حتمی حلقہ بندیاں: قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حتمی حلقہ بندیوں کی تفصیل شائع کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان کی اگلی قومی اسمبلی 342 کے بجائے 336 ارکان پر مشتمل ہو گی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعرات کو حتمی حلقہ بندیوں کی تفصیل شائع کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان کی اگلی قومی اسمبلی 342 کے بجائے 336 ارکان پر مشتمل ہو گی۔

انتخابی کمیشن کی جانب سے جمعرات کو رات گئے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی عام نشستوں کے 266 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں کے 593 حلقے ہوں گے۔

اس مرتبہ قومی اسمبلی کا ایوان 336 اراکین پر مشتمل ہو گا۔

سال 2018 کی نشستوں سے موازنہ

صوبہ پنجاب میں مظفر گڑھ کے قومی اسمبلی کے حلقے چھ سے کم ہو کر چار رہ گئے ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان کے حلقے چار سے کم ہو کر تین رہ گئے ہیں۔ وزیر آباد کا الگ سے حلقہ بنا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب گوجرانوالہ کے حلقے چھ سے کم ہو کر پانچ رہ گئے جبکہ مری کا حلقہ راولپنڈی کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے چھ حلقے کم ہو گئے ہیں۔ باجوڑ، خیبر اور کرم کے دو، دو حلقوں میں سے کم ہو کر ایک، ایک حلقہ رہ گیا۔ اورکزئی اور فرنٹیئر ریجن کے حلقے ختم جبکہ وزیرستان کے حلقے تین سے کم ہو کر دو رہ گئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں سانگھڑ کے حلقے تین سے کم ہو کر دو رہ گئے ہیں۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے حلقے دو سے بڑھ کر تین اور کراچی ویسٹ کے پانچ سے کم ہو کر تین رہ گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے حلقوں میں کوئی رد وبدل نہیں ہوا ہے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق آئندہ عام انتخابات کے لیے اسلام آباد کی تین جنرل نشستیں ہوں گی اور قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستیں ہوں گی جبکہ اقلیتوں کے لیے دس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

 آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی۔ پنجاب سے قومی اسمبلی میں خواتین کی 32 مخصوص نشستیں ہوں گی۔

صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی۔ سندھ سےخواتین کی 14 مخصوص نشستیں ہوں گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستیں ہوں گی۔ خیبرپختونخوا سے خواتین کی 10 مخصوص نشستیں ہوں گی۔

رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16، صوبائی اسمبلی کی 51 جنرل نشستیں اور خواتین کی چار مخصوص نشستیں ہوں گی۔

صوبائی اعداد و شمار

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق صوبہ پنجاب میں اٹک سے قومی اسمبلی کی دو، راولپنڈی کی چھ اور راولپنڈی اور مری کی ملا کر ایک جنرل نشست ہو گی۔

وزیر آباد اور حافظ آباد کی ایک، ایک نشت جبکہ منڈی بہاؤالدین کی دو نشستیں ہوں گی۔ فیصل آباد کی 10 اور لاہور کی 14 نشستیں ہوں گی۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی تین، تین نشستیں ہوں گی۔

صوبہ بلوچستان میں شیرانی، ژوب، قلعہ سیف اللہ پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ہوگا۔ جبکہ موسی خیل، بارکھان، لورالائی، دکی پر بھی مشتمل قومی اسمبلی کا ایک ہی حلقہ ہوگا۔

خضدار کا ایک جبکہ پنجگور اور کیچ پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ہو گا۔ کیچ اور گوادر پر مشتمل بھی ایک ہی حلقہ ہو گا۔ کوئٹہ سے قومی اسمبلی کے تین حلقے ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق صوبہ سندھ میں سانگھڑ اور میر پور خاص کے دو، دو جبکہ عمرکوٹ کا ایک اور تھرپارکر کے دو حلقے ہوں گے۔

مٹیاری اور ٹنڈواللہ یار کے قومی اسمبلی کے ایک، ایک حلقے ہوں گے۔ سجاول، ٹھٹہ، جامشورو، کے  قومی اسمبلی کا ایک، ایک حلقہ ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملیر کے قومی اسمبلی کے تین، کورنگی کے تین، کراچی ایسٹ اور کراچی ساوتھ کے چار، چار حلقے ہوں گے۔ کیماڑی کے دو، کراچی ویسٹ کے تین، کراچی سینٹرل کے قومی اسمبلی کے چار حلقے ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے اپر اور لوئر چترال سے قومی اسمبلی کا ایک اور سوات کے تین حلقے ہوں گے۔

 ہنگو اور اورکزئی پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک جبکہ کرم، کرک، بنوں کا ایک، ایک حلقہ ہو گا۔

شمالی وزیرستان اور لکی مروت کا ایک قومی اسمبلی کا حلقہ ہو گا جبکہ اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان پر مشتمل ایک جبکہ ٹانک اور ڈیرا اسماعیل خان پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ہو گا۔ ڈیرا اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے دو حلقے ہوں گے۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق حلقہ بندیوں کے لیے ملک کو آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے انتخابی حلقہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی حلقہ میں آبادی کا فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیے۔

حلقہ بندیوں کی فہرست کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کا کام مکمل کر کے انہیں منجمد کیا جاتا ہے جس کے بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جاتا ہے۔

انتخابات پر کام کرنے والی تنظیم پتن کے بانی سرور باری نے پاکستان میں حلقہ بندیوں سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باعث قومی اسمبلی کی چھ نشستیں کم ہوئی ہیں۔

’اگر حلقہ بندی فاٹا کی طرح کی جاتی تو ہمارے یہاں حلقے بہت بڑے ہیں۔ فاٹا کے پرنسپل کے مطابق قومی اسمبلی 600 اراکین کی ہوتی اور بہتر نمائندگی ہوتی۔‘

انہوں نے کہا کہ بیورو آف سینسز نے جو رپورٹ پہلے دی تھی اس کے مطابق پنجاب کی آبادی 53 سے کم ہو کر 49 فیصد ہو گئی ہے، جس کے مطابق پنجاب کی نو نشستیں کم ہو رہی تھیں۔

’شور مچا کہ مردم شماری دوبارہ کریں کراچی کی آبادی کم دکھائی گئی ہے اور الیکشن میں تاخیر چاہ رہے تھے تو اگست میں بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے جو رپورٹ جاری کی اس میں پنجاب کی آبادی 53 فیصد کر دی گئی۔

’ان دونوں رپورٹس میں سے ایک غلط ہے۔ یا جولائی والی غلط ہے یا اگست والی۔‘

سرور باری کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر فاٹا والے اصول کو کچھ ایڈجسٹ کرکے باقی پاکستان میں بھی حلقے چھوٹے کئے جاتے تاکہ مجموعی طور پر نشستوں کی تعداد بڑھ جاتی۔

’ہم نے الیکشن کمیشن کا ڈیٹا نکالا اور اس میں حلقوں میں ووٹرز اور رجسٹرڈ ووٹر میں بڑا فرق پایا۔

’دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ 70 فیصد سے زیادہ آبادی ووٹر ہو۔ ایسا ہو نہیں سکتا۔ زیادہ لوگوں کو ووٹرز کی حیثیت سے رجسٹر کیا گیا ہے۔ یعنی گھوسٹ ووٹرز موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے ایسے ووٹرز مر چکے ہو۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ (16 ملین) مستحق ووٹرز کا الیکٹورل رول میں اندراج نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان