لاہور: سکھ یاتریوں کو لوٹنے والے گرفتار، ’پولیس کے شکرگزار ہیں‘

پنجاب پولیس کے مطابق سکھ یاتری کنول جیت سنگھ اور ان کی فیملی سے واردات کرنے والے تین ملزمان کو آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے لاہور کے علاقے گلبرگ سے گرفتار کیا ہے۔

انڈیا سے ننکانہ صاحب حاضری کے لیے آنے والے سکھ خاندان کے ساتھ ڈکیتی کی واردات 29 نومبر 2023 کو لاہور میں پیش آئی (سکرین گریب/ ویڈیو محمد عمیر )

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دنوں انڈیا سے لاہور آئی سکھ یارتیوں کو لوٹنے والے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سکھ برادری نے شکریہ ادا کیا ہے۔

انڈیا سے ننکانہ صاحب دربار پر حاضری کے لیے آنے والے سکھ خاندان کے ساتھ بدھ 29 نومبر کو لاہور میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

پنجاب پولیس کے مطابق سکھ یاتری کنول جیت سنگھ اور ان کی فیملی سے واردات کرنے والے تین ملزمان کو آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے لاہور کے علاقے گلبرگ سے گرفتار کیا ہے۔

اس حوالے سے ایس پی ماڈل ٹاؤن آفتاب پھلروان نے منگل پانچ دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ واردات میں ملوث ملزمان کو سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید تفتیشی آلات کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں انڈین ریاست ہریانہ سے تعلق رکھنے والی سکھ فیملی نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے ملاقات کی اور ملزمان کی جلد گرفتاری، رقم و مال مسروقہ کی برآمدگی پر پنجاب پولیس کی پیشہ ورانہ قابلیت کی تعریف کی۔

ایس پی پھلروان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ واردات پاکستان کی ساکھ مجروح کرنے کے لیے غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے کہنے پر کی تھی۔‘

تاہم ایس پی پھلروان نے یہ نہیں بتایا کہ ملزمان نے کس ملک کی خفیہ ایجنسی کے کہنے پر ایسا کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان گردوارا پربند کمیٹی کے رکن اور سکھ برداری پاکستان کے سابق صدر ستونت سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات  کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جہاں تک سکھ یاتری فیملی کے ساتھ واردات کا تعلق ہے تو اس میں بھی پولیس نے ہماری بھرپور مدد کی ہے، جس طرح صوبائی حکومت نے فوری ایکشن لے کر معاملہ حل کیا اور فوری ملزمان بھی گرفتار کر لیے گئے مال مسروقہ بھی برآمد کر لیا اس کی مثال نہیں ملتی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت تمام حکام سے ملاقات کر کے شکریہ ادا کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس طرح کی وارداتیں صرف سکھ برادری کے ساتھ نہیں بلکہ ملکی حالات کے مطابق یہاں کے شہریوں کے ساتھ بھی معمول کا حصہ ہیں۔ اگر گرفتار گروہ کے پیچھے کسی غیر ملکی ایجنسی کا ہاتھ ہے تو پاکستانی فورسز اس کا توڑ بھی جانتی ہیں اور انہوں نے ملزم گرفتار کر کے ثابت بھی کیا ہے۔‘

پاکستان سکھ کونسل کے سربراہ سردار رمیشن سنگھ کہتے ہیں کہ ’لاہور میں ہونے والی واردات کے ملزم فوری گرفتار کر لیے گئے ہیں اور مال مسروقہ بھی واپس دلایا، ہم پنجاب حکومت کے مشکور ہیں۔‘

سردار رمیش سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’البتہ ایس پی نے لاہور میں واردات سے متعلق جو ملزموں کے غیر ملکی ایجنسی سے رابطوں کی بات کی اس حوالے سے ہمارے علم میں کچھ نہیں وہی بہتر جانتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان