بھٹو ریفرنس کا فیصلہ خوش آئند مگر ادھورا

جب 2011 میں صدر نے یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا تو میں اس قانونی ٹیم کا حصہ تھا جو صدارتی ریفرنس کو دیکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے بنائی تھی۔

اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو 23 فروری 1976 کی سٹاک ہوم پہنچنے پر تصویر۔ ذوالفقار علی بھٹو 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر اور 1973 سے 1977 تک وزیر اعظم رہے۔ وہ پاکستان کی ایک بڑی اور بااثر سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی تھے (پریسینس بلڈ / اے ایف پی)

بھٹو ریفرنس پر سپریم کورٹ کا خوش آئند فیصلہ نامکمل اور ادھورا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ کچھ سوالات نظر انداز کر دیے گئے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس پہلے سوال کے بھی دوسرے اور اہم ترین  حصے کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے 

فیصلہ اس حد تک خوش آئند ضرور ہے کہ سپریم کورٹ نے صدر پاکستان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا کئی سال بعد بالآخر جواب دے ہی دیا ہے۔ یہ جواب آتے آتے 13 سال، تین صدر اور نو چیف جسٹس گزر گئے۔ لیکن جو سوالات پوچھے گئے ان کے جواب ابھی تک تشنہ ہیں اور مختصر فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تشنگی تفصیلی فیصلے میں بھی دور ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

پہلا سوال یہ تھا کہ بھٹو کیس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آئین کے آرٹیکل چار، آٹھ، نو، 10 اے، 14 اور 15 میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ اور اگر پورا نہیں اترتا تو اس کے اثرات اور نتائج کیا ہوں گے؟

سپریم کورٹ نے جواب دیا کہ یہ آرٹیکل چار، نو اور 10 اے میں دیے گئے فیئر ٹرائل کے بنیادی انسانی حق کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ یہ اس سوال کے پہلے حصے کا جواب تھا۔ سوال آئین کے چھ آرٹیکلز کے بارے میں تھا کہ کیا یہ فیصلہ ان پر پورا اترتا ہے اور جواب میں آئین کے تین آرٹیکلز لکھے گئے کہ ان پر پورا نہیں اترتا۔

قانونی ماہرین کو اب اس نکتے پر غور کرنا ہو گا کہ باقی تین آرٹیکلز کا جواب میں ذکر نہ کرنا کیا تکرار اور طوالت سے اجتناب کی کوشش ہے، انہیں غیرضروری سمجھا گیا ہے یا اس کے کچھ قانونی نتائج اور اثرات بھی آ سکتے ہیں۔

اس میں اہم ترین نکتہ آرٹیکل آٹھ کے بارے میں خاموشی ہے۔ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے اور اس پر غور کیا جائے کہ سوال میں آرٹیکل آٹھ موجود ہے تو جواب میں آرٹیکل آٹھ کیوں موجود نہیں۔ مکرر عرض ہے کہ یہ معمولی چیز نہیں ہے یہ قابل توجہ معاملہ ہے۔

سوال کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ کیا اگر بھٹو کیس کا فیصلہ آئین کے ان تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تو اس کے اثرات اور نتائج کیا ہوں گے؟ اس سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے لکھا کہ کیونکہ نظرثانی کی درخواست تب ہی خارج ہو گئی تھی اس لیے یہ فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب قانون میں اس فیصلے کو منسوخ کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

سوال اب یہ ہے کہ اگر بھٹو کیس آئین میں دیے گئے فیئر ٹرائل کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تو کیا اس کے ’اثرات اور نتائج‘ بس یہی ہیں کہ اب اس فیصلے کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ فیصلہ حتمی حیثیت حاصل کر چکا ہے؟ قانون کے ایک طالب علم کے طور پر میرا جواب نفی میں ہے۔

جب 2011 میں صدر نے یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا تو میں اس قانونی ٹیم کا حصہ تھا جو صدارتی ریفرنس کو دیکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے بنائی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ بات تو اس وقت کے چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری نے ایک سماعت کے دوران کہی کہ اگر ہم یہ لکھ دیں کہ ’یہ ایک اچھا ٹرائل نہیں تھا‘ تو کیا یہ کافی جواب ہو گا؟

اس وقت بابر اعوان صاحب نے کہا کہ یہ کافی نہیں بلکہ آپ اس پر بھی رائے دیں کہ اس کے ’اثرات اور نتائج‘ کیا ہوں گے۔ جناب چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس سے بات بہت پھیل جائے گی۔‘ بابر اعوان صاحب نے درخواست کی کہ ’بات جہاں تک مرضی پھیل جائے، عدالت کا بنیادی فریضہ بات پھیلنے سے روکنا نہیں بلکہ انصاف کرنا ہے۔‘

اثرات اور نتائج والا نکتہ اتنا سادہ نہیں۔ نہ ہی اس کا تعلق محض اس بات سے ہے کہ یہ مقدمہ دوبارہ زیر سماعت آ سکتا ہے یا نہیں۔ اثرات اور نتائج کا تعلق صرف ملزم سے نہیں ہے۔ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔

مثال کے طور پر یہ کہ اگر بھٹو کیس میں فیئر ٹرائل کے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے تو کیوں نہیں ہوئے؟ کس نے بھٹو کو ان آئینی حقوق سے محروم کیا؟ بلکہ کس کس نے کیا؟ جنہوں نے ملزم کا آئینی حق چھین کر اسے جلاد کے حوالے کیا، قانون اور آئین کی روشنی میں ان کا مقام کیا ہے؟ اگر یہ سب کام دانستہ ہوا تو اس میں ملوث افراد قانون کے اعتبار سے کیا کہلائیں گے؟ کیا ان کے خلاف بعد از مرگ مقدمہ قائم ہو سکے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

نتائج اور اثرات کا یہ دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہو سکتا ہے تفصیلی فیصلے میں اس پر بات کی جائے لیکن اس کا امکان کم ہے۔ کیوں کہ عدالت نے یہ تو لکھا ہے کہ فیصلے میں موجود نقائص پر تفصیلی فیصلے میں تفصیل سے بات کرے گی لیکن عدالت نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فیئر ٹرائل سے محروم کرنے کے اثرات اور نتائج پر تفصیلی فیصلے میں مزید بات ہو گی یا نہیں۔

تیسرا سوال یہ تھا کہ ان شواہد کی روشنی میں کیا بھٹو کو دی گئی سزا کا کوئی جواز بنتا ہے یا یہ ایک دانستہ قتل تھا؟ عدالت نے اس کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے  لکھا کہ ایڈوائزری جورسڈکشن میں عدالت مقدمے کی شہادتوں کو دوبارہ نہیں پرکھ سکتی اور نہ ہی فیصلے کو ختم undo کر سکتی ہے۔

یہ معاملہ بھی پیچیدہ ہے کیو نکہ ایڈوائزری جورسڈکشن میں عدالت جو بھی رائے دے اس سے فیصلہ undo نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک رائے ہوتی ہے۔ اور اگر ایڈ وائزری جورسڈکشن میں عدالت کی رائے سے فیصلے پر اثر پڑتا ہو تو وہ تو اس رائے سے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک فیئر ٹرائل نہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے  کہ اگر پہلے سوال کے جواب میں  یہ کہہ دیا گیا ہے کہ بھٹو کیس میں فیئر ٹراائل نہیں ہوا تھا تو پھر تیسرے سوال کے جواب میں یہ کہہ دینے میں کیا تامل تھا کہ بھٹو کو سنائی گئی سزا بلاجواز تھی؟ جب ٹرائل ہی فیئر نہیں تھی تو کیا ایسے مقدمے میں سزائے موت دینا بلاجواز سزا نہیں ہے؟

 کیا یہ ممکن ہے کہ ٹرائل تو فیئر نہ ہو مگر سنائی گئی سزا پھر بھی غلط نہ کہی جائے؟ ٹرائل فیئر نہیں ہے تو سزا کا کیا جواز ہے؟ سزا کے بلاجواز ہونے کا تعین نہیں ہو سکتا تو ٹرائل فیئر نہ ہونے کا تعین کیسے ہو سکتا ہے؟

جس مقدمے میں پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں بھی آئین  کے آرٹیکل چار، نو اور 10 اے میں دی گئی بنیادی حقوق کی ضمانتیں پامال ہو چکی ہوں اس مقدمے میں دی گئی سزا کو بلاجواز قرار دینے کے لیے مزید کیا ثبوت درکار ہیں؟

جب فیئر ٹرائل ہی نہ ہوا ہو تو اس مقدمے میں انصاف کو کیا محض اس تکنیکی بنیاد پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ اس پر نظر ثانی پہلے ہی ہو چکی ہے اس لیے اب اس کیس کو اوپن نہیں کیا جا سکتا ؟ ایک کارروائی جو خود فیئر نہ ہو ، جوآئین میں دی گئی ضمانتوں کے برعکس ہو وہ قانونی حجت کیسے بن سکتی ہے؟

آخری اور توجہ طلب نکتہ چوتھے سوال کا جواب ہے۔ آیات اور احادیث کے حوالہ جات دے کر سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا شہید ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کا فیصلہ قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مذکور اسلامی قوانین کے تقاضے پورا کرتا ہے ؟ جواب آیا: ’اس سوال پر ہمیں کوئی معاونت نہیں دی گئی اس لیے اس پر رائے دینا مناسب نہیں ہو گا۔‘

چیف جسٹس نے متعدد مواقع پر وکلا سے کہا کہ آپ اسلامی قانون والے نکتے پر عدالت کی رہنمائی کیوں نہیں کرتے لیکن کامن لا کے ماہرین میں سے کوئی ایک ایسا نہ تھا جو اسلامی قانون پر بات کر سکتا۔ چنانچہ عدالت نے بھی ایک فقرے میں معاملہ نبٹا دیا۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے ملک کا صدر قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نکتے پر رائے مانگتا ہے اور عدالت جواب میں یہ کہہ دیتی ہے کہ مملکت خداداد میں اسلامی قانون پر اس کی معاونت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص عدالتی معاون نہیں بنایا جا سکتا تھا جسے اسلامی قوانین کا علم ہوتا؟ کیا یہ بھی ممکن نہ تھا کہ بھٹو ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کا کوئی عالم جج بھی شامل کر لیا جاتا؟

وکلا میں سے معاونت کرنے والا کوئی نہیں تھا تو کیا سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں بھی کوئی ایسا جج نہیں تھا جو صدر محترم کے سوال پر اپنی رائے دے سکتا؟ یاد رہے کہ ہم اس ملک کی بات کر رہے ہیں جس کے آئین کے مطابق ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے۔

ہتھیلی پر بہت سارے سوال رکھے ہیں مگر ہم خاک نشینوں کی معاونت کرنے والا کوئی نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ