’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی ہے؟‘

سیاست دان کا سب سے بڑا اثاثہ صبر و برداشت اور مستقل مزاجی ہوتی ہے، بڑی سے بڑی چوٹ کھا کے بھی انتقامی خواہش کو دبائے رکھنا مدبر قیادت کا خاصا ہوتا ہے۔

اخبار نویس کے ہاتھ میں تو صرف قلم ہوتا ہے، توپ و تفنگ نہیں، پھر میڈیا پر کڑا سنسر کیوں؟ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے مارشل لا نافذ کیا تو ساتھ ہی اخبارات پر سنسر لگ گیا۔

’افواہیں پھیلانا بھی جرم قرار دیا گیا۔ مارشل لا لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے ہاں آئی اور آتے ہی بولی، اب کیا ہوگا؟‘

’کس بات کا؟ میں نے وضاحت طلب کی۔ ’عینی بولی: ’اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر گفتگو کرنا بھی جرم ٹھہرا۔‘ ہاں، میں نے کہا: ’گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ سازی کے زمرے میں آ کر گردن زنی قرار دی جا سکتی ہے۔‘

عینی بڑے کرب سے بولی: ’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟‘ میں نے مارشل لا کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے بولی: ’ارے بھئی! روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو عجیب نعمت ہے۔‘

شہاب آگے چل کر لکھتے ہیں کہ قرۃ العین باغیانہ خیالات کی لڑکی نہیں تھیں اور نہ ان کے قلم کی روشنائی میں تخریب پسندی، فحاشی، تلخی اور بے راہ روی کی کالک تھی۔ ’میرے صنم خانے‘ کی مصنفہ زندگی کی چلبلاہٹوں، ہلکی پھلکی رنگینیوں، رعنائیوں، ثقافتی تصادموں، سماجی بوکھلاہٹوں اور دل و دماغ کی فسوں کاریوں میں کچھ حقیقی اور کچھ رومانوی رنگ بھرنے کی ملکہ تھی۔ لیکن سنسرشپ کے تخیل سے اسے شدید ذہنی جھٹکا لگا۔ اس جھٹکے کے ردعمل نے اس کے قلم کی باگ کا رخ ’آگ کا دریا‘ کی طرف موڑ دیا۔

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ’جب مجھے سیکرٹری اطلاعات بنایا گیا تو صدر سے لے کر وزیروں تک اور گورنروں سے لے کر چیدہ چیدہ ممبران اسمبلی تک چہار طرف سے فرمائشوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ کسی کو گلہ ہوتا اس کی تصویر نہیں چھپی، کوئی کہتا کہ فلاں تنقید غلط ہے اور حکومت کا وقار گرانے کے لیے اچھالی جا رہی ہے۔ عام مخلوق خدا کی طرح کچھ وزیر بیمار پڑے رہتے تھے ان کی بیماری کی خبر چپھتی تو وہ اسے شرانگیزی قرار دے کر اخبار نویس کو سبق سکھانے کا عہد کرتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج بھی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ایوبی دور میں جی رہے ہیں۔ میڈیا کے ’کڑاکے کڈنے‘ کے لیے میڈیا کورٹس بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جو اینکر یا اخبار نویس حکومت کی خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے، پیمرا کے ذریعے اس کی زبان بندی کر دی جاتی ہے یا پھر میڈیا مالکان کو کہہ کر اسے نوکری سے نکلوا دیا جاتا ہے۔

عمران خان حکومت میں آنے سے قبل آزاد میڈیا کے بڑے داعی تھے۔ خان صاحب! یہ میڈیا ہی تھا جس نے آپ کے نظریات کو سپورٹ کیا اور آپ اقتدار کی معراج تک پہنچے۔ جب آپ نے طویل دھرنا دیا تو میڈیا چوبیس چوبیس گھنٹے آپ کو لائیو کوریج دیتا تھا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے سب سے بڑے سیاسی مخالف میاں نواز شریف کی حکومت تھی۔ انھوں نے میڈیا پر پابندی نہیں لگائی۔ جب آپ اقتدار میں آئے تو اب میڈیا برا کیوں ہو گیا؟

وزیراعظم صاحب! برداشت کسی بھی معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ معاشرے میں جب برداشت کم ہوتی ہے تو مکالمہ کم ہو جاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔ اختلاف، دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا خاصہ ہے اور یہ فن جب تک کسی معاشرے میں رہتا ہے تو وہ ترقی کرتا ہے اور جب جب زبان بندی یا سوچ پر قدغنیں لگائی گئیں تو وہ معاشرہ انارکی کا شکار ہو جاتا ہے۔

عالی جاہ وزیراعظم صاحب! یکسانیت کوئی خوبی ہوتی تو قدرت خود اس کا انتظام کرتی۔ طبعی دنیا میں بھی اختلاف کے بے شمار مظاہر ہیں، مختلف رنگ، مختلف نسلیں، مختلف زبانیں اور مختلف تہذیبیں۔ یہ سب تنوع کی مظہر ہیں۔ خرابی معاشرے میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حکمران سمجھتے ہیں کہ میں خدا کا اوتار ہوں اور دوسرے میرے پاؤں کی پیدوار۔ جب تکوینی و طبیعی دنیا میں اختلاف ناگزیر ہے تو پھر فکری دنیا میں اختلاف پر پابندی کیوں؟ جس معاشرے میں اختلاف نہ ہو اس معاشرے میں ارتقا کا سارا عمل رک جاتا ہے۔

زندگی انسانی آرزوؤں کی مانند طویل نہیں ہوتی، اسے ایک دن ختم ہو جانا ہے اور اس کے ساتھ ہی دنیاوی عہدے اور شان و شوکت بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ سیاست دان کا سب سے بڑا اثاثہ صبر و برداشت اور مستقل مزاجی ہوتی ہے۔ بڑی سے بڑی چوٹ کھا کے بھی انتقامی خواہش کو دبائے رکھنا مدبر قیادت کا خاصا ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ