پاکستان میں ’ایکس‘ تک رسائی بدستور متاثر، صارفین کی شکایات

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ایک ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ملک میں ایکس (سابق ٹوئٹر) دو تین دنوں سے کیوں کام نہیں کر رہا ہے تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آپ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔

پاکستان میں صارفین سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر 20 فروری 2024 کو تیسرے دن بھی رسائی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد گذشتہ کئی روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔

پاکستان میں سنیچر کی رات سے متاثر ہونے والی سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی سروس منگل کو بھی بحال نہ وہ سکی۔

ٹوئٹر انکارپوریشن کا جمعے کی رات کو کہنا تھا کہ ہزاروں صارفین کی جانب سے شکایات کی اطلاع کے بعد مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی سے منگل کو پارلیمنٹ کے باہر جب صحافیوں نے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایکس کو کس نے ایکس کیا؟ بہتر ہو گا کہ آپ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چیئرمین پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔‘

ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹکٹر کے عدادو شمار کے مطابق جمعے تک تقریباً 40 ہزار صارفین نے ٹوئٹر کے استعمال میں مسائل کا سامنا کرنے کی شکایات درج کرائیں۔

آخری بار ٹوئٹر کو اس طرح کی بندش کا سامنا اکتوبر 2020 میں کرنا پڑا تھا، جس پر کمپنی کی جانب سے وضاحت میں اس کی وجہ اندرونی نظام میں مسائل بتائی گئی تھی، تاہم اس وقت ٹوئٹر کی بندش کا یہ مسئلہ صرف پاکستان میں کو درپیش ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی آئی) کے ترجمان ملاہت عبید سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان میں ایکس(سابق ٹوئٹر) گذشتہ دو تین دنوں سے کیوں کام نہیں کر رہا ہے، تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آپ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔

انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس نے 17 فروری کو اس بات کی تصدیق کی کہ عام انتخابات میں مبینہ ووٹوں کی دھاندلی کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں پاکستان میں قومی سطح پر ایکس کو متاثر کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز کی پوسٹ میں پاکستان میں ٹوئٹر کو بند ہوئے 48 گھنٹوں سے زائد کا وقت گزر جانے کی تصدیو کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ حکام اس اقدام کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو عوام کے آزادی اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش سے ان صارفین کی مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے جو مواصلات اور معلومات کے لیے ان پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں تمام بڑی جماعتیں اپنا موقف اور اپنی پارٹی پالیسی سے متعلق معلومات لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹوئٹر کا ہی سہارا لیتی ہیں، اور اس پلیٹ فارم کے بند ہونے سے وہ رابطہ بھی منقتع ہو چکا ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اس مسئلے پر اب تک آواز نہیں اٹھائی۔

 8 فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات کے لیے سے پہلے اور بعد میں بھی پاکستانی صارفین کو انٹرنیٹ کی بندش کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر میں مسئلے کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

ان مسائل کے لیے کئی لوگ وی پی این کا سہارا بھی لیتے ہیں، وی پی این ایسی سروس ہے جس کی مدد سے صارفین اپنے ملک میں عائد انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کی پابندی کو بائی پاس کر سکتے ہیں، لیکن کئی صارفین ایسے بھی ہیں جنہیں وی پی این سروسز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل