جتنا مزا فلائنگ میں ہے، کسی میں نہیں: کینیڈا میں زیرتعلیم شازمہ

کینیڈا میں کمرشل ایوی ایشن کے شعبے میں زیر تعلیم شازمہ زہرہ تالپور کے مطابق: ’لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ خاتون کیسے جہاز اڑا سکتی ہے؟ اور میرا جواب ہوتا ہے کہ ایک خاتون کو جہاز اڑانا ہے، اٹھانا تھوڑی ہے۔‘

سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی شازمہ زہرہ تالپور کینیڈا میں کمرشل ایوی ایشن کے شعبے میں زیر تعلیم ہیں، جن کا کہنا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سندھی زبان بولنے والی پہلی خاتون کمرشل پائلٹ بن جائیں گی۔

کینیڈا کے صوبے نیو برنسوک کے شہر سیک ویل میں ماؤنٹ الیسن یونیورسٹی کی طالبہ شازمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’سندھ کی پہلی خاتون پائلٹ مریم مختیار تھیں، مگر وہ پاکستان ایئرفورس میں فائٹر جیٹ پائلٹ تھیں۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد میں سندھی بلونے والی پہلی خاتون کمرشل پائلٹ بن جاؤں گی۔‘

شازمہ ماؤنٹ الیسن یونیورسٹی کی طالبہ ہونے کے ساتھ مونکٹن فلائٹ کالج میں کمرشل ایوی ایشن کے شعبے میں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کینیڈا میں کمرشل پائلٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 85 سے 90 ہزار کینیڈین ڈالر درکار ہوتے ہیں۔

شازمہ کے مطابق: ’یہ خرچہ صرف یونیورسٹی کو فیس کی مد میں دینا ہوتا ہے۔ اس کورس کے لیے رہنے، کھانے اور دیگر اخراجات کے لیے علیحدہ سے رقم درکار ہوتی ہے، مگر کینیڈا میں پارٹ ٹائم جاب کرکے اتنے پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ خاتون کیسے جہاز اڑا سکتی ہے؟ اور میرا جواب ہوتا ہے کہ ایک خاتون کو جہاز اڑانا ہے، اٹھانا تھوڑی ہے۔ جہاز اڑانے کے لیے تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی جنس ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

شازمہ زہرہ تالپور نے نوجوان پاکستانی لڑکیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ یہ اتنا مشکل بھی نہیں، پاکستانی لڑکیاں کینیڈا آکر پارٹ ٹائم ملازمت کرکے اپنی تعلیم کا خرچہ اٹھا سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمرشل پائلٹ کا کورس ختم کرنے کے بعد کچھ عرصے تک وہ کمرشل پائلٹ انسٹرکٹر کے طور پر کام کرنا چاہتی ہیں، جس کے بعد وہ کینیڈا اور پاکستان میں بطور کمرشل پائلٹ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

بقول شازمہ: ’اگر آپ لڑکی ہیں اور آپ کا خواب ہے کہ آپ پائلٹ بنیں تو اس خواب کو صرف خواب ہی نہ رہنے دیں بلکہ اپنے خواب کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائیں۔ اگر میں پائلٹ بن سکتی ہوں تو کوئی بھی لڑکی پائلٹ بن سکتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل