صلاح الدین: پاگل ہم تھے، تم تو بہت مختلف تھے

جب صلاح الدین کی اے ٹی ایم والی ویڈیو دیکھی تو شجاع کا وہ جملہ یاد آ گیا، جس میں اس نے سامنے والے گھر کے مہمان سے پوچھا تھا، ’کیا میں نے پتھر مارے؟ کیا ڈاکہ ڈالا؟ کیا گالی دی؟‘

کسی کو مشین توڑتا دیکھنے کے لیے آنکھ کافی ہے۔ پیسے نہ چراتے ہوئے دیکھنے کے لیے نگاہ چاہیے۔ کیمرے اور انسان میں آنکھ اور نگاہ کا ہی تو فرق ہے

ہمارے محلے میں ایک کردار شجاع تھا۔ شاید آٹھ برس کا تھا جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا۔ وہ ایک تھیلی اٹھائے گلی گلی ٹافیاں بیچ رہا تھا۔ شیراز نے مجھ سے کہا، ’یہ بندہ پاگل تو نہیں ہے؟‘

پوچھا، ’کیوں؟‘ کہا، ’ایک روپے کی ٹافی کسی کو بیس روپے کی بتاتا ہے، کسی کو دس روپے کی۔‘

اسد نے کہا، ’مجھے تو کل اس نے دوٹافیاں مفت میں دی ہیں۔‘

سال دو سال ہی گزرے ہوں گے کہ شجاع نے ٹافیاں بیچنا چھوڑدیں۔ وہ کسی بھی گلی میں کہیں کسی فٹ پاتھ پر لیٹا مل جاتا تھا۔ پاس سے گزرنے پر محسوس کیا جاسکتا تھا کہ وہ خود کلامی کرتا ہے اور کسی کو باقاعدہ کوستا ہے۔

اس کے گریبان کے بٹن ایک ایک کر کے ٹوٹنا شروع ہو گئے۔ داڑھی، مونچھ اور بال بڑھ گئے۔ جوتے گھستے گھستے ختم ہو گئے۔ وہ پیادہ پا تپتی دھوپ میں چلتا پھرتا نظر آنے لگا۔

شجاع کے بال تو بڑھ ہی رہے تھے، اب اُس کی آواز بھی بڑھنا شروع ہو چکی تھی۔ اگر وہ باہر چبوترے پہ بیٹھا ہوتا تو اندر گھر میں اس کی خود کلامیاں سنی جا سکتی تھیں۔ اپنے تصور میں وہ تین لوگوں کو مخاطب کرتا اور چیخ چلا کر انہیں گالیاں دیتا تھا۔ ایک صابر نامی کوئی شخص تھا، جس کا کھوج نہیں لگایا جا سکا کہ کون تھا۔

دوسرا اعظم تھا، جو شاید اس کا چچا تھا جس نے والد کے انتقال کے بعد اُس کا حق مارا۔ تیسرے جنرل ضیاالحق تھے۔ میرا نہیں خیال جنرل ضیا اس کے لیے کبھی نظریاتی مسئلہ رہا ہو گا۔ وہ اپنی تباہ حالی کے ذمہ داروں میں سے حکومت کو بھی سمجھتا ہو گا اور جنرل ضیا اس کے حافظے پر نقش حکومت کی آخری علامت رہا ہو گا۔

شجاع نے ناشتے، ظہرانے اور عشائیے کے لیے کچھ گھر باندھے ہوئے تھے۔ شام کی چائے کے لیے بھی اس نے گھر مختص کیا ہوا تھا۔ ان تین چار گھروں کے علاوہ وہ کسی دوسرے گھر جاتا نہیں تھا اور اِن دو چار گھروں سے کھانا نہ ملتا تو احتجاج کرتا۔

ان گھروں میں سے کسی گھر پر کسی دن اگر کوئی نہ ہوتا تو باہر کہیں کسی ڈھیر سے کچھ اٹھا کے کھا لیتا۔ کھانے کے وقت وہ گھر کا دروازہ بجاتا اور ایک طرف کھڑا ہوجاتا۔ گھر سے کون کی آواز آتی تو شجاع مخصوص انداز میں کہتا، ’شجاع ٹائم!‘

شجاع ایک بار مقامی مسجد میں نماز پڑھنے آیا۔ امام تکبیر کہے تو شجاع بھی ساتھ اللہ اکبر کی صدا لگا دے۔ امام سورہ فاتحہ پڑھے تو شجاع بھی ساتھ ساتھ بلند آواز میں پڑھتا جائے۔ نماز کے بعد ہمارے ایک بھائی نے راہ چلتے ہوئے اس سے کہا، ’شجاع تم زور زور سے فاتحہ کیوں پڑھتے ہو؟‘

شجاع نے کہا، ’یہ بات تم نے کبھی پیش امام سے پوچھی وہ کیوں زور زور سے پڑھتا ہے؟ وہ پڑھے تو ٹھیک، ہم پڑھیں توغلط؟ واہ بھئی واہ یہ اچھا انصاف ہے تم لوگوں کا!‘

شجاع کو آخر عمر میں دمے کا شدید عارضہ لاحق ہو گیا۔ کھینچ کھینچ کے سانس لیتا تھا اور آواز تقریباً بیٹھ چکی تھی۔ اب وہ گھر کے باہر بیٹھتا تو اندر اس کی صلاواتیں سنائی نہیں دیتی تھیں۔ اب اس کی کھنچتی ہوئی سانسیں سنائی دیتی تھیں جو وہ بہت مشکل سے لیتا تھا۔

ایک شام چبوترے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ میں نے سوچا، شجاع سے اس کے عارضے کے متعلق بات کروں۔ شجاع کے ساتھ اُس کے انداز میں حال احوال کرنے کے بعد میں نے پوچھا، ’شجاع تمہاری آواز کو کیا ہو گیا ہے؟‘

لپک کے بولا، ’چائے میں لیموں ڈال کے پیو تمہیں بھی ہوجائے گا۔‘

شجاع عثمانیہ کالج کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ سامنے کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ ان کا بچہ ہنستا کھیلتا باہر نکلا تو ابا نے آواز دی، ’بیٹا، وہاں مت جانا پاگل کھا جائے گا۔‘

شجاع مسکرایا۔ باپ کو آواز دی، ’ادھر آئیو ذرا!‘

باپ آیا تو شجاع نے کہا، ’میں نے کبھی کسی کو پتھر مارا؟ نہیں۔ کبھی گالی دی کسی کو؟ نہیں۔ ڈاکہ ڈالا کبھی؟ نہیں۔ تو تجھے لگتا ہے میں پاگل ہوں؟ تو ہو گا پاگل، تیرا پورا خاندان ہوگا پاگل۔ چل نکل شاباش!‘

مئی 2017 کی بات ہے۔ مردان کا ایک بوڑھا باپ اپنے 18 سالہ بیٹے کو ذہنی معالج کے پاس لے کر جا رہا تھا۔ بیٹا دینی مدرسے کا طالب علم تھا۔ ذہنی طور پر معذوری تو بڑھ ہی رہی تھی، مرگی کے دورے بھی بیچارے کو بہت پڑتے تھے۔

معالج کے پاس جاتے ہوئے اس نے باپ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور الٹی سمت میں بھاگنے لگا۔ معذور بچہ آگے اور لاغر باپ اس کے پیچھے۔

پولیس اہلکار کو اس پر دہشت گردی کا گمان ہوا۔ اس نے آواز لگائی، لڑکے نے رفتار اور بھی بڑھا دی۔ باپ کی آنکھوں کے سامنے پولیس اہلکار نے چیمبر کھینچا اور دو گولیاں لڑکے کے بھیجے میں اتاردیں۔ اس لڑکے کی خون آلود تصویر کے گرد کرب کا ناقابلِ بیان ہالہ روح کو کچھ ایسا چیرتا ہے کہ جی جانتا ہے۔

اس معصوم روح کو خون میں رلتے ہوئے دیکھا تو وہ تھپڑ یاد آ گیا جو ایک پولیس اہلکار نے شجاع کو مارا تھا۔ شجاع نے اپنے طور پر ایک سکیورٹی آفیسر کا روپ دھارا اور ریڑھی والوں کو ایک طرف ہونے کے احکامات جاری کرنے لگا۔ شجاع اپنے تئیں ایک انسانی فریضہ انجام دے رہا تھا، مگر وہ کار سرکار میں مداخلت ثابت ہو رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موقعے پر موجود پولیس اہلکار جانتے بھی تھے کہ شجاع کو ذہنی طور پر کچھ عذر لاحق ہے۔ اس کے باوجود ایک پولیس اہلکار نے کچھ ایسا زناٹے دار تھپڑ شجاع کو رسید کیا کہ اس کے اوسان خطا ہوگئے۔

شجاع نے عمر بھر دھکے بہت کھائے تھے، گالیاں بھی بہت کھائی تھیں مگر تھپڑ کھانے کا تجربہ شاید آج اسے پہلی بار ہو رہا تھا۔ میں وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا جب تھپڑ کھا کر شجاع واپس کالج کی دیوار کی طرف گیا اور چپ چاپ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس کے ہونٹ مسکرانے کی کوشش کررہے تھے اور آنکھوں سے اس کے آنسو رواں تھے۔ میں اس بے بسی کو کیسے بیان کروں؟

آج جب صلاح الدین کی ادھڑی ہوئی لاش دیکھی تو مردان کا مجنوں یاد آ گیا۔ اے ٹی ایم والی ویڈیو دیکھی تو شجاع کا وہی جملہ یاد آ گیا، جس میں اس نے سامنے والے گھر کے مہمان سے پوچھا تھا، ’کیا میں نے پتھر مارے؟ کیا ڈاکہ ڈالا؟ کیا گالی دی؟‘

صلاح الدین کہیں سے بھی تو ایک ضرر رساں شخص نہیں لگ رہا تھا۔ کیمرے نے یہ دیکھا کہ صلاح الدین نے اے ٹی ایم مشین توڑی ہے۔ حضرتِ انسان نے لیکن یہ نہیں دیکھا مشین توڑ کر اس نے پیسے نہیں چرائے، صرف اپنا کارڈ نکالا ہے۔

کسی کو مشین توڑتا دیکھنے کے لیے آنکھ کافی ہے۔ پیسے نہ چراتے ہوئے دیکھنے کے لیے نگاہ چاہیے۔ کیمرے اور انسان میں آنکھ اور نگاہ کا ہی تو فرق ہے۔ کیا کیمرے کی طرح انسان کے ماتھے میں بھی فقط آنکھ ہی نصب ہے، ایک آنکھ جس میں احساس ہوتا ہے اور نہ پانی ہوتا ہے؟

اگر ہم سوچنا چاہیں تو اس بات پر بھی سوچ سکتے ہیں کہ صلاح الدین نے کیمرے کا منہ چڑانے کے بعد اور کارڈ نکالنے سے پہلے ایئر کنڈیشنر کا پنکھا اپنی جانب کیوں کیا؟ اس کیوں کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں مگر صلاح الدین کی یہ ادا دل میں خنجر ہو گئی ہے۔

اس کا ایک ایک انداز بتا رہا تھا وہ ہم سے بہت مختلف انسان ہے۔ صاف پتہ لگ رہا تھا وہ اپنے کیے پر بہت مطمئن ہے۔ مشین توڑنے پر اُس کا دل اس لیے بھی مطمئن تھا کہ مشین نے پہلے صلاح الدین کا دل توڑ دیا تھا۔

صلاح الدین سوچ رہا تھا کارڈ ڈالنے کے بعد دوچار نمبر پریس کرو تو یہ مشین لوگوں کو پیسے دیتی ہے۔ آج میں نے کارڈ ڈالا تو اس نے میرا کارڈ ہی ضبط کر لیا؟ واہ بھئی واہ یہ اچھا انصاف ہے تم لوگوں کا!

شجاع تھپڑ کھانے کے بعد چپ ہو گیا اور جواب میں مسکراہٹ دینے کی اپنی سی کوشش کی۔ صلاح الدین کا جسم جب چیرا جا رہا تھا تو اس نے کراہتے ہوئے ہر دم دعا دی۔

جسم کے سب سے نازک مقام پر لات پڑی تو اُس نے کہا، ’اللہ تمہاری بہن کو حج کرائے گا مجھے مت مارو۔ لیٹ جاؤ درویش لیٹ جاؤ، شرم سے ڈوب مرنے کا مقام آ گیا ہے۔‘

صلاح الدین اپنی بہن سے محبت کرتا تھا یا اگر اس کی بہن نہیں تھی تو پھر بہن کی حسرت اس کے دل میں شاید کہیں دبی ہوئی تھی۔ میں کُل وقتی صحافی ہوتا تو اس کی بہن کی کھوج لگانے کی ایک کوشش ضرور کرتا۔ پوچھتا، ’صلاح الدین محبت کا اظہار کیسے کرتا تھا؟‘

باپ کا کارڈ ضبط کرنے پر اُس نے آہنی مشین ادھیڑ کے رکھ دی، تمہیں گالی پڑنے پر تو آسمان و زمین کی طنابیں توڑ دیتا ہو گا؟ کیا اُس کو پاگل اسی لیے کہتے تھے کہ وہ معاشرے کی روایتوں سے کچھ ہٹا ہوا تھا؟ مار کھا کر بھی جس کے منہ سے بے ساختہ بہن یا ماں کی گالی نہیں نکلتی تھی، بلکہ بہن کی نسبت سے دعا دیتا تھا۔

ایک برازیلی لڑکے کو والدین نے 17 برس کی عمر میں پاگل خانے کے حوالے کر دیا۔ تین بار فرار ہونے کی کوشش کی اور تیسری بار کامیاب ہو گیا۔ دنیا کے بے مقصد چکر کاٹتا رہا۔ ہجوم سے بہت مختلف تھا، اس لیے وہ دھتکارا گیا۔ 40 برس کی عمر کو پہنچا تو دنیا نے اسے پاؤلو کویلو کے نام سے جاننا شروع کیا۔ اُس کی عمر بھر کی ایذا رسانیوں کا نچوڑ ’دی الکیمسٹ‘ کتاب ہے جس کی 15 کروڑ سے زائد کاپیاں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔

صلاح الدین کو اس کے والدین نے پاگل خانے میں نہیں ڈالا تھا۔ انہوں نے اُس کے ہاتھ پر نام اور پتہ کندا ہوا تھا کہ راہ بھٹکنے پر لوگ اسے گھر پہنچا سکیں، لیکن وہ تو گھر پر تھا کہ پاگل خانے کے سنتری اس کو اٹھا کر لے گئے۔ پاولو کویلو کی طرح وہ جان بچا کر بھاگ تو نہیں سکا، مگر گنتی کی جتنی سانسیں میسر تھیں اس میں صلاح الدین نے وہ نظم تخلیق کردی جس نے تشدد زدہ ریاست کو لاحق پون صدی کے سارے خون ریز المیوں کو سمیٹ کر رکھ دیا:

ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟
ماروگے تو نہیں؟
پکی بات ہے نا؟
لوگوں کو مارنا تم نے کہاں سے سیکھا؟

آخری مصرعے میں درد کی کوئی کمی نہیں، مگر بلوچستان سے وزیرستان تک اور وہاں سے کراچی تک، سیاست کے میدانوں سے لے کر عدل کے ایوانوں تک اور وہاں سے آسیب زدہ رستوں گلیوں تک درد کے ہزار رنگ پھیلے ہوئے ہیں۔ جس کی زندگی جس رنگ کی ماری ہوئی ہے وہ آخری مصرعے میں وہی رنگ بھرتا چلے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ