یہود اور اسلام دشمنی، دونوں پر بات کروں گی: جمائما گولڈ سمتھ

جس طرح ہم اسلاموفوبک بنے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں، اسی طرح لوگوں کو چاہیے کہ یہود دشمنی کا غلط لیبل لگائے بغیرغزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کریں۔

16 ستمبر 2002 کو لی جانے والی اس تصویر میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ اسلام آباد میں ایک عوامی ریلی میں شریک ہیں (اے ایف پی/ سعید خان)

میں مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر باریک بینی سے بات کرنے جا رہی ہوں، جو اس وقت ایک خطرناک چیز ہے- لیکن پھر بھی چلیں قصہ کچھ یوں ہے۔

اینٹی سیمیٹزم (یہود دشمنی) ہر طرف بڑھ رہی ہے اور یہ یہودیوں کے لیے خوفناک ہے۔ یہود دشمنی مسلم کمیونٹیز میں بھی کم تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔

مجھے اس کا براہ راست تجربہ رہا ہے، کیونکہ پاکستان میں سیاستدان اور میرے سابق شوہرعمران خان کو مارنے کے لیے میری یہودیت لاٹھی کے طور پر استعمال کی گئی، جہاں میرے بارے میں صیہونی سازشی نظریات گھڑے گئے– اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں اور ایک جانبدار میڈیا نے اشتعال پیدا کیا۔

اس کی وجہ سے مجھے اور میرے بچوں کو کئی دہائیوں تک موت کی دھمکیاں اور ریپ اور تشدد کی دھمکیاں ملتی رہیں، جو آج تک مل رہی ہیں۔ ہماری طلاق کے باوجود گذشتہ سال عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش ہوئی۔ حملے کے بعد قاتل نے اپنے اعترافی ویڈیو میں اعلان کیا کہ فائرنگ کا مقصد عمران خان کی جانب سے ’اسرائیل کو قبول کرنا تھا۔‘

میں نے دیکھا کہ کیسے’صیہونیت‘ کی اصطلاح – ’اسلام ازم‘ کی اصطلاح جیسی ہے- بعض اوقات متعصب افراد  ایک آڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ درحقیقت یہودیوں یا مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار کیا جاسکے۔

یہ بھی سچ ہے کہ بعض لوگ یہود دشمنی کے الزامات کو اسرائیلی حکومت پر بحث اور تنقید بند کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

جس طرح ہم اسلاموفوبک بنے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں، اسی طرح لوگوں کو چاہیے کہ یہود دشمنی کا غلط لیبل لگائے بغیرغزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کریں۔

اسرائیل پر تنقید کرنے والے کو ’یہود مخاف‘ کہلانے کی اجازت دینے سے دوسروں کے لیے یہود دشمنی کو مسترد کرنا آسان ہو جاتا، جس سے ایک بہت ہی حقیقی اور سنگین مسئلے کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت بھی بڑھ رہی ہے اور اس سے بہت سے ایسے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں جن سے میں محبت کرتی ہوں، جن میں میرے بچے بھی شامل ہیں۔ امریکہ میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران تین فلسطینی طالب علموں پر گولی چلائی گئی اور ایک چھ سالہ بچے کو چاقو کے حملے سے قتل اور اس کی والدہ کو اس لیے زخمی کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ مسلمان تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دریں اثنا، ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کے صدر بننے کی صورت میں مسلمانوں پر عائد پابندی کو بحال کرنے پر غور کر رہے ہیں اور واضح طور پر مسلم مخالف ایجنڈے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں پہلی بار یورپی ممالک میں انتخابات جیت رہی ہیں اور جس طرح میں نے کچھ مسلمان دوستوں کی جانب سے یہ تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دیکھی کہ اسرائیلی پالیسی کے خلاف نفرت اسرائیلیوں یا یہودیوں پرحملوں سے الگ نہیں ہے، اسی طرح میں نے اپنے کچھ یہودی دوستوں میں بھی اس بات کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دیکھی کہ اسلامو فوبیا ایک حقیقی چیز ہے۔

ایک مثال کے طور پر مجھے حال ہی میں ایک واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جو کسی عام جنونی شخص نے نہیں بلکہ ایک ہائی پروفائل امریکی پروڈیوسر نے ان کی پوری ایڈریس بک پر بھیجا تھا، جس میں تمام مسلمانوں کو ’مسئلہ‘ قرار دیا گیا تھا، جو مغرب پر’پنجوں کے ساتھ‘ ’حملہ‘ آور ہیں۔ جو ’خفیہ طور پر کام کرتے ہیں، غلبہ حاصل کرنے اور پرتشدد ارادوں کے ساتھ اپنے قوانین مسلط کرنے کے لیے افزائش نسل کرتے ہیں۔

’اگر آپ اس ای میل کو اپنے پاس رکھتے ہیں تو، آپ مسئلے کا حصہ ہیں۔ اسے آگے پھیلائیں!‘

میں ڈر گئی تھی، کم از کم اس لیے نہیں کہ یہ زبان اس زبان سے بہت مماثلت رکھتی تھی جو پوری تاریخ میں یہودیوں کو غیر انسانی بنانے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ بھیجنے والا یہودی تھا۔ میں نے اپنے چند یہودی دوستوں کو بھی اسی غصے کا احساس دلانے کے لیے جدوجہد کی جو میں نے محسوس کیا تھا، وہ غصہ جو میں جانتی ہوں کہ اگر لفظ ’مسلمان‘ کو ’یہودی‘ سے بدل دیا جاتا تو وہ اس کا شدت سے اظہار کرتے۔

یہ مخصوص غصہ اور غصہ کرنے میں منتخب ناکامی مجھ پر دونوں طرف سے عیاں ہے۔

یہ ان کی نظریاتی بے حسی کی گہرائی، سوشل میڈیا الگورتھم اور لاپرواہ گفتگو سے متاثر قبائلی محدود نظری اور خوف ہے کہ اتنے ذہین اور عام طور پر ہمدرد لوگ سادہ سچائی کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ: آپ بڑھتی ہوئی یہود دشمنی اور مسلم مخالف نفرت دونوں کی مخالفت کر سکتے ہیں۔

آپ حماس کی جانب سے اسرائیلیوں کے قتل عام سے خوفزدہ ہو سکتے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت بھی کر سکتے ہیں۔ اس کشمکش نے ہر فریق کو بہرا اور دوسرے کے مصائب اور خوف سے لاتعلق کر دیا ہے۔

میرے نزدیک اتوار کو ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر نفرت کے خلاف ہونے والے مظاہرے کا یہی مقصد ہے۔ تمام نسلی اور مذہبی منافرت یکساں طور پر قابل نفرت اور ناقابل قبول ہے۔ یہ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اور اگر آپ صرف ایک یا صرف دوسرے کو دیکھتے ہیں، تو آپ مسئلے کا حصہ ہیں۔

اتوار کو ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے قبیلوں سے باہر نکلیں، اپنے جھنڈے اتار پھینکیں، اور ان فلسطینی اور اسرائیلیوں کی قیادت میں ہمارے ساتھ شریک ہوں جنہوں نے اس تنازع میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔

اگر ان سوگوارن نے انتقام اور نفرت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ دونوں طرف کے انتہا پسندوں اور متعصبوں کو برداشت نہ کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ