حلقہ بندیوں پر اعتراض لیکن الیکشن بائیکاٹ نہیں کریں گے: سیاسی جماعتیں

مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست پر اعتراضات تو اٹھائے ہیں، لیکن پارٹی رہنماؤں کے مطابق عام انتخابات 2024 کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا۔

کراچی میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے موقع پر 16 اکتوبر 2022 کو مرد و خواتین وٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست پر اعتراضات تو اٹھائے ہیں، لیکن پارٹی رہنماؤں کے مطابق عام انتخابات 2024 کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں مکمل کر کے 30 نومبر کو رات گئے حتمی فہرست جاری کی تھی، جس کے مطابق پاکستان کی اگلی قومی اسمبلی 342 کے بجائے 336 ارکان پر مشتمل ہو گی۔ اسی طرح ملک بھر سے قومی اسمبلی کی عام نشستوں کے 266 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں کے 593 حلقے ہوں گے۔

اس صورت حال پر انڈپینڈنٹ اردو نے جب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے رابطہ کیا تو اعتراضات کے باوجود ان کا مشترکہ موقف یہ تھا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ’کراچی سے کشمور تک بہت سی حلقہ بندیوں میں تبدیلی آئی ہے، جس پر اعتراضات اٹھائے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔‘

بقول ناصر حسین وہ ہائی کورٹ سمیت ہر فورم سے حلقہ بندیوں کے خلاف رجوع کریں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ الیکشن کا انعقاد ہے اور امید ہے کہ آٹھ فروری کو الیکشن ہو جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور بہت سے ایسے مسائل آتے رہے ہیں، جن پر بائیکاٹ کرنا چاہیے لیکن پیپلز پارٹی بائیکاٹ نہیں کرتی۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے حلقہ بندیوں کی فہرست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے ملیر کا حلقہ بدل دیا، ہمارے اعتراضات کو نہیں دیکھا۔ نقشے پر ایسے مختار کاروں کے دستخط ہیں جن کا ٹرانسفر ہوچکا ہے۔ موجودہ مختار کاروں کے دستخط کا نہ ہونا بھی حلقہ بندیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نہال ہاشمی کے مطابق: ’شہری علاقوں کو ڈسٹرب کرنے کے لیے دیہی علاقوں کے گرد کردیا ہے تاکہ دیہی علاقوں کے ووٹ شہری علاقوں میں داخل ہوسکیں جس پر مسلم لیگ ن کو تحفظات بھی ہیں اور اب مشاورت چل رہی ہے، جس کے بعد باقاعدہ حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا جائے گا۔‘

جب ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق سے اس معاملے پر پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں سے متعلق جتنی درخواستیں جمع کروائی تھیں، انہیں مسترد کردیا گیا۔ نئی حلقہ بندیوں میں شہری علاقوں کو دیہی علاقوں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے جس پر تحفظات ہیں۔ کئی علاقوں میں جانبدار حلقہ بندیاں بنائی گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اور ہر فورم پر اس کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ الیکشن کمیشن سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو ہائی کورٹ اور ٹریبونل میں جائیں گے۔ ایم کیو ایم اپنے ووٹرز کے درمیان رہتی ہے اس لیے ہر صورت میں الیکشن لڑا جائے گا۔‘

نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی میر تاج نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے اپنی من پسند حلقہ بندیاں کر دی ہیں، الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں ہے۔‘

اس حوالے سے کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے جنرل سیکریٹری صفدر عباسی کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کی جانب سے مطالبہ ہے کہ سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر کو فی الفور منصب سے ہٹایا جائے اور حلقہ بندیوں میں ناجائز تبدیلیوں کو درست کیا جائے۔‘

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی حلقہ بندیوں کی فہرست کے مطابق صوبہ پنجاب میں مظفر گڑھ کے قومی اسمبلی کے حلقے چھ سے کم ہو کر چار رہ گئے ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان کے حلقے چار سے کم ہو کر تین رہ گئے ہیں۔ وزیر آباد کا الگ سے حلقہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ کے حلقے چھ سے کم ہو کر پانچ رہ گئے جبکہ مری کا حلقہ راولپنڈی کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے چھ حلقے کم ہو گئے ہیں۔ باجوڑ، خیبر اور کرم کے دو، دو حلقوں میں سے کم ہو کر ایک، ایک حلقہ رہ گیا۔ اورکزئی اور فرنٹیئر ریجن کے حلقے ختم جبکہ وزیرستان کے حلقے تین سے کم ہو کر دو رہ گئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں سانگھڑ کے حلقے تین سے کم ہو کر دو رہ گئے ہیں جبکہ کراچی ساؤتھ کے حلقے دو سے بڑھ کر تین اور کراچی ویسٹ کے پانچ سے کم ہو کر تین رہ گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے حلقوں میں کوئی رد وبدل نہیں ہوا ہے۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق حلقہ بندیوں کے لیے ملک کو آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے انتخابی حلقہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی حلقہ میں آبادی کا فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

حلقہ بندیوں کی فہرست کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کا کام مکمل کر کے انہیں منجمد کیا جاتا ہے جس کے بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان