بہاولپور: شیر کے پنجرے سے لاش برآمدگی کے بعد چڑیا گھر بند

حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ یہ شخص شیر کے پنجرے میں کیسے داخل ہوا۔

بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر ظہیر انور نے کہا کہ چڑیا گھر کے عملے کو پہلے شک ہوا اور پھر انہیں پنجرے کے اندر سے ایک لاش ملی (محمد راحیل)

حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بدھ کی صبح بہاولپور کے شیر باغ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی صفائی کے دوران وہاں سے انسانی لاش ملنے کے واقعے کے بعد چڑیا گھر کو بند کر دیا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ افسر علی عثمان بخاری کے مطابق: ’اس وقت چڑیا گھر بند کر دیا گیا ہے اور ہم اس بات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ شخص کس طرح (شیر کے پنجرے) میں داخل ہوا۔‘

چڑیا گھر کا انتظام محکمہ جنگلی حیات کے پاس ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی جاری نہیں کی گئی تاہم پنجرے کے اردگرد سے اکٹھے کیے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جب شیروں نے ان پر حملہ کیا وہ (شخص) زندہ تھا۔ ’شیر اس شخص پر حملے کے لیے مخصوص احاطے سے باہر نہیں گئے۔ مذکورہ شخص نے پنجرے کے اندر چھلانگ لگائی۔

’اگر سکیورٹی کی خامی سامنے آئی تو ہم اسے دور کریں گے۔ ضرورت پڑی تو ہم نجی سکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کریں گے۔‘

اے ایف پی کے مطابق ’شیر باغ‘ نامی اس چڑیا گھر میں عملے کو ایک نامعلوم لاش کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب انہوں  نے ایک شیر کے منہ میں جوتا دیکھا۔

بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر ظہیر انور نے میڈیا کو بتایا: ’جب عملے نے چڑیا گھر اور پنجروں کی صفائی شروع کی تو انہوں نے (شیر) کو منہ میں جوتا پکڑے ہوئے دیکھا۔‘

انہوں نے کہا کہ عملے کو پہلے شک ہوا اور پھر انہیں پنجرے کے اندر سے ایک لاش ملی۔

بہاولپور کے اس چڑیا گھر میں شیر اورچیتے دونوں ہی رکھے گئے ہیں۔

ظہیر انور نے کہا: ’اب تک ہمارا اندازہ یہ ہے کہ یہ ایک شخص تھا جس کی ذہنی حالت ٹھیک معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایک سمجھدار آدمی شیر کے پنجرے میں نہیں کودتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پنجرے کتنے محفوظ ہیں۔ ان کے پیچھے سیڑھیاں ہیں، شاید اس (شخص) نے وہاں سے چھلانگ لگا دی ہو۔‘

ڈپٹی کمشنر نے بتایا: ’مردہ شخص عملے کا رکن نہیں ہے کیوں کہ عملے کی تعداد پوری ہے۔‘

بہاولپور میں ریسکیو سروس 1122 کے ایک اہلکار ظفر اللہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرہ شخص کی ٹانگوں پر بہت زیادہ زخموں کے نشانات تھے۔

انہوں نے کہا: ’ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ شخص کون ہے اور وہاں کیسے پہنچا۔ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ لاش کئی گھنٹے پرانی لگ رہی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فرانزک ماہرین لاش کا معائنہ کر رہے ہیں۔

چڑیا گھر کی ویب سائٹ کے مطابق اس مرکز کو پنجاب کا محکمہ جنگلی حیات چلاتا ہے جہاں داخلے کی ٹکٹ 50 روپے ہے۔

پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے چڑیا گھروں پر اکثر جانوروں کی دیکھ بھال کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان