرے (ٹرپلز) کہلانے والے اور برطانیہ کی سپیشل فورسز (یو کے ایس ایف) کے کندھے سے کندھا ملا کر خدمات انجام دینے کے طور پر درج ان افغانوں کی مدد کرنے میں وزارت دفاع کی اس ناکامی کو محکمے کی اپنی ہی افغان منتقلی اور امداد کی پالیسی (اریپ) کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ یہ سکیم برطانیہ کے ساتھ خدمات انجام دینے والے اہل افغانوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔

تحقیقات میں پہلی بار یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس یونٹ کو برطانویوں نے پیسے دیے تھے اور ان کے ساتھ خدمات انجام دینے والے سابق فوجیوں کے مطابق سی ایف 333 یونٹ میں افغان کمانڈوز برطانویوں کے انتہائی قریب رہ کر کام ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ افغانستان کے صوبہ لوگر میں ایک ہی اڈے پر ایک ساتھ رہتے تھے اور ایک ساتھ مشن پر جاتے تھے۔

سابق فوجیوں کے وزیر جانی مرسر نے کہا ہے کہ حکومت ان مسترد شدگان سے آگاہ ہے اور اس نے ’دوبارہ‘ درخواست کا عمل دیکھنے کا عہد کیا ہے تاکہ ’اس سلسلے میں دیانت داری کو یقینی بنایا جاسکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ ہر درخواست کا جائزہ شائع شدہ معیار کے تحت لیتی ہے اور ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

اب یہ انکشاف کیا جا سکتا ہے کہ سی ایف 333 میں خدمات انجام دینے والوں میں تقریباً 15 خواتین بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے طالبان کے خلاف برطانیہ کی لڑائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہ یونٹ برطانوی افواج نے 2002 میں قائم کیا تھا تاکہ برطانیہ کو طالبان کی دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے والے منشیات کی پیداوار کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے۔

میجر جنرل چارلی ہربرٹ، جو تین تہروں کے ساتھ کام کرتے تھے اور 2017 سے 2018 کے درمیان افغانستان میں نیٹو کے سینیئر مشیر تھے، نے تصدیق کی کہ 333 افراد میں خواتین بھی شامل تھیں۔

اگست 2021 تک، جب مغربی افواج افغانستان سے نکلیں اور اسے طالبان کی حکمرانی کے لیے چھوڑ دیا، زہاب کو افغان سپیشل فورسز یونٹ میں لڑتے ہوئے دو سال ہو گئے تھے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پولیس فورس سے کیا تھا لیکن جلد ہی وہ ان چند خواتین جنگجوؤں میں شامل ہو گئیں، جنہیں اس لیے منتخب کیا گیا تھا کہ وہ طالبان اور داعش کے رہنماؤں کا سراغ لگانے اور پکڑنے میں مدد کے لیے برطانوی اور افغان افواج کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین ان یونٹوں کے لیے کارآمد تھیں جنہیں خاندانوں کے گھروں پر چھاپے مارنے ہوتے تھے۔

’یونٹ میں ہمارا کردار بہت ضروری تھا۔ یونٹ میں ایک خاتون کے بغیر، حتیٰ کہ مرکزی ارکان بھی آپریشن نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ خواتین کی شمولیت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔‘

ترکی کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ سے بات کرتے ہوئے زہاب نے کہا: ’ہمیں آپریشن کے لیے پورے ملک میں بھیجا گیا تھا۔ یہ ایک بہت خطرناک کام تھا۔ ہم طالبان کے ایک رکن کے گھر پر آپریشن کرتے، ہم مرد اراکین کی طرح ہی کردار ادا کر رہے تھے لیکن اس کے علاوہ، ثقافتی حساسیت کی وجہ سے، ہمیں تمام خواتین اور لڑکیوں کے جسم کی تلاشی بھی لینی پڑتی۔‘

جب مغربی افواج کے انخلا کی افراتفری کے دوران ان کا باقی یونٹ کابل ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوا تو زہاب کو پیچھے رکنا پڑا۔ چار بچوں کی ماں زہاب نے محسوس کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ہوائی اڈے کے دروازوں پر کچلے جانے کے لیے نہیں لا سکتیں کیونکہ ہزاروں افغانوں نے امریکی اور برطانوی افواج سے انخلا کی درخواست کی تھی۔

مدد کے بغیر اور طالبان کی طرف سے جوابی کارروائی کے خطرے کے تحت، زہاب اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہو گئیں اور غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے ایران اور پھر ترکی چلی گئیں۔

وہاں انہیں ’بہت سے مسائل کا سامنا ہے‘ لیکن ڈر ہے کہ انہیں اس سے بھی بدتر انجام کا سامنا کرنے کے لیے واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔

زہاب نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی، جس کی عمر 21 سال ہے، نے خاندان کی کفالت کے لیے کپڑوں کی صنعت میں کام کرنا شروع کیا تھا، لیکن چھ ماہ قبل، انہیں غیر قانونی طور پر کام کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وہ دستاویزات نہیں دکھا سکی تھیں۔ انہیں چار ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا: ’وہ جیل میں بہت سی پریشانیوں سے گزریں۔ وہ اب بھی ذہنی صحت کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے میری بیٹی کو چار ماہ تک رکھا اور وہ انہیں جلاوطنی کے فارم پر دستخط کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب وہ وہاں تھیں تو میں کبھی بھی جیل نہیں جا سکی کیونکہ میرے پاس خود ورک پرمٹ یا دستاویزات نہیں ہیں۔ مجھے فکر تھی کہ اگر میں گئی تو مجھے بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔ ہم گرفتاری اور ملک بدر کیے جانے کے مسلسل خوف میں جی رہے ہیں۔‘

اپنی دیگر 18 اور 14 سال کی بیٹیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، زہاب نے کہا: ’غیر یقینی صورت حال سب سے مشکل چیز ہے۔ اپنے ملک میں وہ سکول جاتی تھیں، اب انہیں کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ کام نہیں کریں گی، تو ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا، کرایہ ادا نہیں کر پائیں گے۔‘

زہاب نے کہا کہ برطانیہ آنے کی ان کی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ ان لوگوں کی طرف سے مایوسی محسوس کر رہی ہیں، جن کے ساتھ انہوں نے کام کیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ ان کے تمام وعدے جھوٹے تھے۔ وہ صرف ہمیں استعمال کر رہے تھے اور پھر، جب انہیں ہماری ضرورت نہیں تھی، تو انہوں نے ہمیں پھینک دیا۔ اب انہیں ہماری ضرورت نہیں ہے، انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔‘

زہاب کے ایک سابق افغان کمانڈر، جو اس وقت برطانیہ میں ہیں، کا کہنا تھا کہ وہ ایک ’اچھی‘ فوجی تھیں، جن پر وہ ’بھروسہ‘ کر سکتے تھے اور وہ اور یونٹ کی دیگر خواتین – جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مردوں کی طرح ان کے پورشن میں رہتی تھیں – ’ضروری‘ کام کرتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا: ’بعض اوقات طالبان خواتین کو اہم دستاویزات یا فون دے دیتے تھے اور افغان مرد افغان خواتین کی تلاشی نہیں لے سکتے، اس لیے ہمیں فورس میں خواتین کی ضرورت تھی۔ ہر رات چھاپے کے لیے ایک یا دو خواتین کا ہونا ضروری تھا۔ کبھی کبھار، جب ہمارے پاس خواتین نہیں ہوتی تھیں، تو ہمیں اپنا آپریشن منسوخ کرنا پڑتا تھا۔‘

333 یونٹ میں زہاب کے ایک اور ساتھی نے ان جیسے سپاہیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’اگر خواتین نہ ہوتیں تو ہم آپریشن منسوخ کر دیتے۔ دشمن اپنے آپ کو خواتین کے درمیان چھپا لیتے، اس لیے وہی ان میں فرق کرتی تھیں۔‘

وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ’برطانیہ کی حکومت نے افغانستان میں اہل لوگوں کی مدد کے لیے ایک پرجوش اور فراخدلانہ عہد کیا ہے۔ اب تک، ہم نے تقریباً 24 ہزار 600 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے، جن میں ہماری افغان سکیموں کے اہل ہزاروں افراد بھی شامل ہیں۔

برطانوی حکومت کے اریپ پروگرام کے تحت ہر درخواست کا فیصلہ اور اس کی جانچ پڑتال آن لائن شائع کردہ مخصوص پالیسی اور امیگریشن قوانین میں بیان کردہ معیار کے مطابق کی جاتی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر