غزہ: چھ سالہ فلسطینی بچی جان سے گئی، اسرائیلی گولہ باری جاری

فلسطینی ہلال احمر نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ٹینکوں کی گولہ باری سے تباہ ہونے والی گاڑی میں پھنسی فلسطینی بچی کو بچانے آنے والے طبی عملے کو بھی قتل کر دیا۔

فلسطینی شہر غزہ میں ہوئے ایک حملے میں واحد زندہ بچ جانے اور حکام سے مدد مانگنے والی چھ سالہ فلسطینی بچی مردہ پائی گئی ہے۔

وہ طبی عملے کے ایک دو ارکان کے ساتھ جان سے گئی جو اسے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ہند رجب نامی یہ لڑکی اپنے گھر والوں، خالہ ، چچا اور تین کزنز کے ساتھ اپنی کار میں اسرائیلی ٹیکنوں کو پیچھے چھوڑ کر شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن ٹینکوں نے کار پر گولہ باری کر دی، جس سے ہند کے رشتہ دار جان سے گئے۔

چھوٹی بچی ابتدائی حملے میں زندہ بچ گئی اور مدد لینے کی کوشش میں ایمرجنسی آپریٹرز کو فون کیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہند کی کال اچانک کٹنے سے قبل فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

ہفتے کو فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے پیرامیڈکس اس علاقے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں ہند کے رشتہ دار مارے گئے تھے۔ اس سے قبل اس علاقے کو جنگی علاقہ ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔

یہاں انہیں ایک کالی کیا گاڑی ملی، جس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، اس کے دروازے گولیوں کے نشانات سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ وہ گاڑی تھی جس میں سوار ہو کر ہند اور اس کی فیملی نے شہر سے نکلنے کی کوشش کی۔

ایک پیرامیڈک نے بتایا کہ ہند کی باقیات اس کے اہل خانہ کی لاشوں میں ملی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ فائرنگ اور گولہ باری سے ماری گئی ہیں۔

کالی کیا واحد گاڑی نہیں تھی جو سڑک پر تباہ ہوئی ملی۔ پیرا میڈکس کو چند میٹر کی دوری پر ایک ایمبولینس کی باقیات بھی ملیں۔ ہلال احمر نے کہا کہ ہند کی مدد کی کال کے جواب میں ایک ایمبولینس بھیجی گئی تھی، لیکن وہ واپس نہیں آئی۔

پی آر سی ایس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ایمبولینس کو تباہ اور پیرا میڈکس کو جان سے قتل کیا۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’قابض اسرائیل نے بچی ہند کو بچانے کے لیے ایمبولینس کو موقع پر پہنچنے کی اجازت دینے کے متعلق پیشگی اطلاعات کے باوجود جان بوجھ کر ہلال احمر کے عملے کو نشانہ بنایا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہند کو بچانے کے لیے ایمبولینس کو جائے وقوع پر پہنچنے کی اجازت لینے کے لیے اس نے پہلے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ کیا۔ ان معاہدوں کا مبینہ طور پر احترام نہیں کیا گیا۔

پی آر سی ایس کے ترجمان نیبال فرسخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پیرا میڈکس اس جگہ کو دیکھ سکتے تھے جہاں ہند پھنسی ہوئی تھیں، لیکن وہاں مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ریسکیو ناممکن ہو گیا تھا۔

ہند کی والدہ بھی اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر وہ شخص جس نے میری اور میری بیٹی کی التجا کی آواز سنی، پھر بھی اسے نہیں بچایا، میں قیامت کے دن خدا کے سامنے ان سے سوال کروں گی۔

 ’نتن یاہو، بائیڈن اور وہ تمام لوگ جنہوں نے ہمارے خلاف، غزہ اور اس کے عوام کے خلاف تعاون کیا، میں ان کے خلاف دل کی گہرائیوں سے دعا کرتی ہوں۔‘

اسرائیل نے ہند، ان کے اہل خانہ یا پیرا میڈکس کی موت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دی انڈیپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

ماضی میں اسرائیل فلسطینیوں پر ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی نقل و حمل کے لیے ایمبولینسوں اور ہسپتالوں کو ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔

اس سے اسرائیلی فوج کو ان حملوں کا جواز پیش کرتی ہے جو عام طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قوانین کے تحت جنگی جرائم سمجھے جاتے ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا