پاؤں کے انگوٹھے میں مکڑی کے انڈے ممکن ہیں؟

رومانوی رخصتی کا ڈراؤنا خواب مزید عجیب و غریب حیرتوں کے ساتھ جوڑے کے گھر آیا۔

ایک مادہ بھیڑیا مکڑی ایک چٹان پر دو اگست 2019 کو اپنے انڈے دے رہی ہے (اے ایف پی)

کولن بلیک کی اہلیہ نے شادی کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے شوہر کے پاؤں کا سرخ اور سوجا ہوا انگوٹھا دیکھا تو انہیں زیادہ فکر نہیں ہوئی۔

چھٹیاں منانے والے زیادہ تر لوگوں کو ایک دن گھومنے پھرنے کے بعد نئی سینڈل کی رگڑ سے چھالے نکل ہی آتے ہیں۔

اس جوڑے کو حیرانگی اس وقت ہوئی جب جہاز پر موجود ان کے ڈاکٹر نے بتایا کہ پیرو کی بھیڑیا مکڑی نے بلیک کو کاٹ لیا ہے اور ان کے پاؤں کے انگوٹھے میں انڈے دے دیے ہیں۔

اس کے بعد جب ڈاکٹر نے اسے کاٹا تو مسٹر بلیک کے پیر کے انگوٹھے سے مکڑی کے انڈے نکلے۔

نارتھمبرلینڈ کے علاقے کریملنگٹن میں رہنے والے بلیک کا ماننا ہے کہ (مکڑی نے) انہیں اس وقت جب وہ مارسیل میں رات کا کھانا کھا رہے تھے۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو سکاٹ لینڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری بیوی نے سوچا کہ شاید اس کی وجہ میری نئی سینڈل تھی اور وہ میرے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ رگڑ کھا رہے تھے جس کی وجہ سے وہ سرخ ہو رہا تھا۔‘

مسٹر بلیک جب برطانیہ واپس آئے تو افسوسناک طور پر ان حالت مزید خراب ہوگئی۔

ہسپتال جانے اور اینٹی بائیوٹکس کی تجویز کے چار ہفتے بعد، انہیں اپنے پاؤں کے انگوٹھے پر ایک اور تبدیلی نظر آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید خوفناک انکشاف ڈاکٹروں کے پاس جانے پر یہ ہوا: مسٹر بلیک کو بتایا گیا کہ ان میں سے ایک انڈے میں مکڑی میں پیدا ہوکر ان کی جلد کے نیچے پھنس گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ یہ سمجھے کہ مکڑی میرے پاؤں کا انگوٹھا کھا کر باہر نکلنے کا راستہ بنا رہی ہے۔‘

لیکن ایک ماہر حیاتیات نے بتایا کہ بھیڑیا مکڑیاں انسانوں کے جسم میں اپنے انڈے نہیں دے سکتی۔

یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ڈاکٹر سارہ گوڈاکری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسے سچ ہو سکتا ہے کیوں کہ میں ان کی حیاتیات کے بارے میں جانتی ہوں۔

’(انڈے کی تھیلیاں) گھومنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ مکڑی کا زہر نیکروٹائزنگ نہیں ہے، یہ فروٹ فلائی کو مفلوج کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی رپورٹ نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ انڈے ’پیپ سے متاثرہ زخم‘ میں رہ سکتے ہیں۔

مکڑیاں اکثر زہریلی نہیں ہوتی ہیں اور عام طور پر کارگو جہازوں پر پہنچنے کے بعد فرانس کے جنوب میں پائی جاتی ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت